خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کے حملے، پنجاب اور راولپنڈی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ

ٹرانسپورٹ اڈوں، بسوں اور ویگنز کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے اور مسافروں کی سخت چیکنگ کی جا رہی ہے۔
شائع 28 فروری 2026 08:42am

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری جنگ کے دوران خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں پولیس تنصیبات پر حملوں کے واقعات پیش آئے ہیں جن میں دو پولیس اہلکار اور چھ شہری زخمی ہوگئے۔ جس کے بعد پنجاب اور راولپنڈی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ پر ہے۔

پولیس حکام کے مطابق حملہ آوروں نے تھانہ متنی اور تھانہ بڈھ بیر پشاور، بنوں کے علاقے کنگر، کاشو پل اور ضلع خیبر کی تکیہ پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے دستی بموں اور مختلف ہتھیاروں کا استعمال کیا تاہم بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے تمام حملوں کو پسپا کر دیا گیا۔

آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے واقعات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد نہتے عوام کو نشانہ بنا کر خوف پھیلانا چاہتے ہیں، لیکن سیکیورٹی ادارے پوری قوت کے ساتھ ان کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی اور امن و امان کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔

دوسری جانب پنجاب کے شہر جہلم میں حساس اداروں اور پولیس نے مشترکہ سرچ آپریشن کیا ہے۔ پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران چار افغان باشندوں سمیت 39 افراد کو حراست میں لیا گیا۔

افغان باشندوں کو پناہ دینے کے الزام میں تین افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں جبکہ گرفتار افغان شہریوں کو ہولڈنگ کیمپس منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشن علاقے میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا۔

ادھر محکمہ داخلہ پنجاب نے رمضان المبارک کے موقع پر سیکیورٹی گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں۔ اعلامیے کے مطابق صوبے بھر میں امن و امان کے قیام کے لیے جامع سیکیورٹی پلان پر عمل کیا جائے گا۔ حساس مساجد، مدارس اور امام بارگاہوں کو خصوصی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی اور عبادت گاہوں سمیت عوامی مقامات پر نفری میں اضافہ کیا جائے گا۔

راولپنڈی میں بھی موجودہ صورتحال کے پیش نظر سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ سی پی او سید خالد محمود ہمدانی کی ہدایات پر شہر بھر میں جوائنٹ اور اسپیشل پکٹس قائم کر دی گئی ہیں جبکہ بین الصوبائی شاہراہوں اور داخلی و خارجی راستوں پر سنیپ چیکنگ اور اسکریننگ جاری ہے۔

پولیس کے مطابق ٹرانسپورٹ اڈوں، بسوں اور ویگنز کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے اور مسافروں کی سخت چیکنگ کی جا رہی ہے۔ حساس مقامات کے گرد و نواح میں سرچ، سویپ اور کومبنگ آپریشن بھی جاری ہیں جبکہ ایلیٹ فورس، ڈولفن اسکواڈ اور دیگر پولیس موبائلز شہر بھر میں مسلسل گشت کر رہی ہیں۔