ایران پر حملہ: آیت اللہ خامنہ ای کہاں ہیں؟
ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ میزائل حملوں کے بعد ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے حوالے سے تشویش پائی جا رہی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا، تاہم وہ اس وقت تہران میں موجود نہیں تھے اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی محفوظ رہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اب تک ایرانی دارالحکومت میں وزارت انٹیلی جنس، وزارت دفاع، ایران کی ایٹمی توانائی کی تنظیم اور پارچین ملٹری کمپلیکس کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں 30 اہداف پر تقریباً 50 میزائل داغے گئے۔ دوسری جانب ایرانی مقامی میڈیا کے مطابق تہران کے علاوہ کرمانشاہ، لورستان، تبریز، اصفہان اور کرج میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ملی ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای جون 2025 میں کئے گئے امریکی حملوں کے بعد سے روپوش تھے اور اس دوران شاذ و نادر ہی منظرِ عام پر آئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بارہا اس بات کا شارہ دیا کہ آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
ہفتے کے روز تہران پر ہونے والے حملے اسی کوشش میں کیے گئے، تاہم، ایرانی حکام کے مطابق سپریم لیڈر ان حملوں میں محفوظ رہے اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے آیت اللہ خامنہ ای کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
جنگ کے حالات میں یا کسی بھی حملے کے پیشِ نظر ایران کی اعلیٰ قیادت بشمول سپریم لیڈر کو مختلف نامعلوم مقامات پر واقع زیرِ زمین بنکرز میں منتقل کردیا جاتا ہے، جہاں سے وہ عسکری امور کی نگرانی کرتے ہیں اور احکامات جاری کرتے ہیں۔
















