ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا پر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مسلسل خلاف ورزیوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کی کوئی ساکھ نہیں ہے۔ جتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان میں امریکا کے لیے ’بڑا شیطان‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی سنگین مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایران نے امریکا پر جنگی جرائم کے ارتکاب اور اہم شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تازہ امریکی حملوں میں پلوں، سرنگوں، شاہراہوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز تک جانے والے زمینی راستے متاثر ہوئے ہیں۔
امریکا نے ایران کے مختلف شہروں اور جزائر پر مسلسل ساتویں رات بھی حملے جاری رکھے اور ان حملوں میں خاص طور پر شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکا اب اپنے حملوں کو صرف ساحلی علاقوں تک محدود رکھنے کے بجائے ایران کے اندرونی حصوں میں بھی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ایران نے امریکا پر اہم شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے جس میں پُل، بجلی کا نظام اور صاف پانی کے پلانٹس وغیرہ شامل ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق صوبہ ہرمزگان کی واٹر اینڈ ویسٹ واٹر کمپنی کے مطابق امریکی فوج کے حالیہ حملوں میں جنوبی ایران کے شہر جاسک میں واقع بونجی ڈی سیلینیشن پلانٹ کا پمپنگ اسٹیشن اور بجلی کے ٹرانسفارمر تباہ ہوگیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق اس تباہی کے نتیجے میں اس پلاںٹ کے قریب واقع 20 دیہاتوں کو پانی کی فراہمی منقطع ہوگئی اور تقریباً 10 ہزار افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہو گئے ہیں۔
آرمینیا میں ایرانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر اس واٹر پلاںٹ کی تصاویر شیئر کین اور امریکی وزیرِ جنگ کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ ’بونجی ایران کا ایک چھوٹا سا ساحلی گاؤں ہے، کیا امریکا کا ہدف صاف پانی فراہم کرنے والے پمپ تھے؟‘
سفارت خانے نے بیان میں لکھا کہ ’ان پمپس سے مقامی آبادی کو پانی فراہم کیا جاتا تھا۔ اگر امریکا اس کی تباہی کو اپنی جیت سمجھتا ہے تو یہ اسکی مرضی ہے۔‘
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے مختلف حصوں میں مسلسل ساتویں شب ہونے والے امریکی حملوں میں جنوبی ایران کے صوبہ ہرمزگان میں سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ حکام کے مطابق حالیہ حملوں میں زیادہ تر سڑکوں، پلوں اور سرنگوں کے نیٹ ورک کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
جنوبی ایران میں اہم ترین ہائی وے پر واقع شاہدوست مرزئی روڈ ٹنل کو دونوں اطراف سے نشانہ بنا کر شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، جس کے بعد یہ شاہراہ ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔
گورنر ہرمزگان کے دفتر نے جمعہ کو بتایا تھا کہ صرف خامیر میں 6 پُل تباہ ہوچکے ہیں، جس کے باعث بندر عباس اور جزیرہ ’لار‘ کو ملانے والی مرکزی شاہراہ میں رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
بندر عباس سے سیرجان جانے والے راستے پر واقع رودخانہ شور پل کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اسی طرح میناب جنکشن سے رودان جانے والی شاہراہ پر مزید دو پل بھی امریکی حملوں کی زد میں آئے ہیں۔
ایرانی حکام نے کل رات کے حملوں کے بعد جنوبی صوبوں کے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق چابہار میں واقع بحری جہازوں کی رہنمائی اور سمندری امدادی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے والے میری ٹائم کنٹرول ٹاور کو ایک ہفتے کے دوران تیسری مرتبہ نشانہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے کویت اور بحرین میں قائم امریکی عسکری ٹھکانوں پر ڈرونز اور میزائلوں سے وسیع پیمانے پر حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں کویت میں متعدد اہم شہری اور تجارتی مقامات شدید متاثر ہوئے ہیں۔
کویت نے ہفتے کی صبح اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حملوں میں بجلی اور سمندری پانی کو صاف کرکے پینے کے قابل بنانے والے دو پلانٹس کو نقصان پہنچا ہے۔
بحرین میں بھی متعدد مرتبہ فضائی حملوں کے سائرن بجائے گئے، جبکہ اردن کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی فورس نے ایران کے داغے گئے 10 بیلسٹک میزائل راستے میں ہی تباہ کر دیے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایران اور خلیجی ممالک میں شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شہری آبادی کی بقا کے لیے ضروری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر اور سابق پاسدارانِ انقلاب کمانڈر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ امریکی حملے مزید جاری رہے تو ایران باقاعدہ جنگ کے مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔
ایران نے امریکا کے ساتھ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی اسلام آباد معاہدے پر عمل درآمد معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کے تسلسل اور معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد وہ اب اس مفاہمتی یادداشت کی کسی شق پر عمل کرنے کا پابند نہیں رہا۔
قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ اور مذاکراتی ٹیم کے رکن کاظم غریب آبادی نے کہا کہ امریکا نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنے تمام وعدے عملاً معطل کر دیے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ واشنگٹن نے مسلسل فوجی کارروائیوں کے ذریعے معاہدے کی روح کو ختم کر دیا، جس کے بعد ایران نے بھی اپنی تمام ذمہ داریاں معطل کر دی ہیں اور اس وقت اس کی اولین ترجیح ملک کا دفاع ہے۔
غریب آبادی نے کہا کہ ایران اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ امریکا پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا رہا، تاہم یہ پہلا موقع ہے جب تہران نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی کسی بھی شق پر مزید عمل درآمد نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں معاہدے پر عمل ممکن نہیں رہا۔
دوسری جانب پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ کئی ماہ کی پاکستانی ثالثی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان 14 نکاتی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، جس کے تحت مذاکرات چھ ماہ تک جاری رہنے تھے، تاہم واشنگٹن نے اس یادداشت کی من مانی تشریح کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے بعض حصوں پر کنٹرول حاصل کیا تاکہ امریکا وہ مقاصد حاصل کر سکے جو میدان جنگ میں حاصل نہیں کر سکا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی یہ تشریح مفاہمتی یادداشت کی صریح خلاف ورزی تھی، جسے ایران کسی صورت قبول نہیں کر سکتا تھا۔ ان کے بقول امریکا نے اب معاہدے اور بین الاقوامی اصولوں کے برخلاف جنگ شروع کر دی ہے اور ایرانی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے، جس پر عالمی برادری کو اس جارحانہ اور غیر ذمہ دارانہ اقدام کی سخت مذمت کرنی چاہیے۔
واضح رہے کہ امریکا نے ایران پر مسلسل ساتویں روز بھی حملے جاری رکھے، جب کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تازہ کارروائیوں کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حملوں میں ایران کے نگرانی مراکز، فوجی رسد کے انفراسٹرکچر، زیرِ زمین اسلحہ گوداموں اور بحری عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹ کام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن میں واقع امریکی فضائی اڈے ”موفق السلطي ایئربیس“ کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملے کے بعد اڈے سے دھویں کے گھنے بادل اٹھتے دیکھے گئے، جب کہ آگ کی شدت کے باعث دھواں دور دور تک دکھائی دے رہا تھا۔
کویتی ذرائع کے مطابق ایران کے حملوں کے نتیجے میں ایک فوجی تربیتی مرکز میں آگ لگ گئی، تاہم حکام نے فوری طور پر نقصان یا جانی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ کے مطابق امریکی حملوں کے نتیجے میں صوبہ ہرمزگان میں 116 ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز تباہ ہو گئے، جس کے باعث بندر عباس، حاجی آباد اور شمالی علاقوں میں موبائل فون، لینڈ لائن اور انٹرنیٹ سروسز شدید متاثر ہوئی ہیں۔
ایرانی ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں میں ضلع جاسک کے مغربی علاقے میں واقع بونجی ڈی سیلینیشن (سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے) پلانٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں علاقے میں پینے کے پانی کی فراہمی مکمل طور پر معطل ہو گئی۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق خوزستان کے نائب گورنر برائے سیکیورٹی ولی اللہ حیاتی نے بتایا کہ گزشتہ دس روز کے دوران امریکا نے صوبے کے 95 مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں 12 اضلاع شامل ہیں۔
ان کے مطابق ان حملوں میں کم از کم آٹھ شہری شہید ہوئے، جب کہ ایران کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ 6 جولائی سے اب تک امریکی حملوں میں کم از کم 50 افراد شہید اور 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں قائم امریکی عسکری ٹھکانوں پر ڈرونز اور میزائلوں سے وسیع پیمانے پر حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں کویت میں متعدد اہم شہری اور تجارتی مقامات شدید متاثر ہوئے ہیں۔
کویت کی فائر فورس نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ آج صبح ہونے والے ایرانی حملوں کے بعد دو مقامات پر لگی آگ بجھانے کے دوران ان کے متعدد فائر فائٹرز اور ایک عام ورکر زخمی ہو گئے ہیں۔
فائر فورس کا کہنا تھا کہ پہلے واقعے کے نتیجے میں، آگ بجھانے کے آپریشن کے دوران، فائر فائٹرز اور کارکنوں میں سے کچھ افراد زخمی ہوئے، جس کے بعد اس جگہ کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیا اور انہیں ضروری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس عسکری لہر میں کویت کا تیل کا شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ کی سرکاری نیوز ایجنسی ’کونا‘ کے مطابق کویت پٹرولیم کارپوریشن نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تیل کے شعبے میں ایک انتہائی اہم اور فعال سائٹ کو ایران کے پے در پے وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد لوگ زخمی ہوئے ہیں اور بڑے پیمانے پر مادی نقصان پہنچا ہے۔
کارپوریشن نے مزید بتایا کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی اور متاثرہ جگہ کو خالی کرا لیا گیا ہے، جبکہ اس حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریاست کے دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔
اس کے ساتھ ہی کویت کی وزارتِ بجلی، پانی اور قابلِ تجدید توانائی نے بتایا کہ ایرانی حملوں کے تازہ دور کے بعد بجلی اور پانی صاف کرنے والے ایک بڑے پلانٹ کے ایک حصے میں آگ لگ گئی۔
وزارت کا کہنا تھا کہ اس حادثے کے فوراً بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر عسکری آپریشنل اقدامات کرنا پڑے، جن کے تحت پلانٹ اور اس کے ملازمین کی حفاظت کو برقرار رکھنے اور بجلی کے پورے نیٹ ورک کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کئی پیداواری یونٹس کو منقطع کرنا پڑا۔
وزارت نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ واقعے کے فوراً بعد تمام ہنگامی پلان فعال کر دیے گئے تھے تاکہ بجلی اور پانی کی سپلائی میں کوئی بڑا خلل نہ آئے۔
دوسری طرف، ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بڑے عسکری دعوے کیے ہیں۔
ایرانی فورسز کا کہنا ہے کہ ان کی بحری افواج نے کویت کی الاحمدی بندرگاہ پر امریکی بیڑے کے ایندھن فراہم کرنے والے گھاٹ کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ بحرین میں قائم شیخ عیسیٰ ایئربیس پر امریکی جنگی طیاروں کے جمع ہونے کے مرکز پر ڈرون اور میزائل داغے گئے ہیں۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق، ایران نے بحرین میں قائم امریکی انٹیلی جنس ڈیٹا سینٹر، جسے ’بیٹل کو‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، اسے بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ کویت میں امریکی سگنلز اور ٹیلی کمیونیکیشن سینٹر کو بھی ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔
ایرانی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی تکبر کے جرائم کے جواب میں انہوں نے بحرین میں ایئربیس کے ہوائی جہاز کے ہینگر، پارکنگ لاٹ اور ایندھن کے ٹینکوں کو نشانہ بنایا ہے کیونکہ امریکا اس بیس کو علاقائی اہداف، خاص طور پر ہمارے ملک کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہا تھا۔
اس کے ساتھ ہی پاسدارانِ انقلاب نے ان تمام ممالک کو سخت وارننگ دی ہے جو اپنے ہاں امریکی عسکری افواج کو پناہ دیے ہوئے ہیں۔
ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے ممالک اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنے سول ڈیفنس یونٹس کو فوری فعال کریں اور شہریوں کو ممکنہ فوجی اہداف سے دور لے جائیں، کیونکہ ان کی سرزمین کو ایران کے خلاف جارحیت کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
ایران کی زمینی افواج نے کویت میں قائم کیمپ عارفجان میں امریکی فوجی لاجسٹکس ہب کو بھی نشانہ بنا کر وہاں جانی نقصان کا دعویٰ کیا ہے۔
اس شدید ترین بمباری کے باعث سفری شعبہ بری طرح مفلوج ہو گیا ہے اور کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طیاروں کے اترنے اور اڑان بھرنے کا عمل عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
کویت کی قومی ایئرلائن کویت ائیرویز نے مسافروں کو آگاہ کیا ہے کہ فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے زیادہ تر پروازوں کے اوقات تبدیل کیے جا رہے ہیں۔
فضائی حدود کی یہ بندش اس سے قبل فروری سے اپریل کے درمیان دیکھی گئی کشیدگی کی یاد تازہ کرتی ہے، جب پورے خلیج کی فضائی حدود بند ہونے سے لاکھوں مسافروں کے لیے افراتفری پیدا ہو گئی تھی اور کچھ مسافر تو ہفتوں تک خطے میں پھنس کر رہ گئے تھے کیونکہ کوئی متبادل پرواز دستیاب نہیں تھی۔
موجودہ صورتحال انتہائی تیزی سے بدل رہی ہے لیکن خلیجی ممالک اس وقت کثیر جہتی حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ وہ ایک طرف تو اپنے شہریوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے محفوظ رکھنے کی یقین دہانیاں کرا رہے ہیں کیونکہ زیادہ تر میزائل فضا میں ہی تباہ کیے جا رہے ہیں، اور دوسری طرف وہ عوام کو صرف سرکاری ذرائع سے معلومات لینے کا کہہ رہے ہیں تاکہ افواہوں سے بچا جا سکے۔
یہ ممالک ایک طرف ایران کے ان میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کر رہے ہیں اور دوسری طرف سفارت کاری اور بات چیت کی اپیل بھی کر رہے ہیں، مگر موجودہ حالات میں سفارت کاری کا کام انتہائی مشکل ہو چکا ہے کیونکہ امریکا یا ایران میں سے کوئی بھی فی الحال پیچھے ہٹنے کو تیار نظر نہیں آتا۔
اس دوران اردن کی مسلح افواج نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے چار ایرانی ڈرونز کو کامیابی سے مار گرایا ہے، اور اس کارروائی میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف جاری عسکری مہم کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے کے لیے انتہائی اہم اور بڑے منصوبوں پر غور کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایک اہم میٹنگ کی، جہاں انہوں نے کئی نئے فوجی منصوبوں پر بریفنگ لی۔ اس بریفنگ کے بعد اب وہ آبنائے ہرمز کے گرد جاری موجودہ حملوں سے ہٹ کر، ایران کے اندرونی حصوں میں زیادہ بڑے پیمانے پر بمباری کرنے کا سوچ رہے ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا خطے میں ممکنہ شدید لڑائی کی تیاریوں کے سلسلے میں اسرائیل کو درجنوں ایسے طیارے بھیج رہا ہے جو فضا میں ہی دوسرے طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایگزیوس نے تین امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن نے اسرائیل کو ایندھن بھرنے والے مزید طیارے بھیجنے کے فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔
جوہری تنصیبات کے حوالے سے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ غور آپشنز میں سے ایک یہ ہے کہ ایران کے جوہری مراکز پر نئے حملے کیے جائیں تاکہ وہاں موجود یورینیم کے ذخائر کو زمین میں مزید گہرائی میں دفن کر دیا جائے۔
اس کارروائی کا مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں ایران کے لیے ان ذخائر تک پہنچنے یا انہیں استعمال کرنے کے تمام امکانات کو ختم کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ امریکی انتظامیہ ایران کے اندر اہداف کی فہرست کو بھی بڑھا رہی ہے، تاہم ان نئے مقامات کی نوعیت یا کسی حتمی فیصلے کے وقت کو ابھی خفیہ رکھا گیا ہے۔
اگرچہ امریکی اور اسرائیلی حکام کی رپورٹس سے ان منصوبوں کی تصدیق ہوتی ہے، لیکن وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ دفاع یا اسرائیل کی جانب سے اب تک اس پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا اور فوجی آپشنز پر غور کا مطلب یہ نہیں کہ اس پر عمل کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔
دوسری جانب، اسرائیل کو توقع ہے کہ اگلے ہفتے کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان اس عسکری محاذ آرائی میں مزید تیزی آئے گی۔
اسرائیلی میڈیا خصوصاً ’چینل 12‘ کے مطابق، واشنگٹن اب ایران کے بجلی گھروں اور توانائی پیدا کرنے والے مراکز کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہا ہے، جنہیں وہ ایرانی بنیادی ڈھانچے کی سب سے کمزور کڑی سمجھتا ہے۔
یروشلم میں ہونے والے سیکیورٹی اجلاسوں کے بعد ایک اسرائیلی عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر صورتحال کی سنگینی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم محاذ آرائی میں اضافے کے امکان کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور ہم ہر اس منظر نامے کے لیے تیار ہیں جس کے اثرات اسرائیل پر پڑ سکتے ہیں“۔
اس شدید عسکری کشیدگی کے درمیان خطے میں امن کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، مغربی سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ قطر نے امریکا اور ایران کو ایک نئی پیشکش کی ہے تاکہ مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔ تہران اس قطری پیشکش کو مثبت نظر سے دیکھ رہا ہے کیونکہ اس کا خیال ہے کہ یہ اس کے کچھ مطالبات کو پورا کرتی ہے، اور اسی وجہ سے ایران نے فی الحال قطر کی جانب اپنے حملے روک دیے ہیں۔
یہ تمام سفارتی اور عسکری تبدیلیاں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکا نے مسلسل ساتویں رات بھی ایران کے اندر عسکری ٹھکانوں پر بمباری کی ہے، اور واشنگٹن کا موقف ہے کہ ان حملوں کا مقصد صرف ایران کی جنگی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔
امریکی فورسز نے مسلسل ساتویں رات بھی ایران کے متعدد فوجی اور مواصلاتی ٹھکانوں پر شدید بمباری کی ہے۔ جس کے جواب میں ایران نے کویت اور سعوی عرب میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تازہ ترین امریکی حملوں میں ایران کے جنوبی شہر اہواز، وسطی شہر یزد اور تزویراتی لحاظ سے اہم خارگ جزیرے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
وسطی شہر یزد میں امریکی میزائل گرنے کے بعد پانچ زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق صوبہ ہرمزگان کے ساحلی شہر جاسک میں امریکی میزائلوں نے بجلی کی تنصیبات اور پانی صاف کرنے والے پمپوں کو نشانہ بنایا ہے۔
صوبہ ہرمزگان کے ڈپٹی گورنر نے حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ امریکی راکٹوں نے جاسک کاؤنٹی کے ساحلی گاؤں بونجی کی بندرگاہ پر لگے پانی کے پمپوں کو تباہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے علاقے کے کئی دیہاتوں کو پینے کے پانی کی سپلائی مکمل طور پر منقطع ہو گئی ہے۔
ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے بندر عباس سے رودان جانے والی اہم ترین شاہراہ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دو بڑے پلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس اہم سفری اور تجارتی راستے پر ہونے والے امریکی حملے کے نتیجے میں متعدد ایرانی شہری جاں بحق اور کئی دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ ایران کے صوبہ لورستان کے شہر خرم آباد میں بھی شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بارے میں ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں سے داغے گئے میزائلوں کے گرنے کی وجہ سے ہوئے ہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق امریکی فوج نے خارگ جزیرے کے قریب کھڑے ایک خالی ایرانی آئل ٹینکر ’بیلما این آئی 22‘ پر دو دنوں میں دوسری بار حملہ کیا ہے، اس ٹینکر کو دو روز قبل بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایران پر کارروائیوں کا نیا دور امریکی وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے شروع کیا گیا جس میں لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور جنگی بحری جہازوں کا استعمال کیا گیا۔
امریکی فوج کے مطابق ان حملوں کا بنیادی مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
امریکی سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی مکمل بحری ناکہ بندی مہم کے دوران گزشتہ تین دنوں میں چار تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کرایا گیا جبکہ ایک مشکوک جہاز کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق، اس وقت خطے میں پچاس ہزار سے زائد امریکی فوجی ہائی الرٹ ہیں۔
امریکا کے ان حملوں کے جواب میں ایران نے بھی انتہائی جارحانہ ردعمل کا اظہار کیا ہے اور خلیجی خطے میں موجود امریکی اتحادیوں پر حملے کیے ہیں۔
ایرانی بحریہ نے بحرِ ہند کے شمالی حصے میں موجود ایک امریکی جنگی جہاز پر زمین سے سمندر میں مار کرنے والا کروز میزائل داغ دیا، جس کے بعد امریکی جہاز کو پیچھے ہٹنا پڑا۔
ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ خطے میں امریکی افواج کو نشانہ بنانے کی مہم کے دوران ان کے میزائلوں نے اردن میں موجود امریکی لڑاکا طیاروں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔
دوسری طرف اردن کی فوج نے کہا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے ہفتے کی صبح ملکی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے دس ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا۔
اردن کی فوج نے واضح کیا کہ یہ کارروائی مملکت کی خودمختاری کی حفاظت اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی تھی، اور ان میزائلوں کے گرنے سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، جبکہ رائل انجینئرز کی ٹیمیں ملبے کو ہٹانے کے کام میں مصروف ہیں۔
اس کے ساتھ ہی ایران نے کویت میں موجود امریکی فوجی کیمپوں اور تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
کویتی فوج کے مطابق ایران نے اپنے حملوں میں شہری تنصیبات خصوصاً بجلی بنانے اور پانی صاف کرنے والے ایک بڑے اسٹیشن کو نشانہ بنایا جس سے بجلی پیدا کرنے والے کئی یونٹس کو نقصان پہنچا اور وہاں آگ لگ گئی۔
ان ڈرون اور میزائل حملوں میں کویتی فوج کے کچھ اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم کویتی فوج کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے فضا میں ہی ایران کے کئی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ بحرین میں بھی امریکی ڈرون ڈپو کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔
ان بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد ایرانی سپریم لیڈر کے سینئر مشیر اور پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی نے امریکا کو کھلی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی حملے اگلے دو روز تک اسی طرح جاری رہے تو ایران اپنے دفاع سے نکل کر مکمل طور پر انتہائی جارحانہ کارروائیوں کے مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔
انہوں نے سرکاری ٹیلی ویژن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ”امریکی فوج اب میزائلوں اور ڈرون حملوں کی پے در پے لہروں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔“
محسن رضائی نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ ہونے والا امن معاہدہ یا مفاہمتی یادداشت اب عملاً ختم ہو چکی ہے کیونکہ امریکا نے لبنان، آبنائے ہرمز اور ایرانی اثاثوں کی بحالی سے متعلق اپنے کسی بھی وعدے کو پورا نہیں کیا۔
انہوں نے امریکا پر منافقت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف جنگ کی ڈبل پالیسی اپنا رکھی ہے اور اس نے عارضی جنگ بندی کے وقت کو صرف ایران کی ناکہ بندی مکمل کرنے کے لیے استعمال کیا۔
خطے میں سویلین انفرا اسٹرکچر یعنی عام شہریوں کے استعمال کے بنیادی ڈھانچے، جیسے پلوں اور بجلی گھروں پر ہونے والے ان حملوں پر اقوامِ متحدہ نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”سیکرٹری جنرل ایران اور پورے خطے میں سویلین انفراسٹرکچر پر ہونے والے حملوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہرے طور پر فکرمند ہیں۔“
اس شدید لڑائی اور کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک چار فیصد سے زائد کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر نومبر میں ہونے والے کانگریس کے انتخابات سے قبل اندرونی طور پر سیاسی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
سعودی عرب کے محکمۂ شہری دفاع نے بھی احتیاط کے طور پر الخرج اور ینبع کے علاقوں میں ہنگامی الرٹ جاری کیا تھا جسے بعد میں ہٹا لیا گیا، تاہم اب تک سعودی عرب میں کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب صرف ایران، امریکا یا اسرائیل تک محدود نہیں رہی، بل کہ اس کے اثرات دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں تک پہنچنے لگے ہیں۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب بھی غیر محفوظ ہو گیا تو عالمی تجارت، تیل کی ترسیل، بحری جہاز رانی اور توانائی کی منڈیاں شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہیں۔
دنیا کی معیشت کا ایک بڑا حصہ چند اہم بحری راستوں پر انحصار کرتا ہے، جن میں آبنائے ہرمز اور باب المندب کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ دونوں آبی گزرگاہیں مشرق وسطیٰ سے دنیا بھر تک خام تیل، قدرتی گیس اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کا بنیادی ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ان علاقوں میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہتے بل کہ عالمی معیشت بھی اس سے متاثر ہوتی ہے۔
باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی ایک تنگ مگر انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے۔ یہی راستہ نہر سویز کے ذریعے یورپ، ایشیا اور افریقا کے درمیان بحری تجارت کو ممکن بناتا ہے۔ سعودی عرب کی تیل برآمدات سمیت دنیا کے بڑی تجارتی مال بردار جہاز بھی اسی راستے سے گزرتی ہیں۔ اگر اس گزرگاہ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو عالمی سپلائی چین فوری طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔
جغرافیائی اعتبار سے باب المندب مشرق میں یمن اور مغرب میں افریقی ممالک جبوتی اور اریٹیریا کے درمیان واقع ہے۔ یہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحیرہ عرب سے ملاتا ہے، جب کہ اسی راستے سے جہاز نہر سویز کے ذریعے بحیرہ روم اور یورپ تک پہنچتے ہیں۔ اسی محل وقوع کے باعث باب المندب مشرق وسطیٰ، افریقا اور یورپ کے درمیان سمندری تجارت کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے سمندری راستے سے منتقل ہونے والے عالمی خام تیل کا تقریباً ایک تہائی، مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا لگ بھگ پانچواں حصہ اور عالمی تجارت کا تقریباً 20 فی صد گزرتا ہے۔ سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور ایران اپنی تیل و گیس کی بڑی برآمدات اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچاتے ہیں۔
باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی اہم آبی گزرگاہ ہے، جہاں سے عالمی بحری تجارت کا تقریباً 10 سے 12 فی صد حصہ گزرتا ہے۔ اس راستے سے خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات، خوراک، صنعتی خام مال، کنٹینرز اور دیگر تجارتی سامان نہر سویز کے ذریعے یورپ، ایشیا اور افریقا منتقل کیا جاتا ہے، اس لیے اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی چین اور توانائی کی قیمتوں کو فوری متاثر کر سکتی ہے۔
’رائٹرز‘ کے مطابق ایران نے پہلے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر کر کے اپنی اہم دفاعی طاقت کا مظاہرہ کیا، جب کہ اب ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ تہران اپنے یمنی اتحادی حوثیوں کے ذریعے باب المندب میں بھی دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ اسی خدشے نے عالمی منڈیوں اور شپنگ کمپنیوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
اگرچہ آبنائے ہرمز اور باب المندب ایک دوسرے سے مختلف مقامات پر واقع ہیں، تاہم عالمی توانائی کی ترسیل میں دونوں کی اہمیت تقریباً یکساں سمجھی جاتی ہے۔ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو بحیرہ عمان سے ملاتی ہے، جہاں سے دنیا کے سمندری راستے سے منتقل ہونے والے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے، جب کہ باب المندب بحیرہ احمر کے ذریعے نہر سویز تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ اسی لیے ماہرین دونوں گزرگاہوں کو عالمی معیشت کی شہ رگ قرار دیتے ہیں۔
اگر دونوں راستے ایک ہی وقت میں متاثر ہوئے تو دنیا کو ایسے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی مثال گزشتہ کئی دہائیوں میں نہیں ملتی۔ ایسی صورت میں نہ صرف خام تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوگی بل کہ خوراک، صنعتی خام مال اور روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا کی سپلائی بھی سست پڑ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ 14 جولائی کو ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر تہران مذاکرات پر آمادہ نہ ہوا تو امریکا اگلے مرحلے میں اس کے بجلی گھروں، پلوں اور بعد ازاں توانائی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران پر فوجی دباؤ اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک وہ امریکا کی شرائط کے مطابق مذاکرات کی میز پر واپس نہیں آتا۔
دوسری جانب ایران نے امریکی صدر کی دھمکی کے جواب میں اپنے یمنی اتحادی حوثیوں تک پیغام پہنچا دیا کہ اگر امریکا نے ایران کی توانائی تنصیبات یا بجلی گھروں کو نشانہ بنایا تو باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ بند کرنے سمیت مختلف جوابی آپشنز پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ تہران نے حوثیوں کو ممکنہ ردعمل کے لیے تیار رہنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
’رائٹرز‘ کے مطابق ایران سے قریبی تعلق رکھنے والے یمن کے حوثی باغی پہلے بھی یہ ثابت کر چکے ہیں کہ وہ باب المندب کے ذریعے عالمی تجارت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد حوثیوں نے بحیرہ احمر میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ فلسطینیوں سے اظہارِ یک جہتی کے لیے اسرائیل سے منسلک یا اس کی حمایت کرنے والے جہازوں پر حملے کر رہے ہیں۔
ان حملوں کے باعث دنیا کی بڑی شپنگ کمپنیوں نے بحیرہ احمر اور نہر سویز کا راستہ استعمال کرنا محدود کر دیا تھا اور جہاز جنوبی افریقا کے گرد طویل سمندری راستہ اختیار کرنے لگے تھے۔ اس تبدیلی سے نہ صرف سامان کی ترسیل میں کئی دن کی تاخیر ہوئی بل کہ مال برداری کے اخراجات بھی نمایاں طور پر بڑھ گئے تھے۔
صورتِ حال اس قدر سنگین ہوئی کہ امریکا اور برطانیہ نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے، جب کہ بین الاقوامی بحری اتحاد نے تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے خصوصی مشن بھی تشکیل دیا تھا۔
حالیہ دنوں میں ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ اور حوثی قیادت کے بعض بیانات نے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ حوثی رہنما محمد الفرح نے خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب نے یمن پر حملے جاری رکھے تو باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں کو ایک مشترکہ عملی حکمت عملی کے تحت بند کیا جا سکتا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایسی صورت میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے آبنائے ہرمز دنیا پر دباؤ ڈالنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، تاہم باب المندب اس کا دوسرا اہم کارڈ ثابت ہو سکتا ہے۔ لندن کے کنگز کالج سے وابستہ سیکیورٹی امور کے ماہر اینڈریاس کریگ نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ اگر امریکا نے ایران کے حساس فوجی یا بنیادی ڈھانچے پر حملے مزید بڑھائے تو تہران اپنے حوثی اتحادیوں کے ذریعے باب المندب میں کشیدگی پیدا کر کے عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق متعدد تجزیہ کار موجودہ صورتِ حال کو براہ راست جنگ کے بجائے بتدریج بڑھتی ہوئی کشیدگی قرار دیتے ہیں، جہاں ہر فریق دوسرے پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ تنازع خلیج فارس سے نکل کر بحیرہ احمر تک پھیل گیا تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے، بل کہ دنیا بھر کی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سپلائی چین کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
سعودی عرب میں قائم گلف ریسرچ سینٹر کے سربراہ عبدالعزیز نے ’رائٹرز‘ سے گفتگو میں کہا کہ حوثیوں کے پاس باب المندب میں جہاز رانی متاثر کرنے کی صلاحیت ضرور موجود ہے، تاہم وہ تہران کی واضح ہدایت کے بغیر بڑے پیمانے پر کارروائی کرنے سے گریز کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر حوثیوں نے عالمی جہاز رانی کو براہ راست نشانہ بنایا تو امریکا اور اس کے اتحادی ایک مرتبہ پھر ان کے خلاف وسیع فوجی کارروائی کر سکتے ہیں۔
موجودہ کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب صرف دو آبی گزرگاہیں نہیں بل کہ عالمی معیشت کی وہ شہ رگیں ہیں جن پر دنیا کی توانائی، تجارت اور سپلائی چین کا بڑا انحصار ہے۔ اگر ان میں سے کسی ایک میں بھی مستقل رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا محسوس کرتی ہے، اور اگر دونوں راستے بیک وقت متاثر ہوئے تو عالمی معیشت کو کئی دہائیوں کے بدترین بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایران نے مبینہ طور پر یمن کے حوثی باغیوں کو پیغام پہنچایا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو وہ تیل کی ترسیل کے اہم راستے باب المندب کو بند کرنے کے لیے تیار رہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بحیرۂ احمر کے راستے تیل کی ترسیل متاثر کرنے کے لیے تیار رہنے کا پیغام دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ ایرانی قیادت نے اس معاملے پر تفصیلی غور و فکر کے بعد حال ہی میں حوثیوں کو اس فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے کی دھمکی دی ہے۔
گزشتہ دنوں فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران اگلے ہفتے تک دوبارہ مذاکرات اور نئے معاہدے پر رضامند نہ ہوا تو ہم ان کے تمام پاور پلانٹس اور پلوں کو تباہ کردیں گے۔
دوسری جانب رائٹرز نے حوثی گروپ کے قریب سمجھے جانے والے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے داخلی راستے باب المندب کے قریب کارروائیوں کی تیاری مکمل کر لی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے یمن کے پہاڑی علاقوں، الحدیدہ بندرگاہ اور خلیجِ عدن کے قریب میزائل اور ڈرونز تعینات کر دیے ہیں اور کارروائی کے حکم کے انتظار میں ہیں۔
باب المندب دنیا کی اہم ترین اور اسٹریٹجک بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ یہ بحری گزرگاہ اس لیے بھی اہم سمجھی جاتی ہے کہ کیوں کہ بحر ہند سے آنے والے تمام بحری جہاز اسی راستے سے گزر کر بحیرہ احمر اور پھر وہاں سے نہرِ سویز کے ذریعے یورپ اور بحیرہ روم تک پہنچتے ہیں۔
باب المندب کے ایک طرف یمن واقع ہے جب کہ دوسری جانب افریقی ممالک جبوتی اور اریٹیریا موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بحیرۂ احمر اور باب المندب میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ کیوں کہ بحیرۂ احمر میں حوثیوں کے حملوں کی صورت میں مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل کے دو اہم راستے بیک وقت متاثر ہو سکتے ہیں۔
اس صورت حال میں آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں راستوں پر دباؤ عالمی توانائی منڈیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حوثیوں کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ باب المندب سے متعلق کسی بھی کارروائی کے فیصلے میں مرکزی کردار یمن میں موجود ایرانی پاسداران انقلاب کے نمائندوں کا ہوگا۔
گزشتہ چند روز کے دوران حوثی گروپ کی جانب سے یمنی حکومت کی جانب سے عدن ایئرپورٹ پر حملوں کے جواب میں سعودی عرب پر بھی میزائیل حملے کیے گئے ہیں، جس کے باعث خطے میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
رائٹرز نے سعودی ذرائع کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ریاض ایران اور حوثیوں کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور اسے معلوم ہے کہ یمنی گروپ بحیرۂ احمر کے معاملے پر ایران کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔
یاد رہے کہ ایران حوثیوں کو خطے میں اپنے مزاحمتی محور کا حصہ سمجھتا ہے، جس میں لبنان کی حزب اللہ اور عراق کے بعض مسلح گروہ بھی شامل ہیں تاہم امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے خطے میں شروع ہونے والی جنگ میں حوثی گروپ نے اب تک باضابطہ طور پر براہ راست شمولیت اختیار نہیں کی ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انکشاف کیا ہے کہ کچھ اسرائیلی عناصر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ جاری رکھنے کے لیے امن معاہدے کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی لابی نے ہی میری ساکھ خراب کے لیے میرے خلاف بھی ایک منظم اور مالی وسائل سے بھرپور مہم چلائی تھی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے معروف پوڈکاسٹر جوئے روگن کے ساتھ گفتگو میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے شدید مخالف اور اس امن عمل سے خوش نہیں تھے۔
جے ڈی وینس نے گفتگو کے دوران حال ہی میں ٹائم میگزین میں شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں بھی یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ کس طرح ایران جنگ بندی معاہدے کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے مالی وسائل کا بھرپور استعمال کیا جارہا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت کی فنڈنگ سے چلنے والی ایک عالمی اشتہاری ایجنسی نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے خلاف اور جنگ جاری رکھنے کے لیے امریکا میں بھاری فنڈنگ کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی کمپنی نے اس مقصد کے لیے صدر ٹرمپ کی گزشتہ انتخابی مہم کے مینیجر اور ڈیجیٹل اسٹریٹجسٹ بریڈ پارسکیل اور ان کی کمپنی ’کلاک ٹاور ایکس‘ کی مدد حاصل کی تھی اور فنڈنگ کے ذریعے قدامت پسند اور ٹرمپ کے حامی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو استعمال کیا گیا تھا۔
جے ڈی وینس نے کہا ’میرے خیال میں یہ ایک منظم، خفیہ اور بڑی فنڈنگ کے تحت چلائی گئی مہم تھی جس کا مقصد یہی تھا کہ مذاکرات اور معاہدے کو ناکام بنایا جا سکے۔‘
امریکی نائب صدر کے مطابق اس مہم میں شامل افراد نے انہیں بھی سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا، ان کے خلاف صحافیوں کو معلومات فراہم کیں اور یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کی گئی کہ امریکا کو ایران کے ساتھ مذاکرات نہیں کرنے چاہئیں اور اس جنگ کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مجھ پر قطر اور دیگر غیر ملکی حکومتوں کے زیرِ اثر ہونے جیسے الزامات بھی لگائے گئے، تاہم میرا مقصد صرف اور صرف صدر ٹرمپ کی جانب سے دیے گئے اہداف کو پورا کرنا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ انہیں اس بات پر اعتراض نہیں کہ اسرائیل یا دیگر ممالک امریکی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں، کیوں کہ بین الاقوامی سیاست میں یہ ایک عام سی بات ہے۔ تاہم اصل تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے اگر یہی بیرونی اثرورسوخ امریکی مفادات کے برعکس اہم فیصلوں پر اثر انداز ہونے لگے۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل اتحادی ضرور ہیں لیکن دیگر اتحادی ممالک کی طرح دونوں کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات بھی ہو سکتے ہیں۔ اسی پوڈکاسٹ میں انہوں نے اسرائیل مخالف یہود دشمن ہونے کے الزامات کو بھی بے بنیاد قرار دیا۔
اگرچہ وینس نے اسرائیل کے بعض حلقوں پر تنقید کی لیکن انہوں نے واضح کیا کہ ان کے خیال میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ اسرائیل کے دباؤ میں آ کر نہیں کیا۔
میزبان جوئے روگن نے جے ڈی وینس سے سوال کیا کہ اگر ایران جنگ کا فیصلہ صرف ان کا ہوتا تو کیا وہ بھی یہی راستہ اختیار کرتے؟
جے ڈی وینس نے اس کا واضح جواب دینے کے بجائے کہا کہ صدر ٹرمپ بتا چکے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف کارروائی کے حوالے سے زیادہ پُرجوش نہیں تھے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ نائب صدر کی حیثیت سے ان کا کام حکومتی فیصلوں پر تبصرے کرنا نہیں بلکہ صدر کے فیصلوں کی حمایت کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کے حوالے سے فیصلوں کے وقت وہ بھی موجود تھے اور ان کے مطابق ایران پر حملوں سے متعلق فیصلہ صدر ٹرمپ کا تھا۔
ان کے مطابق صدر ٹرمپ خود اس بات پر مضبوط یقین رکھتے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں اور وہ بھی اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں۔
جے ڈی وینس نے امریکا کی جانب سے ایران کو 300 ارب ڈالر فراہمی سے متعلق رپورٹس کو بھی مسترد کیا۔ ان کے مطابق امریکا ایران کو براہِ راست کوئی رقم نہیں دے رہا البتہ پابندیوں میں نرمی کے باعث خلیجی ممالک ایران کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔
انٹرویو کے دوران جوئے روگن نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق سرکاری دستاویزات کے اجرا میں تاخیر اور اس پر اٹھنے والے سوالات بھی سامنے رکھے۔
جے ڈی وینس نے ایپسٹین فائلز کے معاملے پر حکومتی حکمت عملی کو غلط تسلیم کیا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مقصد کسی حقیقت کو چھپانا نہیں تھا۔
انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ جیفری ایپسٹین کے امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس کے اعلیٰ حلقوں سے روابط تھے، تاہم حکومت کے پاس ایسی کوئی دستاویز موجود نہیں جس سے ان روابط کی باضابطہ تصدیق ہو سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر اس نوعیت کے کوئی شواہد کبھی موجود بھی تھے تو ممکن ہے کہ وہ 2008 میں ایپسٹین کے خلاف مقدمے کے دوران ہی ختم کر دیے گئے ہوں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششوں سے پیچھے نہیں ہٹا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن کی بحالی، مذاکرات کے ذریعے تمام تنازعات کے پرامن حل اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں پوری تندہی سے جاری رکھے ہوئے ہے۔
طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال، علاقائی سلامتی اور خارجہ امور سے متعلق اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔
مشرق وسطیٰ کے بحران پر بات کرتے ہوئے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ ”پاکستان کا یہ پختہ مؤقف ہے کہ تمام تنازعات اور اختلافات کا پائیدار حل صرف اور صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی نکالا جا سکتا ہے۔“
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ”امن عمل کی کبھی موت نہیں ہوتی اور امن کی کوششیں دنیا میں کہیں نہ کہیں ہمیشہ جاری رہتی ہیں۔“
ترجمان نے بتایا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں پائیدار امن، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے اب بھی ایک مؤثر اور مضبوط فریم ورک فراہم کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے دوران کچھ چیلنجز ضرور سامنے آئے ہیں، لیکن پاکستان تمام فریقین کو تشدد کا راستہ چھوڑنے اور جون 2026 کے پاک قطر مشترکہ اعلامیے کے مطابق تکنیکی سطح پر مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔
ترجمان نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ کی اس بگڑتی ہوئی صورتحال سے ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ اس سے توانائی کی عالمی فراہمی، تجارت اور خوراک کا تحفظ خطرے میں پڑ رہا ہے۔
ترجمان نے پاکستانی قیادت کی حالیہ سفارتی مصروفیات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ تیرہ جولائی کو قطر کا دورہ کیا جس کا مقصد قطری قیادت سے تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کرنا تھا۔ اس کے علاوہ، دس جولائی کو وزیر اعظم نے قطری قیادت اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے الگ الگ رابطے کیے جن میں انہوں نے تمام فریقین پر ہر ممکن تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کرنے پر زور دیا۔ قطری قیادت نے اس موقع پر خطے میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان کے فعال اور مثبت کردار کی بھرپور تعریف کی۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے حریت رہنماؤں کے خلاف بھارتی چارج شیٹ کی سخت مذمت کی اور کہا کہ بھارت سیاسی بنیادوں پر قائم جعلی مقدمات کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو دبا نہیں سکتا۔
انہوں نے پہلگام واقعے کے حوالے سے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت تاحال کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے اور صرف سیاسی نعرے بازی کر رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں مقیم تمام چینی شہریوں کی حفاظت ہماری اولین ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں بیجنگ کے ساتھ ہر سطح پر مضبوط روابط قائم ہیں۔
برطانیہ میں بچوں کے جنسی استحصال کے مقدمے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان اس جرم کی شدید مذمت کرتا ہے لیکن چونکہ ملزم شبیر حسین برطانوی شہری ہے، اس لیے یہ برطانیہ کا اندرونی معاملہ ہے اور حکومت پاکستان کا اس کیس سے کوئی قانونی تعلق نہیں ہے۔
یہ تصویر 15 جولائی 2026 کو سوشل میڈیا پر جاری کی جانے والی ایک ویڈیو سے لی گئی ہے، جس میں ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ (رائٹرز)
امریکا اور ایران کے درمیان فوجی تصادم انتہائی خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مسلسل پانچویں رات بھی شدید فضائی اور میزائل حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے 15 جولائی کی رات نو بجے ایران پر حملوں کی ایک نئی لہر مکمل کی، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔
امریکی سینٹ کام نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں کہا ہے کہ ہم نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری گزرگاہ کے تحفظ اور آزاد بحری آمدورفت کو برقرار رکھنے کے لیے ایران کے فوجی اثاثوں، کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون تنصیبات سمیت ساحلی نگرانی کے مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی طیاروں نے اس آپریشن کے دوران بندر عباس سمیت مختلف مقامات پر انتہائی درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں کا استعمال کیا۔
اس سے قبل امریکی افواج نے جزیرہ تنب بزرگ پر واقع ایرانی ساحلی دفاع اور کروز میزائل سائٹس پر بھی نوے منٹ تک مسلسل بمباری کی تھی۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی میزائلوں نے جنوبی اور مغربی ایرانی شہروں چاہ بہار، اہواز اور بندر عباس کو نشانہ بنایا۔ چاہ بہار میں تین زوردار دھماکے سنے گئے جہاں امریکی میزائلوں نے ایک بحری نگرانی کے ٹاور کو نشانہ بنایا جبکہ اہواز میں گرنے والا ایک امریکی میزائل کینسر کے مریضوں کے ایک اسپتال کے قریب گرا، تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اس کشیدگی کے دوران امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ انہوں نے ایرانی بندرگاہ کی طرف جانے والے ایک تجارتی ٹینکر جہاز کو امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے اور بار بار دی جانے والی وارننگز کو نظر انداز کرنے پر میزائل مار کر ناکارہ بنا دیا ہے۔
اس امریکی جارحیت کے جواب میں ایران کی پاسداران انقلاب نے ایک بڑا دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے جنوب مغربی شہر اندیمشک کی فضائی حدود میں پرواز کرنے والے جدید امریکی ایم کیو نائن اسٹریٹجک ڈرون کو اپنے ایک نئے دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا ہے۔
امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج اور پاسداران انقلاب نے جمعرات کے روز کویت اور اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ دوسری طرف اردن نے تصدیق کی ہے کہ اس نے اپنی فضائی حدود میں آنے والے متعدد ایرانی میزائلوں کو کامیابی سے فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، پاسداران انقلاب نے کویت میں واقع علی السالم ایئر بیس کو نشانہ بنایا ہے۔
پاسداران انقلاب نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کویت کے فضائی اڈے پر موجود امریکی فوجیوں کے ایک اجتماع اور وہاں نصب دشمن کے قبل از وقت اطلاع دینے والے ریڈار سسٹم یعنی ارلی وارننگ ریڈار کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔
اس ایرانی دعوے پر تاحال امریکی محکمہ دفاع یعنی پینٹاگون یا امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
کویت کے ساتھ ساتھ ایران نے پڑوسی ملک اردن میں موجود امریکی عسکری اثاثوں پر بھی حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی فوج نے سرکاری میڈیا کے ذریعے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے اردن کے الازرق فوجی اڈے پر امریکی فوج کے مواصلاتی نظام اور ایندھن کے ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں کو نشانہ بنایا ہے۔
واضح رہے کہ الازرق کا یہ فوجی اڈہ امریکی فوجیوں اور ان کی مختلف فضائی کارروائیوں کا ایک بہت بڑا اور اہم مرکز مانا جاتا ہے۔
ابتدائی طور پر اس حملے پر بھی امریکا، پینٹاگون یا اردن کی حکومت کی طرف سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا تھا۔ تاہم، ان حملوں کی خبریں عام ہونے کے فوری بعد اردن کی حکومت کا باضابطہ اور اہم بیان سامنے آیا ہے۔
اردن کی سرکاری نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اردنی فورسز نے اپنی حدود میں آنے والے ایرانی میزائلوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے۔
اردن کے سرکاری ذرائع نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اردنی فضائی دفاعی نظام نے جمعرات کے روز اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی پاسداران انقلاب نے مشرق وسطیٰ سے دنیا کو ہونے والی تمام توانائی کی برآمدات کو بلاک کرنے کی دھمکی دی ہے۔
پاسداران انقلاب نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو فائدہ پہنچانے والے تمام تجارتی راستے بند کر دیں گے اور علاقائی توانائی کی برآمدات یا تو سب کے لیے ہوں گی یا پھر کسی کے لیے بھی نہیں ہوں گی۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے بھی اس سخت موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکا ایران کے قانونی نظامِ حکومت کو تسلیم نہیں کر لیتا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی اس نازک صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق تمام انتظامات کو برقرار رکھنا ایران کی قومی سلامتی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری فوج کو دشمن کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل آزادی حاصل ہے، اگر ایران کو کسی مفاہمتی یادداشت سے کوئی فائدہ نہیں مل رہا تو ہمارے لیے اس پر قائم رہنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔
باقر قالیباف نے ایرانی عوام کو متحد ہونے کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں صرف اپنی طاقت پر بھروسہ کرنا ہوگا اور اسے مزید مضبوط بننا ہوگا، چاہے جنگ ہو یا مذاکرات، ہماری ہر حکمت عملی کا مرکز صرف قومی مفادات کا تحفظ ہے۔
انہوں نے امریکی عزائم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا اصل مقصد ایرانی نظام کو گرانا اور ملک کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہے، لیکن ہمیں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سفارت کاری اور بات چیت کے تمام راستے بھی استعمال کرنے ہوں گے۔
ان جھڑپوں میں انسانی جانوں کا بھی بڑا نقصان ہوا ہے۔
ایران کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے تصدیق کی ہے کہ حالیہ امریکی حملوں میں دو خواتین اور بچوں سمیت 30 سے زائد عام شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 260 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ صوبہ سیستان و بلوچستان کے علاقے ایرانشہر میں واقع بمپور فوجی اڈے پر ہونے والے امریکی حملے میں سات ایرانی فوجی بھی جاں بحق ہوئے ہیں، جہاں امریکا نے بیرکوں کے رہائشی حصے پر 13 میزائل داغے۔
اس کے علاوہ حویزہ شہر میں گندم کے ایک گودام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ان حملوں کے جواب میں ایران نے آپریشن نصر ٹو کی ساتویں لہر شروع کی جس کے تحت بحرین، کویت اور اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے۔
ایران کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے کمانڈ سینٹر اور شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر موجود اسلحے کے گوداموں کو تباہ کر دیا ہے، جبکہ اردن کی موافق السلطی ایئر بیس پر امریکی جنگی طیاروں کے ہینگرز کو نشانہ بنا کر بھاری نقصان پہنچایا ہے۔
یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل حملوں، صنعا ایئرپورٹ پر کشیدگی اور باب المندب میں بڑھتے ہوئے خطرات کے بعد یہ گروہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتِ حال مزید بگڑتی ہے تو آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب بھی عالمی تجارت کے لیے ایک نیا بحران بن سکتا ہے۔ ایسے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ حوثی کون ہیں، ان کی طاقت کیسے بڑھی اور ایران سے ان کے تعلقات کی حقیقت کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یمن کا حوثی گروپ، جسے باضابطہ طور پر انصار اللہ کہا جاتا ہے، ایک مذہبی، سیاسی اور مسلح تحریک ہے جو شمالی یمن میں سرگرم ہے۔ اس کی قیادت عبدالملک الحوثی کے ہاتھ میں ہے، جنہیں خطے کے انتہائی بااثر مگر کم منظر عام پر آنے والے رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔
حوثی زیدی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی بنیاد 1990 کی دہائی کے آخر میں شمالی یمن میں ایک مذہبی اصلاحی تحریک کے طور پر رکھی گئی تھی، جس کا مقصد زیدی برادری کی مذہبی اور سماجی شناخت کا تحفظ تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ حکومت سے اختلافات شدت اختیار کرتے گئے اور یہ تحریک مسلح مزاحمت میں تبدیل ہوگئی۔ حوثیوں نے یمنی فوج کے خلاف کئی گوریلا جنگیں لڑیں اور 2011 میں عرب اسپرنگ کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی بے یقینی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی طاقت میں نمایاں اضافہ کیا۔
یمنی حکومت کی جانب سے حوثیوں کو باغی قرار دینے کے بعد حوثیوں نے اپنی تحریک کو منظم کیا اور 2014 میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد یمن کی سیاسی صورتِ حال مکمل طور پر بدل گئی۔
صنعا پر قبضے کے بعد سعودی عرب نے حوثیوں کو ایران کا اتحادی قرار دیتے ہوئے مارچ 2015 میں عرب اتحادی افواج کی قیادت میں فوجی مداخلت کی۔ اس اتحاد کا مقصد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کو دوبارہ اقتدار میں لانا تھا، تاہم کئی برس تک جاری رہنے والی جنگ کے باوجود حوثی شمالی یمن اور دارالحکومت صنعا پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔
اس جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوا اور اقوام متحدہ نے یمن کو دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں شامل قرار دیا۔ بعد ازاں 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے جنگ بندی عمل میں آئی جس کے بعد نسبتاً سکون رہا، مگر ایران، امریکا جنگ کے دوران حوثی باغیوں کا کھل کر تہران کی حمایت نے یمنی حکومت کے ساتھ غیر رسمی جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
’رائٹرز‘ کے مطابق ابتدائی طور پر ایک مقامی مزاحمتی گروپ سمجھے جانے والے حوثیوں نے گزشتہ چند برسوں میں اپنی عسکری صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ان کے پاس بیلسٹک میزائل، کروز میزائل، ڈرون اور جدید فضائی حملوں کی صلاحیت موجود ہے۔ وہ ماضی میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی تیل تنصیبات، فوجی اڈوں اور اہم انفراسٹرکچر کو متعدد مرتبہ نشانہ بنا چکے ہیں۔
اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد حوثیوں کا کردار مزید نمایاں ہوا تھا۔ انہوں نے فلسطینیوں سے اظہارِ یک جہتی کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں پر حملے شروع کیے اور اسرائیل پر بھی ڈرون اور میزائل داغے۔
ان کارروائیوں کے جواب میں اسرائیل اور امریکا نے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر متعدد فضائی حملے کیے۔ ان حملوں کے باعث عالمی شپنگ کمپنیاں بحیرہ احمر اور نہر سویز کے بجائے جنوبی افریقا کے گرد طویل بحری راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئیں، جس سے عالمی تجارت، سپلائی چین اور مال برداری کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایران حوثیوں کو اپنے علاقائی محاذِ مزاحمت کا حصہ قرار دیتا ہے، تاہم دونوں کے تعلقات کی نوعیت پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ امریکا اور سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ایران حوثیوں کو اسلحہ، مالی وسائل اور فوجی تربیت فراہم کرتا ہے، جب کہ ایران اس الزام کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔
امریکی حکام یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ لبنان کی حزب اللہ نے حوثیوں کی عسکری تربیت میں کردار ادا کیا، تاہم حزب اللہ اور حوثی دونوں اس مؤقف کو مسترد کرتے ہیں۔ دوسری جانب حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے نمائندہ نہیں بل کہ ایک خودمختار یمنی تحریک ہیں اور اپنے ہتھیار خود تیار کرتے ہیں، اگرچہ دونوں کے درمیان سیاسی ہم آہنگی ضرور موجود ہے۔
خیال رہے کہ رواں ہفتے ہی ایران کی فضائی کمپنی ماہان ایئر لائن کا ایک طیارے نے صنعا ایئر پورٹ پر لینڈ کیا تھا، اس طیارے کی لینڈنگ روکنے کے لیے یمنی حکومت نے رن وے پر فضائی حملہ کیا تھا۔ پیر کو حوثیوں نے سعودی عرب پر میزائل حملے کیے اور الزام لگایا کہ سعودی اتحاد نے ان کے زیرِ کنٹرول صنعا ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا تھا۔
دوسری جانب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے ایرانی طیارے کو صنعا میں اترنے سے روکنے کے لیے کارروائی کی، کیوں کہ اسے شبہ تھا کہ اس کے ذریعے اسلحہ منتقل کیا جا رہا ہے۔
اسی دوران دارالحکومت صنعا میں بھی حوثیوں کے حامی سڑکوں پر نکل آئے۔ صنعا یونیورسٹی میں طلبہ، اساتذہ اور دیگر حامیوں نے مظاہرہ کیا، جس میں صنعا ایئرپورٹ پر حملوں کی مذمت کی گئی۔ مظاہرین نے عبدالملک الحوثی کی تصاویر اور حوثی پرچم اٹھا رکھے تھے، جب کہ مقررین نے تحریک کے حق میں تقاریر اور نظمیں بھی پیش کیں۔
رواں ہفتے حوثیوں نے صنعا ایئرپورٹ پر حملے کا الزام سعودی عرب پر عائد کرتے ہوئے ابہا ایئرپورٹ کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم سعودی اتحاد کے مطابق تمام میزائل فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیے۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق مارچ 2022 کی جنگ بندی کے بعد یہ سعودی عرب پر حوثیوں کا پہلا براہِ راست حملہ تھا، جس سے چار سال سے قائم نسبتاً پرامن صورتِ حال ایک بار پھر خطرے میں پڑ گئی۔
حوثیوں کے سعودی عرب پر میزائل حملوں کے بعد پاکستان سمیت خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب سے مکمل یک جہتی کا اظہار کیا اور اسے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔
حالیہ پیش رفت صرف یمن تک محدود نہیں بل کہ اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایران کے بعض بیانات کے بعد خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر تہران اپنے حوثی اتحادیوں کے ذریعے باب المندب میں دباؤ بڑھاتا ہے تو آبنائے ہرمز کے بعد دنیا کی ایک اور اہم بحری گزرگاہ بھی خطرے میں آ سکتی ہے۔
باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والا انتہائی اہم بحری راستہ ہے، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی نقل و حمل ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بل کہ عالمی تیل کی قیمتوں، توانائی کی ترسیل، سپلائی چین اور بین الاقوامی تجارت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
یہی وجہ ہے کہ حوثیوں کو اب صرف یمن کا ایک مقامی مسلح گروپ نہیں بل کہ مشرق وسطیٰ کی طاقت کی سیاست اور عالمی بحری تجارت پر اثر انداز ہونے والی ایک اہم قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جب کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں یمن ایک مرتبہ پھر مرکزی محاذ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہوچکی کشیدگی کے پانچویں روز صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے۔ ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران جنوبی ایران پر ہونے والے امریکی حملوں میں 30 سے زائد عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔
ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں اس جانی نقصان کی تصدیق کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سوگوار خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کی یاد کو سلام پیش کرتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اپنی پوری طاقت کے ساتھ عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی کیونکہ جنوبی ایران اس سرزمین کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ جنوب مشرقی ایران میں واقع ایران شہر کے بمپور گیریژن پر امریکی میزائل حملوں میں سات ایرانی فوجی جاں بحق ہوئے ہیں۔
ایرانی فوج نے اس کارروائی کو بزدلانہ جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس جرم کا مناسب وقت پر فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
ایرانی نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق، امریکی فوج کی جانب سے تیرہ میزائلوں کے ذریعے بمپور کی بیرکوں پر حملہ کیا گیا جس سے 388 ویں بریگیڈ کے سات اہلکار جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔
ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ ان کے دفاعی اقدامات کی وجہ سے جانی نقصان کو ایک حد تک محدود رکھنے میں مدد ملی، ورنہ امریکی حملوں کا مقصد گیسٹ ہاؤس، گارڈ پوسٹس اور رہائشی تنصیبات کو نشانہ بنا کر زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا تھا۔
ان تازہ ترین حملوں میں بڑے پیمانے پر لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ایران کی وزارت صحت کے ترجمان حسین کرمانپور نے بتایا کہ حالیہ امریکی حملوں میں 260 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 222 افراد کو ضروری طبی امداد کی فراہمی کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ زخمیوں میں تین بچے بھی شامل ہیں جن کی عمریں 18 سال سے کم ہیں، جبکہ ان مخصوص حملوں میں کم از کم دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔
واضح رہے کہ امریکی افواج نے ایران کی بندرگاہوں پر دوبارہ بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ درجنوں ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا ہے جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پانچویں دن بھی لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ’آئی بی ایم‘ کے حصص میں 58 سال کی بدترین گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں کمپنی کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 70 ارب ڈالر تک کم ہو گئی ہے۔ کمپنی کے مایوس کن سہ ماہی مالی نتائج، مصنوعی ذہانت کی دوڑ اور سائبر سیکیورٹی پر بڑھتے اخراجات اس بڑی گراوٹ کی اہم وجوہات قرار دی جا رہی ہیں۔
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ’انٹرنیشنل بزنس مشینز‘ (آئی بی ایم) کے حصص منگل کے روز 25 فیصد تک گر گئے، جو گزشتہ 58 برسوں میں کمپنی کی بدترین ایک روزہ اسٹاک گراوٹ قرار دی جا رہی ہے۔
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق اس تاریخی مندی کے باعث کمپنی کی مارکیٹ ویلیو ایک ہی دن میں تقریباً 67 سے 70 ارب ڈالر تک کم ہو گئی۔
1911 میں قائم ہونے والی آئی بی ایم نے بتایا کہ جون میں ختم ہونے والی سہ ماہی کے دوران اس کی آمدنی صرف ایک فیصد اضافے کے ساتھ 17.2 ارب ڈالر رہی، جو سرمایہ کاروں کی توقعات سے کم تھی۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اروند کرشنا نے سرمایہ کاروں کے نام خط میں اعتراف کیا کہ کمپنی مطلوبہ رفتار سے خود کو بدلنے میں ناکام رہی۔
انہوں نے لکھا، ”ہم سے کوتاہی ہوئی اور ہم حالات کے مطابق خود کو تیزی سے ڈھالنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔“
آئی بی ایم کے مطابق اس کے بنیادی انفراسٹرکچر کاروبار، جس میں مین فریم کمپیوٹرز شامل ہیں، کی آمدنی میں 7 فیصد کمی آئی، جبکہ سافٹ ویئر ڈویژن کی آمدنی 5 فیصد بڑھی، تاہم یہ بھی مارکیٹ کی توقعات سے کم رہی۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے سرورز، میموری چپس اور اسٹوریج ڈیوائسز کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جس کے باعث ان کی قیمتیں بڑھ گئیں اور سپلائی بھی محدود ہو گئی۔
آئی بی ایم کا کہنا ہے کہ جون کے آخری ہفتوں میں اس کے بڑے کارپوریٹ صارفین نے متوقع قیمتوں میں اضافے سے پہلے سرورز، اسٹوریج اور میموری آلات کی خریداری تیز کر دی، جس سے کمپنی کے زیادہ منافع بخش مین فریم کمپیوٹرز اور ان سے متعلقہ سافٹ ویئر کی فروخت متاثر ہوئی۔
اروند کرشنا کے مطابق کمپنی کو سپلائی چین سے متعلق کچھ اثرات کی توقع تھی، لیکن صارفین کی جانب سے سرمایہ کاری کے ترجیحات میں اتنی بڑی تبدیلی کا اندازہ نہیں تھا۔
کمپنی نے یہ بھی کہا کہ اس سہ ماہی کے دوران ٹیکنالوجی صنعت میں بڑھتے ہوئے سائبر سیکیورٹی خدشات نے بھی صارفین کی توجہ دوسری جانب مبذول کر دی۔
اروند کرشنا کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ سائبر حملے زیادہ پیچیدہ ہو گئے ہیں، جس کے باعث کمپنیاں اپنے بجٹ کا بڑا حصہ سائبر سیکیورٹی پر خرچ کر رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق انسان کے نئے میتھوس اے آئی ماڈل کے متعارف ہونے کے بعد سائبر سیکیورٹی سے متعلق خدشات میں مزید اضافہ ہوا، کیونکہ ماہرین کے مطابق یہ ماڈل کمپیوٹر نیٹ ورکس کی کمزوریاں تلاش کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے، جن سے ہیکرز فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
اسی وجہ سے کئی کمپنیوں نے نئے منصوبوں کے بجائے اپنے سائبر دفاع کو مضبوط بنانے کو ترجیح دی۔
اس صورتحال کا فائدہ سائبر سیکیورٹی کمپنیوں کو ہوا، جہاں کراؤڈ اسٹرائیک کے حصص 12 فیصد جبکہ اوکٹا اور نیٹ سکوپ کے حصص تقریباً 11 فیصد بڑھ گئے۔
آئی بی ایم کے حصص میں اس بڑی گراوٹ کے بعد روایتی سافٹ ویئر ایز اے سروس کمپنیوں کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اس شعبے میں آئی بی ایم کے ساتھ سیلز فورس،** ایڈوبے اور انٹویٹ جیسی بڑی کمپنیاں بھی شامل ہیں، جن کے حصص میں بھی کمی دیکھی گئی۔
رواں سال وال اسٹریٹ میں اس خدشے کو ”ساس پوکیلیپس“ کا نام دیا گیا تھا، جب تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی تھی کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی روایتی سافٹ ویئر کمپنیوں کے کاروباری ماڈل کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔
تاہم کمپنی کے لیے کچھ مثبت خبریں بھی سامنے آئیں۔ آئی بی ایم کے ریڈ ہیٹ یونٹ کی آمدنی میں 11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مین فریم کے علاوہ سرور اور اسٹوریج کے کاروبار میں 37 فیصد ترقی ہوئی۔
آئی بی ایم نے اوپن سورس سافٹ ویئر کی سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے 5 ارب ڈالر مالیت کے (روشنی کا کنواں) منصوبے کا بھی اعلان کیا ہے، جسے بینک آف امریکا،** جے پی مورگن چیس اور گولڈمین ساکس سمیت کئی بڑے مالیاتی اداروں کی حمایت حاصل ہے۔
آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت روکنے کے بعد اب ایران نے دنیا کو اپنا سب سے خطرناک ہتھیار دکھانے کا اشارہ دے دیا ہے، جس کے تحت وہ یمن میں اپنے حلیف حوثی باغیوں کے ذریعے بحیرہ احمر کے انتہائی اہم راستے ’باب المندب‘ کو بھی بند کر سکتا ہے۔
اس اقدام سے واشنگٹن کے خلاف ایک نیا محاذ کھل جائے گا اور دنیا کی دو سب سے اہم تجارتی اور توانائی کی شریانیں شدید خطرے میں پڑ جائیں گی۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ایران کے اندر امریکی حملے تیز ہو رہے ہیں اور دوسری طرف حوثیوں کے حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے، تہران اس جنگ کا دائرہ کار وسیع کر کے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ واشنگٹن پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
واضح رہے کہ ایران پہلے ہی آبنائے ہرمز میں تجارتی راستے روک کر اپنی طاقت کا لوہا منوا چکا ہے، اور اب وہ باب المندب کو دوسرا دباؤ کا مرکز بنانے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے، جہاں سے سعودی عرب کا تیل اور دنیا کی تجارتی مصنوعات گزرتی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق، یمن کے ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے پیر کے روز خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب نے یمن پر اپنے حملے جاری رکھے تو ملکی افواج باب المندب کو بند کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں، جس سے دنیا میں تیل کی قیمتیں دو سو ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔
حوثی مزاحمتی تحریک ’انصار اللہ‘ کے سیاسی بیورو کے رکن محمد الفرح نے ایران کے ’پریس ٹی وی‘ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن حکومت سعودی عرب کو یمن پر حملے کرنے کے لیے اکسا رہی ہے اور یہ اشتعال انگیزی خود امریکا کے حق میں کبھی بہتر ثابت نہیں ہوگی۔
انہوں نے انتباہی لہجے میں کہا کہ اگر موجودہ صورتحال مزید خراب ہوئی تو باب المندب اور آبنائے ہرمز کو ایک باقاعدہ جنگی اتحاد کے تحت مکمل بند کر دیا جائے گا، جس کے بعد تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہوئی دو سو ڈالر فی بیرل تک جا پہنچیں گی جو پوری دنیا کے لیے ایک بھیانک دھچکا ہوگا۔
رائٹرز کے مطابق، تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز تہران کا سب سے بڑا ہتھیار ہے تو باب المندب اس کا آخری اور سب سے اہم متبادل پتّا ہو سکتا ہے۔
مڈل ایسٹ کے امور کے ماہر اور اسکالر فواد جرجس نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس جنگ میں آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تہران واشنگٹن کو یہ دکھا رہا ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں دونوں اہم ترین بحری راستوں کو بند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے یہ لڑائی دو ملکوں کے بجائے پوری دنیا کی توانائی اور معیشت کی جنگ بن جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ تہران اب قریب اور دور دونوں جگہوں پر جنگ بڑھا رہا ہے اور اس کا پیغام واضح ہے کہ اب صرف ہرمز ہی نہیں بلکہ باب المندب بھی خطرے میں ہے۔
اسپتالوں، بندرگاہوں اور تجارتی راستوں پر منڈلاتے اس خطرے کے حوالے سے کنگز کالج لندن کے سیکیورٹی اسٹیڈیز کے ماہر اینڈریاس کریگ نے یمنی حوثیوں کی اس تازہ دھمکی کو ایران کا ’دوسرا ایٹمی آپشن‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران یہ انتہائی قدم صرف اس صورت میں اٹھائے گا جب پاسداران انقلاب کو یہ یقین ہو جائے گا کہ اب ایک بڑی اور کھلی جنگ سے بچنا ناممکن ہو چکا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے ایران کی بنیادی تنصیبات پر حملے تیز کیے تو تہران یمن کے ذریعے باب المندب بند کروا دے گا۔
دوسری جانب سعودی عرب میں قائم گلف ریسرچ سینٹر کے چیئرمین عبدالعزیز صقر نے کہا کہ خلیجی ممالک اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ایران کے ساتھ سفارت کاری کی حدیں ختم ہو چکی ہیں، چاہے اس جنگ کی خطے کو کتنی ہی بھاری قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک فاتح ایران یا ایک ہارا ہوا ایران، دونوں ہی صورتیں خطے کے لیے نقصان دہ ہیں، لیکن اگر خطے کا سیکیورٹی ماحول ہمیشہ کے لیے پرامن ہو جائے تو بہت سی خلیجی ریاستیں ایران کی شکست کی قیمت چکانا زیادہ پسند کریں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حوثی باغی باب المندب کو بند کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں لیکن وہ تہران کے واضح اشارے کے بغیر ایسا کوئی بڑا قدم نہیں اٹھائیں گے۔
امریکا کے سابق مشرق وسطیٰ امن مذاکرات کار ڈینس روس کا واشنگٹن سے کہنا تھا کہ اس وقت اصل چیلنج یہ ہے کہ ایران کی سوچ کو کس طرح بدلا جائے تاکہ وہ دوبارہ سنجیدہ مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار ہو سکے، اور صرف زبانی باتیں نہ کرے بلکہ ایک ایسا باقاعدہ معاہدہ کرے جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
واضح رہے کہ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں سے شروع ہونے والی اس جنگ نے پورے خلیج کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس میں اب تک خاص طور پر ایران اور لبنان میں ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے فوری طور پر امریکا کے ساتھ نیا معاہدہ نہ کیا تو اگلے ہفتے اس کے بجلی گھروں اور اہم ترین پلوں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کا امریکی ٹی وی چینل ’فاکس نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم آج رات بھی ایران پر بہت سخت حملے کریں گے اور کل رات بھی یہ حملے جاری رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگلا ہفتہ ایران کے لیے بہت ہی برا ثابت ہونے والا ہے کیونکہ تب تک ہم ان کے تمام بجلی گھروں اور پلوں کو تباہ کر چکے ہوں گے، بشرطیکہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔
واضح رہے کہ جنگ کے بین الاقوامی قوانین یعنی جنیوا کنونشن کے تحت عام شہریوں کے لیے ضروری سہولیات جیسے بجلی گھروں اور پلوں پر حملے کرنا ممنوع مانا جاتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے انٹرویو میں مزید کہا کہ امریکی نمائندوں نے منگل کے روز ایرانی حکام سے رابطہ کیا ہے اور انہیں دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ آپ کے لیے یہی بہتر ہے کہ اب کوئی معاہدہ کر لیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ہم ایران کو بہت بری طرح نشانہ بنا رہے ہیں، اگرچہ ایران میں ابھی کچھ جنگ لڑنے کی تھوڑی بہت صلاحیت باقی ہے لیکن وہ بھی بہت جلد ختم ہو جائے گی۔
توانائی کے بڑے ایرانی مراکز پر حملوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ فی الحال توانائی کے اہداف کو مذاکرات کے آخری مرحلے کے لیے بچا کر رکھ رہے ہیں۔
اس کے علاوہ، امریکی صدر نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر بیس فیصد ٹول ٹیکس لینے کے اپنے ہی پچھلے اعلان پر بڑا یوٹرن لے لیا ہے۔
اب ان کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی بھی ملک آبنائے ہرمز سے ٹول ٹیکس وصول کرے کیونکہ یہ خیال ہی انہیں پسند نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ خلیجی ممالک اس راستے پر ٹیکس دینے کے بجائے اب امریکا میں بڑی سرمایہ کاری کریں گے۔
امریکی صدر کے اس دھمکی آمیز بیان پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے انتہائی سخت اور واضح ردعمل دیا ہے۔
ایرانی صدر نے اپنے وطن کے دفاع کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اپنے عملی اقدامات سے ملک کے ایک ایک انچ کا بھرپور دفاع کریں گے۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا ٹرمپ واقعی میدانِ جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں؟
انہوں نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جو لوگ ایران کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں، وہ بتائیں کہ آخر انہیں اس سب سے اب تک کیا حاصل ہوا ہے۔
ایران کی قومی سلامتی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے بھی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا دشمن اب تمام تر سابقہ مفاہمتی یادداشتوں اور تحریری معاہدوں کی شقوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے باقاعدہ طور پر ہمارے خلاف جنگ میں کود چکا ہے، اس لیے اب ہمارے درمیان کسی قسم کی کوئی مفاہمتی یادداشت باقی نہیں رہی اور نہ ہی اس پر عمل ہو رہا ہے۔
دوسری طرف، ایران کی پاسداران انقلاب نے بدھ کے روز اپنے ایک تازہ بیان میں اعلان کیا ہے کہ جب تک خطے سے امریکا کے شر کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا، تب تک آبنائے ہرمز کا بحری راستہ ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند رہے گا۔
تہران کی نئی قائم کردہ پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی فوج کی حالیہ غیر قانونی سرگرمیوں کی وجہ سے اس وقت آبنائے ہرمز سے گزرنا ناممکن ہو چکا ہے اور حالات معمول پر آتے ہی جہازوں کو یہاں سے گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔
امریکی فوج نے ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی طرف آنے جانے والے تمام بحری جہازوں کی ناکہ بندی دوبارہ شروع کر دی ہے۔ یہ ناکہ بندی امریکی وقت کے مطابق شام چار بجے سے نافذ کی گئی ہے، جس کے بعد اب صرف ایران کے سوا باقی تمام ملکوں کے جہازوں کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت ہوگی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے ایران پر حملوں کا ایک نیا مرحلہ شروع کیا ہے اور ان حملوں کا اصل مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال ہونے والی ایران کی فوجی طاقت کو کمزور کرنا ہے۔
سینٹ کام نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں اس وقت امریکی فوج کے بیس سے زیادہ بڑے جنگی بحری جہاز اور سیکڑوں طیارے کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
امریکی حملوں کے بعد ایران کے مختلف علاقوں بشمول قشم، ہنگام، بمپور، بندرعباس، کیش، ہرمزگان اور سیرک میں خوفناک دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، کیش جزیرے پر ہونے والے حملے میں ایران کی کئی کشتیاں تباہ ہو گئی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے تہران کو سخت وارننگ دی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے دھمکی دی کہ میں توانائی کے مراکز کو سب سے آخر کے لیے بچا کر رکھ رہا ہوں، لیکن اگر ایرانی حکام مذاکرات کی میز پر واپس نہیں آتے تو اگلے ہفتے ان کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمارے مذاکرات کاروں نے ایرانی حکام سے رابطہ کر کے انہیں صاف بتا دیا ہے کہ ان کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ کوئی معاہدہ کر لیں۔
واضح رہے کہ جنیوا کنونشن کے قوانین کے تحت جنگ کے دوران عام شہریوں کے لیے ضروری سمجھے جانے والے مقامات پر حملوں کی سخت ممانعت ہے۔
اس صورتحال پر ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے سرکاری ٹیلی ویژن پر کہا کہ اگر امریکا یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہمارے خلاف سخت اقدامات، فوجی کارروائیوں اور معاشی ناکہ بندی کے ذریعے ہمیں دوبارہ مذاکرات پر مجبور کر لے گا تو یہ اس کی بہت بڑی بھول ہے۔
ایران نے دعویٰ کیا کہ حالیہ لڑائی شروع ہونے کے بعد انہوں نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا ہے، جہاں سے جنگ شروع ہونے سے پہلے دنیا کا تقریباً بیس فیصد تیل گزرتا تھا۔
ایران کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے دوبارہ شروع ہونے والی اس لڑائی نے جون میں ہونے والے عارضی امن معاہدے کو ختم کر دیا ہے، جس میں اب تک ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔
اس دوران جنگ کا دائرہ پڑوسی ملکوں تک پھیل گیا ہے۔ ایرانی فوج نے بدھ کی صبح دعویٰ کیا کہ اس نے اردن میں قائم امریکی فوجی اڈے پر ڈرون حملے کیے ہیں، جبکہ ایران کی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کا کہنا ہے کہ انہوں نے بحرین اور کویت میں موجود ہتھیاروں کے گوداموں کو نشانہ بنایا ہے۔
کویت کی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کے دفاعی نظام نے ایرانی ڈرونز کا مقابلہ کیا اور وہاں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔
امریکا کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے میں ایران نے سات تجارتی جہازوں پر حملے کیے ہیں جن میں کئی ملاح مارے گئے یا لاپتہ ہوئے، جبکہ متحدہ عرب امارات کے مطابق ان کے دو تیل بردار جہازوں پر ایرانی میزائل حملے میں ایک ہندوستانی ملاح ہلاک ہوا اور آٹھ زخمی ہوئے۔
اس نئی جنگ نے عالمی معیشت کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے اور گزشتہ ایک ہفتے میں خام تیل کی قیمت پندرہ فیصد اضافے کے ساتھ پچاسی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر کے ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران خلیج فارس میں واقع ایران کے دو اہم جزائر، قیشم اور کیش بھی حملوں کی زد میں آ گئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق قشم جزیرے پر متعدد دھماکے ہوئے، جب کہ جزیرہ کیش کے پاور پلانٹ کو بھی امریکی حملے میں نقصان پہنچا ہے۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب واقع قیشم جزیرے پر منگل کی شام مقامی وقت کے مطابق تقریباً سات بجے ایک مقام کو امریکی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ صوبہ ہرمزگان کے گورنر آفس نے دعویٰ کیا کہ حملہ امریکا کی جانب سے کیا گیا، تاہم فوری طور پر جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
اس سے قبل ایرانی خبر رساں ادارے ’فارس‘ نے بھی اطلاع دی تھی کہ شام تقریباً 6 بج کر 45 منٹ پر قیشم جزیرے میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق جزیرے کے ماسان علاقے کو گزشتہ چند روز کے دوران کئی مرتبہ نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
دوسری جانب ’فارس‘ نیوز ایجنسی نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ خلیج فارس میں واقع جزیرہ کیش کے پاور پلانٹ کو بھی امریکی حملے میں نقصان پہنچا ہے۔ جزیرہ کیش واٹر اینڈ پاور انجینئرنگ کمپنی کے مطابق حملے کے دوران ایک گولہ پاور پلانٹ کے قریب آ کر گرا، جس سے بجلی کی تنصیبات متاثر ہوئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نقصان کے باعث بجلی پیدا کرنے والے بعض یونٹس کو مرمت کے لیے عارضی طور پر بند کیا جا سکتا ہے، تاہم ایرانی حکام نے اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
قبل ازیں، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے پیر کی شب ایران میں مختلف اہداف پر حملوں کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ کارروائیوں کا مقصد ایران کی تجارتی جہاز رانی پر حملے کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔ تاہم قیشم جزیرے یا جزیرہ کیش کے پاور پلانٹ پر حملوں سے متعلق امریکی فوج نے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، جب کہ امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے بھی اس معاملے پر تبصرے کے لیے سینٹ کام سے رابطہ کیا ہے۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ایران کے خلاف بحری ناکا بندی دوبارہ نافذ کرنے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کرنے کا عندیہ دیا تھا، تاہم منگل کو وہ اس مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے۔ دوسری جانب ایران بھی خطے میں مختلف اہداف پر جوابی حملوں کے دعوے کر رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے مطابق آبنائے ہرمز میں دو تجارتی جہاز حملوں کی زد میں آئے، جن میں ایک جہاز کے عملے کا ایک رکن ہلاک ہوا، جب کہ بحران سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے ادارے ایم ٹی آئی نیٹ ورک نے بتایا کہ عمان کے ساحل کے قریب ناروے کے ایک آئل ٹینکر میں بھی دھماکا ہوا۔
قیشم جزیرہ آبنائے ہرمز کے قریب ایران کا سب سے بڑا جزیرہ ہے، جب کہ جزیرہ کیش اگرچہ سیاحتی مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے، تاہم وہاں ایرانی بحریہ، ریڈار نظام اور فضائی تنصیبات بھی موجود ہیں، جو ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کی معاونت کرتی ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ان دونوں جزائر کو نشانہ بنانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خلیج فارس میں عسکری کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ وہ شام کے زیر قبضہ علاقوں اور لبنان سے اسرائیلی فوج کے جلد انخلا پر غور کریں۔ اس وقت اسرائیلی فوج جنوبی لبنان اور جنوبی شام کے بعض علاقوں میں موجود ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ٹیلی فونک گفتگو کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ شام میں موجود اسرائیلی فوج میں کمی کرنا شروع کریں اور لبنان سے فوجی انخلا کے لیے بھی اقدامات تیز کریں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل میں عام انتخابات قریب ہیں جنہیں نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو پر اس وقت شدید دباؤ ہے اور ایسے حالات میں شام کے زیر قبضہ علاقوں سے فوج واپس بلانے کا فیصلہ ان کے لیے مزید مشکلات کھڑی کرسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ٹیلی فونک رابطہ صدر ٹرمپ اور شام کے صدر احمد الشرع کے درمیان ترکیہ میں نیٹو سربراہ اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقات کے ایک دن بعد ہوا تھا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی فوج اس وقت جنوبی لبنان اور جنوبی شام کے بعض حصوں میں موجود ہے۔ اسرائیل ان مقبوضہ علاقوں کو ’سیکیورٹی زون‘ کا نام دے کر سرحدی علاقوں سے ممکنہ حملوں سے بچاؤ کا جواز پیش کرتا آیا ہے۔
تاہم امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو فون پر واضح کیا ہے کہ شام میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کشیدگی میں اضافہ کر سکتی ہے اور اس سے صورت حال مزید خراب ہونے کا خطرہ ہے۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا ’وہ آپ کی وہاں موجودگی نہیں چاہتے لہٰذا آپ کو اپنی فوجیں واپس بلانی چاہئیں‘۔ امریکی عہدیدار نے کہا کہ یہی بات لبنان کے حوالے سے بھی لاگو ہوتی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے کہا ہے کہ نیتن یاہو نے گفتگو کے دوران اسرائیل کی سرحدوں کے قریب سیکیورٹی زونز کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کئی ماہ سے اسرائیل اور شام کے درمیان ایک نئے سیکیورٹی معاہدے کے لیے کوشش کر رہی تھی، جس میں دسمبر 2024 میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل کے زیرِ قبضہ شام کے علاقوں سے مرحلہ وار فوجی انخلا بھی شامل تھا۔
تاہم امریکی حکام کے مطابق بعد میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ نیتن یاہو مطلوبہ رعایتیں دینے پر آمادہ نہیں ہوں گے۔
حالیہ ہفتوں میں جنوبی شام میں ایسے کئی واقعات بھی پیش آئے جہاں مقامی شہریوں نے اسرائیلی فوج کی موجودگی کے خلاف احتجاج کیا اور اسرائیلی فوجیوں سے جھڑپوں کے واقعات بھی دیکھنے میں آئے۔
لبنان کے حوالے سے بھی اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ منگل کو امریکی ثالثوں نے روم میں دونوں ممالک کے سفارت کاروں سے ملاقات کی تھی، جس میں چند ہفتے قبل طے پانے والے فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد پر بھی بات چیت ہوئی تھی۔
اس معاہدے کے تحت اسرائیل نے جنوبی لبنان میں موجود دو مخصوص علاقوں سے اپنی فوج واپس بلانے اور وہاں لبنانی فوج کی تعیناتی کی اجازت دینے پر اتفاق کیا تھا، تاہم اسرائیلی فوج نے تاحال ان علاقوں سے انخلا نہیں کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق لبنانی حکومت چاہتی ہے کہ انخلا کا عمل فوری شروع ہو اور مزید واپسی کے لیے واضح ٹائم لائن دی جائے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ فوج پہلے یہ تصدیق کرنا چاہتی ہے کہ ان علاقوں میں حزب اللہ کے ہتھیار یا فوجی تنصیبات موجود نہیں ہیں، جبکہ لبنان کا مؤقف ہے کہ یہ جائزہ امریکی فوج کو لینا چاہیے۔
ایگزیوس کے ماطبق وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم امریکی حکام نے اس رپورٹ کو مسترد بھی نہیں کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر فیس عائد کرنے کے بیان سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ انہوں نے اس یوٹرن کی وضاحت دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فیس وصولی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک نے انہیں آبنائے ہرمز میں تحفظ کے بدلے امریکا میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش کی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں عراقی وزیراعظم علی الزیدی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایران کو معاہدہ کرنے کا موقع دیا تھا، تاہم ایران نے حملے میں پہل کی اور معاہدہ توڑ دیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں انہیں معاہدہ کرنے کا موقع دینا چاہتا تھا لیکن انہوں نے پہلے حملہ کیا، جو ان کی بہت بڑی غلطی تھی۔‘ انہوں نے کہا کہ ’اس حملے کے بعد ہم نے ان کے خلاف بھرپور کارروائی کی۔‘
صدر ٹرمپ نے ایرانیوں کو ’مشکل لوگ‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران اب بہت زیادہ غیر مستحکم ہو چکا ہے اور اس کی فوجی طاقت اب ویسی نہیں رہی جیسی چار مہینے پہلے تھی۔
عراقی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد امریکی صدر نے اعلان کیا کہ امریکا عراق کے ساتھ تیل کے شعبے میں بڑے معاہدے کرے گا، جس سے دونوں ممالک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ تاہم انہوں نے ان مجوزہ معاہدوں کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ پیر کے روز اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر 20 فیصد ٹول عائد کرنے کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک نے ان سے رابطہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک نے انہیں بتایا کہ وہ اس معاملے کو مختلف انداز میں حل کرنا چاہتے ہیں اور آبنائے ہرمز میں تحفظ کے بدلے امریکا میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے نئے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے تصور سے اتفاق نہیں کرتے لیکن یہ بھی انصاف نہیں کہ آبنائے ہرمز میں پوری دنیا کا تحفظ صرف ہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی اس اہم بحری گزرگاہ پر فیس وصول کرنے کی اجازت نہیں ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی انہوں نے تجویز دی تھی کہ امریکا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر 20 فیصد ٹرانزٹ فیس عائد کرے گا۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں بھی دعویٰ کیا تھا کہ ان کی مشرقِ وسطیٰ کی قیادت کے ساتھ انتہائی مثبت گفتگو ہوئی ہے جس کے بعد انہوں نے آبنائے ہرمز سے 20 فیصد ’ری ایمبرسمنٹ فیس‘ کے بجائے خلیجی ممالک کی جانب سے امریکا میں سرمایہ کاری کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق امریکا نے منگل کی شام آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزیرے ’قیشم‘ پر میزائل حملے کیے جب کہ جزیرہ ’کیش‘ پر ایک میزائیل نے پانی اور بجلی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اسی دوران ایران کے جنوبی صوبے خوزستان کے شہر اندیمشک میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایران کی جانب سے اردن، بحرین اور کویت میں بھی امریکی اہداف پر حملوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اردن نے چار بیلسٹک میزائل مار گرانے کا اعلان کیا ہے جب کہ کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ملک بھر میں خطرے کے سائرن بجائے گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ سی این این کے مطابق ایران نے صدر ٹرمپ کی حکمتِ عملی میں تضادات کو ان ہی کے خلاف استعمال کرکے مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط کرلی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ایران ٹرمپ کے طرزِ سیاست کو بھرپور طریقے سے ان ہی کے خلاف استعمال کر رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر کے لیے اس جنگ کو ختم کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا امریکا کی فوجی طاقت، اقتصادی پابندیاں اور سخت بیانات ایران کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں یا تہران اپنی جغرافیائی اہمیت اور محدود مگر مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے ایک سپر پاور کو مسلسل دباؤ میں رکھ سکتا ہے؟
سی این این کے مطابق یہی صورت حال صدر ٹرمپ کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے، کیونکہ جنگ شروع کرنے کے بعد اب اسے ختم کرنے کا راستہ تلاش کرنا پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز فاکس نیوز سے گفتگو میں الزام عائد کیا کہ ایران پر کسی معاہدے کی پاسداری کے لیے بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت (اسلام آباد میمورنڈم) پر اتفاق ہو چکا تھا، لیکن ایران نے خلاف ورزی کی اور معاہدہ توڑ دیا۔
ٹرمپ کا یہ مؤقف خاصا دلچسپ تھا، کیوں کہ ان کے ناقدین یاد دلاتے ہیں کہ ٹرمپ خود کئی بین الاقوامی معاہدوں سے دستبردار ہو چکے ہیں، جن میں پیرس ماحولیاتی معاہدہ بھی شامل ہے۔ ان کے پہلے دورِ صدارت میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اوباما دور کے معاہدے سے علیحدگی کو بھی موجودہ بحران کی اہم وجہ شمار کیا جاتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے پیر کے روز ہی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے کی دھمکی دی۔ تاہم ایران نے امریکی صدر کے اس بیان کو بھی نہایت دلچسپ انداز میں اپنے حق میں اور ان کے خلاف استعمال کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے طنزیہ انداز میں اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی صدر اس اصول کو درست سمجھتے ہیں تو ایران بھی یہی مؤقف رکھتا ہے، تاہم 20 فیصد فیس بہت زیادہ ہے، البتہ ہم اس معاملے میں کچھ لحاظ ضرور کریں گے۔‘
ایران کی جانب سے بیان دراصل ایک سفارتی وار تھا۔ ایران نے ٹرمپ کی اپنی ہی منطق کو استعمال کرتے ہوئے انہیں یہ پیغام دیا کہ اگر واشنگٹن دباؤ اور سودے بازی کی زبان میں بات کرے گا تو تہران بھی اسی انداز میں جواب دے سکتا ہے۔
‘ایران اب بھی کھیل کے اصول طے کر رہا ہے‘
سی این این کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایران فریقین کے درمیان طے پانے والے ’امن معاہدے‘ کی اپنی تشریح پیش کر رہا ہے جب کہ ٹرمپ انتظامیہ کو اب تک یہ واضح کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے کہ اس نے اس جنگ کو دوبارہ کیوں شروع کیا کیوں کہ صدر ٹرمپ نے چند ہفتے قبل ہی مفاہمتی معاہدے کو ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔
تاہم اب صدر ٹرمپ اپنے اس بیان سے یہ کہہ کر پیچھے ہٹ گئے ہیں کہ یہ معاہدہ صرف ایک ’امتحان‘ تھا جس میں ایران ناکام رہا اور اس معاہدے کی زیادہ اہمیت نہیں تھی۔
سی این این کے مطابق طے شدہ مفاہمتی یادداشت اس وقت غیر مؤثر ثابت ہوئی جب ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات شروع کیے۔ اس صورت حال سے یوں ظاہر ہونے لگا تھا کہ امریکی فوجی طاقت اور سخت بیانات کے باوجود ایران اب بھی اس کھیل کے اصول اور مذاکرات کی سمت پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق معاہدے میں استعمال ہونے والی بعض مبہم شقوں نے بھی دونوں ممالک کو اپنے اپنے مفادات کے مطابق مختلف تشریح کا موقع دیا۔
معاہدے کے مطابق ایران کو 60 روز تک آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ اور آزادانہ آمدورفت کے لیے انتظامات کرنا تھے اور عمان کے ساتھ مل کر مستقبل کے انتظامی ڈھانچے پر کام کرنا تھا۔
امریکی نقطۂ نظر سے یہ شق بظاہر واشنگٹن کے مقاصد کو پورا کرتی تھی۔ امریکا نے اس شق کو معمول کے مطابق بحری آمدورفت کی بحالی سمجھا جب کہ ایران نے اسے مختلف انداز میں دیکھا۔ تہران کے نزدیک یہ اس بات کا اعتراف تھا کہ مستقبل میں بھی آبنائے ہرمز کے انتظام میں اس کا مرکزی کردار برقرار رہے گا، یہی اختلاف اس نئی کشیدگی کی بنیاد بنا۔
ناقدین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے مذاکرات میں کاروباری انداز اختیار کیا لیکن وہ اس خطے کی تاریخ اور ایرانی حکمتِ عملی کو مکمل طور پر نہیں سمجھ پایا۔ نتیجتاً وہی ابہام پیدا ہوا جس نے کشیدگی کو جنم دیا۔
آرٹیکل کے مطابق امریکی انتظامیہ کے سامنے اب سب سے مشکل سوال یہ ہے کہ ایران پر دوبارہ حملے، بحری ناکہ بندی اور دیگر اقدامات ایرانی قیادت کی حکمتِ عملی تبدیل کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے؟
یہ سوال اس لیے بھی مشکل ہے کیوں کہ ایران تمام تر حملوں اور دباؤ کے باوجود چند میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کی صلاحیت دکھا چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پیر کے روز تیل اور ڈیزل کے مستقبل کے سودوں (فیوچرز) میں اضافے نے اس خدشے کو بھی تقویت دی کہ اس جاری کشیدگی کے معاشی اثرات تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔
یوں توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے خدشات صدر ٹرمپ کو ایک بار پھر پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ کیوں کہ صدر ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ وہ ایسی جنگ کی سیاسی اور معاشی قیمت ادا کرنے کے خواہاں نہیں جس میں امریکا طویل عرصے تک پھنسا رہے۔
کیا جنگ اب بھی روکی جا سکتی ہے؟
سی این این کے مطابق اس صورت حال کے باوجود باقاعدہ جنگ سے بچنے کا امکان اب بھی باقی ہے اور حالیہ جھڑپیں اس بات کی علامت بھی ہو سکتی ہیں کہ دونوں ملک مفاہمتی معاہدے کی اپنی اپنی تشریح کو درست قرار دینے کے لیے دوسرے پر دباؤ اور مستقبل کی سفارت کاری کے لیے اپنی پوزیشن مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے تاحال ایسے اقدامات کا اشارہ نہیں دیا جن سے جنگ مکمل طور پر پھیلنے کا خدشہ ہو جب کہ ایران نے بھی امریکی اتحادیوں یا خطے میں امریکی اڈوں کے خلاف اپنے جوابی اقدامات کو ایک حد تک محدود رکھا ہے۔
سی این این کے اس تفصیلی تجزیے میں کہا گیا ہے کہ سابقہ امریکی صدور لنڈن جانسن اور جارج بش نے امریکا کو غیر فیصلہ کُن جنگوں کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی تھی تاہم ٹرمپ نے اب تک اس راستے پر قدم نہیں رکھا ہے۔
اسی طرح صدر ٹرمپ نے اب تک جنگ کے ابتدائی ایام کی طرح بجلی گھروں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنانے کی سابقہ دھمکیوں جیسے بیانات سے بھی گریز کیا ہے۔
تجزیے کے مطابق ایران نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ روایتی فوجی طاقت میں امریکا کا مقابلہ نہیں کر سکتا لیکن جغرافیہ، علاقائی اثر و رسوخ اور محدود مگر مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے ایک بڑی طاقت کے فیصلوں کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کا اس وقت سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ جس جنگ کو وہ پہلے اپنی کامیابی قرار دے رہے تھے، اب اس سے باہر نکلنے کا راستہ کیسے تلاش کیا جائے؟
ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کسی بھی قسم کی جارحیت یا دباؤ وقت کا ضیاع ہے۔ ان کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ کو بحال کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ امریکا ایران کے حقوق کا احترام کرے اور دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنائے۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق پیر کے روز ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے کہا کہ امریکا کے صدر کو بین الاقوامی قانون، دوسری اقوام کے حقوق اور عوام کے وقار کا احترام کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایران پہلے بھی واضح کر چکا ہے کہ آبنائے ہرمز جنگ، دشمنی یا امریکی جارحیت کے ذریعے کبھی نہیں کھولی جائے گی۔
بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے کہا کہ عبوری معاہدے کے تحت ایران نے 60 روز کے لیے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کو بغیر ٹول گزرنے کی اجازت دی تھی اور اس مقصد کے لیے خصوصی بحری راستہ بھی مقرر کیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ امریکا نے معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کے انتظامات کو قبول کیا تھا، تاہم بعد میں اس نے ”دھوکے“ کے ذریعے نیا راستہ قائم کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے بحری جہازوں کو ایک ایسے راستے سے گزارنے کی کوشش کی جسے ایران غیرقانونی قرار دیتا ہے، جس کے بعد ایران نے اس گزرگاہ کو دوبارہ بند کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک امریکا علاقائی بحری نقل و حرکت میں مداخلت ختم نہیں کرتا، یہ بندش برقرار رہے گی۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے واضح کیا کہ مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ انتظامات سے ہٹ کر آبنائے ہرمز میں کی جانے والی کسی بھی کارروائی کا فیصلہ کُن جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کا خیال تھا کہ وہ ایران کو کمزور کر سکتا ہے، تاہم ایرانی قوم کے اتحاد نے اس کے تمام حربوں کو ناکام بنا دیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوئے تھے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خاتمے اور بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کرنا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایران کے بحری محاصرے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کی ناکہ بندی کو بحال کر رہا ہے، جس کے تحت صرف ایرانی جہازوں یا ایران سے آنے والے جہازوں پر پابندی عائد ہوگی، جب کہ دیگر تمام ممالک کو آبنائے ہرمز کے آزادانہ استعمال کی اجازت ہوگی۔
اس بیان پر ایران کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا۔ ایرانی فوج کے سینٹرل ہیڈکوارٹر ’خاتم الانبیا‘ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کسی بھی صورت امریکا کو آبنائے ہرمز کے انتظام میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔ بیان کے مطابق ایران کی مسلح افواج امریکی فوج کی جانب سے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں پیدا کی جانے والی کسی بھی رکاوٹ یا عدم تحفظ کا بھرپور جواب دیں گی۔
برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جنگ کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اہلکاروں اور کنٹریکٹرز کے موبائل فونز کی لوکیشن معلوم کرنے کے لیے منظم کوششیں کیں۔ رپورٹ کے مطابق اس معاملے نے امریکی قانون سازوں میں فوجی اہلکاروں کی ڈیجیٹل سکیورٹی سے متعلق نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ نے ٹیلی کمیونی کیشن ڈیٹا، سائبر سیکیورٹی ماہرین اور اس معاملے سے واقف حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے جنگ سے قبل اور دورانِ جنگ امریکی فوجی اہلکاروں اور کنٹریکٹرز کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے موبائل فون ٹریکنگ کی مربوط مہم چلائی۔
رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ٹیلی کام نیٹ ورکس نے متعدد ایسے سگنلز، جنہیں ایس ایس 7 پنگز کہا جاتا ہے، بلاک کیے۔ ان سگنلز کے ذریعے بیرونِ ملک رومنگ استعمال کرنے والے موبائل فونز کی ممکنہ جغرافیائی لوکیشن معلوم کی جا سکتی ہے۔ سائبر سہکیورٹی کے دو ماہرین نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کارروائیاں مخصوص موبائل فونز کو نشانہ بنانے کے لیے کی جا رہی تھیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ سرگرمیاں فروری کے آخر میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے قبل شروع ہوئیں اور جنگ کے ابتدائی دنوں تک جاری رہیں، جب ایران نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق خلیجی ممالک کے بعض حکام کو شبہ تھا کہ ایران یا اس کے اتحادیوں نے مقامی موبائل آپریٹرز کے رومنگ معاہدوں سے فائدہ اٹھا کر امریکی فوجی اہلکاروں اور کنٹریکٹرز کی موجودگی کا سراغ لگانے کی کوشش کی۔
رپورٹ میں ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران سے منسلک عناصر نے شمالی عراق کے نیم خودمختار کردستان خطے میں امریکی اہلکاروں کے موبائل فونز کی لوکیشن معلوم کرنے کے لیے تجارتی بنیادوں پر دستیاب اشتہاری ڈیٹا بیسز بھی استعمال کیے۔
سائبر سیکیورٹی ادارے سٹیزن لیب کے سینئر محقق گیری ملر نے ’فنانشل ٹائمز‘ سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے پاس حقیقی وقت میں افراد کی لوکیشن حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ان کے بقول اگر ایران خطے میں امریکی صارفین کی نگرانی کے لیے موبائل نیٹ ورکس تک رسائی یا ایس ایس 7 نظام استعمال کر رہا ہو تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اپریل میں کانگریس کو آگاہ کیا تھا کہ اسے ایسی متعدد اطلاعات موصول ہوئیں جن میں مخالف عناصر کی جانب سے تجارتی لوکیشن ڈیٹا استعمال کر کے امریکی اہلکاروں کی نگرانی یا انہیں نشانہ بنانے کی کوششوں کا ذکر تھا۔ تاہم سینٹ کام کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے اہلکاروں کے تحفظ کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ اب تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے ثابت ہو کہ موبائل فونز کی لوکیشن سے حاصل ہونے والا ڈیٹا کسی حملے میں فیصلہ کن طور پر استعمال ہوا ہو۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران پر یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نے تجارتی اشتہاری ٹیکنالوجی کے ذریعے ان ہوٹلوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی جہاں امریکی سرکاری ملازمین اور کنٹریکٹرز قیام پذیر تھے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے اسمارٹ فونز کو مخصوص اشتہاری شناختی نمبروں کی بنیاد پر ٹریک کیا جا سکتا ہے، بغیر اس کے کہ فون خود ہیک کیا جائے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکی سینیٹر رون وائیڈن نے کہا کہ وہ کئی برسوں سے مختلف امریکی حکومتوں کو تجارتی لوکیشن ڈیٹا سے پیدا ہونے والے قومی سلامتی کے خطرات سے آگاہ کرتے رہے ہیں، جب کہ ریپبلکن رکن کانگریس پیٹ ہیریگن نے مطالبہ کیا کہ ایسی قانون سازی کی جائے جس کے تحت ٹیکنالوجی کمپنیاں سرکاری ملازمین کی لوکیشن سے متعلق معلومات فروخت نہ کر سکیں۔
ادھر لندن میں ایرانی سفارت خانے نے فنانشل ٹائمز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ایک انتہائی محفوظ اور خفیہ جوہری ٹھکانے کو تباہ کرنے کی دھمکی دی ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ نیوکلیئر سائٹ ’پک ایکس ماؤنٹین‘ کے اندر واقع ہے۔
امریکی صدر نے پیر کو ایک مشہور پروگرام ’ہیو ہیوٹ شو‘ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم اب پک ایکس ماؤنٹین کو نشانہ بنانے جا رہے ہیں اور ایرانیوں کو کہہ دو کہ وہ اس کے لیے تیار رہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم اس جگہ پر بہت باریک بینی سے نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس وقت ہمیں وہاں کوئی ہلچل نظر نہیں آرہی۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایرانیوں کی جوہری صورتحال کچھ خاص اچھی نہیں ہے اور جب بھی ہمیں ان کے کسی جوہری کام کی خبر ملتی ہے، ہم اسے بموں سے اڑا دیتے ہیں، اسی لیے وہ اب اس بارے میں بات کرنا پسند نہیں کرتے، لیکن ہم بہت جلد اس پہاڑی مرکز پر بھی حملہ کرنے والے ہیں۔
جس پہاڑ کو اڑانے کی دھمکی امریکی صدر نے دی ہے، وہ کوئی عام جگہ نہیں ہے۔ مقامی طور پر اسے ’کوہ کلنگ گزلا‘ کہا جاتا ہے جو ایران کے پہلے سے تباہ شدہ نطنز جوہری مرکز کے بالکل قریب واقع ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس پہاڑ کے اندر بہت گہرائی میں سرنگیں بنائی گئی ہیں اور یہ جگہ اتنی مضبوط ہے کہ امریکا کے پاس موجود بڑے سے بڑا بم، جو زمین کے اندر جا کر دھماکہ کرتا ہے، وہ بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
پچھلے سال ایرانی نیوکلیئر سائٹس نطنز، فردو اور اصفہان پر ہونے والے امریکی حملوں کے بعد بنائی گئی ایک دستاویزی فلم کے پروڈیوسر اور رپورٹر سیبسٹین واکر کا کہنا ہے کہ ہماری ٹیم نے جو نئی ہلچل دیکھی ہے، اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا امریکی حملوں نے ایران کو اپنے جوہری پروگرام کو زمین کے مزید اندر لے جانے پر مجبور کر دیا ہے۔
اس دستاویزی فلم کے مطابق، سیٹلائٹ سے ملنے والی تصاویر سے پتہ چلا ہے کہ اس پہاڑ کی سرنگوں کے راستوں کو مٹی اور پتھروں سے مزید مضبوط کر دیا گیا ہے تاکہ یہ فضائی حملوں سے محفوظ رہ سکیں۔
21 جون 2026 کو سیٹلائٹ سے لی گئی اس تصویر میں ایران کے شہر نطنز کے قریب واقع نطنز جوہری مرکز کے ’پک ایکس ماؤنٹین‘ کی سرنگوں کے ایک داخلی راستے پر گاڑیاں دیکھی جا سکتی ہیں، ۔ (تصویر: وینٹور/ہینڈ آؤٹ بذریعہ رائٹرز)
جب اس دستاویزی فلم کے نمائندے نے تہران میں اس وقت کے ایران کے ایک انتہائی طاقتور عہدیدار اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی سے اس جگہ پر ہونے والی نئی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کسی بھی خاص ہلچل کا انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہاں کچھ خاص نہیں ہو رہا۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ ہم نے ابھی ان جگہوں سے ملبہ بھی نہیں ہٹایا، لیکن مستقبل میں ہم وہاں سے ملبہ ہٹا کر اپنے پرانے کاموں کو دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔
علی لاریجانی مارچ 2026 میں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید کردیے گئے تھے۔
دوسری طرف، ایرانی حکومت کا ہمیشہ سے یہ دعویٰ رہا ہے کہ وہ ایٹم بم نہیں بنا رہی اور اس پہاڑی جگہ کو صرف بجلی بنانے والی مشینوں کے پرزے جوڑنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
30 جون 2026 کو سیٹلائٹ سے لی گئی اس تصویر میں ایران کے شہر نطنز کے قریب واقع نطنز جوہری مرکز کے ’پک ایکس ماؤنٹین‘ کی سرنگوں کے داخلی راستے دیکھے جا سکتے ہیں، ۔ (تصویر: وینٹور/ہینڈ آؤٹ بذریعہ رائٹرز)
تاہم، دنیا بھر کے ماہرین کو شک ہے کہ اتنی گہرائی میں بنے اس مرکز کو یورینیم کو مزید طاقتور بنانے یا ایٹمی مواد چھپانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
سائنس اور بین الاقوامی سلامتی کے امریکی ادارے (آئی ایس آئی ایس) میں سینئر ریسرچ فیلو اسپینسر فراگاسو نے امریکی نشریاتی ادارے ’اے بی سی نیوز‘ کو بتایا کہ ان کی ٹیم سنہ 2020 میں کام شروع ہونے کے وقت سے ہی ’پک ایکس ماؤنٹین‘ پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سنہ 2020 میں ایران نے اعلان کیا تھا کہ یہ جگہ سینٹری فیوج (جوہری پرزے) جوڑنے کا ایک مرکز ہے۔ لیکن آئی ایس آئی ایس کے تجزیے کے مطابق، وہاں ہونے والے کام کے پھیلاؤ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ جگہ ایران کے سینٹری فیوج پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایک موزوں ترین مقام ہو سکتی ہے، جہاں پرزے بنانے اور انہیں جوڑنے سے لے کر یورینیم کو طاقتور بنانے (افزودگی) تک کا تمام کام کیا جا سکتا ہے۔
30 جون 2026 کو سیٹلائٹ سے لی گئی اس تصویر میں ایران کے شہر نطنز کے قریب واقع نطنز جوہری مرکز اور ’پک ایکس ماؤنٹین‘ کا عمومی نظارہ دیکھا جا سکتا ہے، ۔ (تصویر: وینٹور/ہینڈ آؤٹ بذریعہ رائٹرز)
عالمی برادری کو بھی اس صورتحال پر سخت تشویش ہے۔
اقوامِ متحدہ کے جوہری ادارے کے سربراہ رافیل گروسی نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر وقت گزرتا گیا اور ہمارے انسپکٹرز کو وہاں جا کر چیکنگ کرنے کی اجازت نہ ملی، تو شکوک و شبہات بڑھ جائیں گے اور یہ صورتحال پوری دنیا کے لیے ایک بہت بڑی تشویش کا باعث بن جائے گی کہ وہاں کوئی ایٹمی ہتھیار تو نہیں بنایا جا رہا۔
یمن کا دارالحکومت صنعا ایک بار پھر دھماکوں سے گونج اٹھا ہے۔ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے مطابق یمنی فوج نے صنعا ایئرپورٹ کے رن وے کو اس وقت نشانہ بنایا جب حوثی باغی ایک ایرانی طیارے کو وہاں لینڈ کروانے کی تیاری کر رہے تھے۔ دوسری جانب حوثی گروپ نے ان حملوں کا ذمہ دار سعودی عرب کو ٹھہراتے ہوئے جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔
عرب نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اور سعودی اتحاد کی حمایت یافتہ حکومت نے پیر کو یمنی فورسز کی جانب سے صنعا ایئرپورٹ کے رن وے کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد ایران کے ایک سویلین طیارے (ماہان ایئر) کو صنعا میں لینڈ کرنے سے روکنا تھا، جس میں تہران سے واپس آنے والا حوثی وفد سوار تھا۔
یمنی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حوثی باغیوں نے یمن کی قومی ایئرلائن کے طیاروں کو صنعا میں اترنے سے روکا جب کہ ایرانی طیارے کو لینڈنگ کی اجازت دی، جو یمنی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اس کارروائی سے قبل یمنی وزارتِ دفاع نے شہریوں، ایئرپورٹ عملے، سفارتی مشنز اور امدادی تنظیموں کو فوری طور پر ایئرپورٹ اور اس کے اطراف کا علاقہ خالی کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔
واضح رہے کہ یمن اس وقت عملی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ملک کا دارالحکومت صنعا، شمالی یمن کے بیشتر علاقے اور بحیرہ احمر کے ساحلی شہر الحدیدہ حوثیوں کے کنٹرول میں ہیں جب کہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت جنوبی شہر عدن سے اپنے امور چلاتی ہے، جسے سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔
دوسری جانب حوثی تحریک نے اس حملے کی ذمہ داری سعودی عرب پر عائد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق صنعا ایئرپورٹ پر حملوں کے بعد تہران سے حوثی وفد کو لے کر واپس آنے والا ایرانی طیارہ بحیرہ احمر کے ساحلی شہر الحدیدہ کے ایئرپورٹ پر بحفاظت اتر گیا، جو کہ حوثیوں کے کنٹرول میں ہے۔
حوثیوں کے نشریاتی ادارے ’المسیرہ‘ کے مطابق ایرانی طیارہ متعدد مریضوں، بیرون ملک پھنسے شہریوں اور حوثی وفد کو لے کر الحدیدہ پہنچا ہے۔
یہ تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رواں ماہ کے آغاز میں بھی حوثیوں نے سعودی عرب پر صنعا میں لینڈ کرنے والے ایک ایرانی طیارے کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا، جو بعد میں حوثی وفد کو لے کر تہران روانہ ہوا تھا۔
اس واقعے کے بعد حوثیوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر سعودی عرب نے دوبارہ یمن پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو جواب میں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
یمن کے وزیرِ دفاع محسن الدائری نے پیر کے روز باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی طیاروں کی جانب سے یمنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر حکومت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یمنی حکومت نے عالمی برادری کے ساتھ مل کر اس مسئلے کو سفارتی اور قانونی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن یہ کوششیں انصار اللہ (حوثی تحریک) کو روکنے میں ناکام رہی ہیں۔
یمنی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ آئندہ یمن کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی طیارے کے خلاف تمام دستیاب وسائل کیے جائیں گے اور اس معاملے کی ذمہ داری ایران پر عائد ہوگی۔
واضح رہے کہ یمن ماضی میں ہونے والی خانہ جنگی اور بین الاقوامی مداخلت کے باعث پیدا ہونے والی صورتِ حال کو اقوام متحدہ نے اکیسویں صدی کا ہولناک ترین انسانی بحران قرار دیا تھا۔
سال 2015 میں حوثیوں کے صنعا پر قبضے اور حکومت کے خاتمے کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے یمن میں مداخلت کی تھی۔ جس کا مقصد حوثی باغیوں کو صنعا سے پیچھے دھکیلنا اور معزول صدر منصور ہادی کی عالمی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو دوبارہ بحال کرنا تھا۔
اس جنگ کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی دیکھنے میں آئی تھی، جس کے بعد ملک میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور قحط جیسے حالات پیدا ہوگئے تھے۔
اقوام متحدہ کی کوششوں سے 2022 میں ایک عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی تھی جب کہ مارچ 2023 میں چین کی ثالثی میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہونے کے بعد یمن میں امن کی امید پیدا ہوئی تھی تاہم تازہ پیش رفت نے اس خدشے کو بھی تقویت دی ہے کہ اس قسم کے واقعات سے اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی پھر متاثر ہوسکتی ہے۔