مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: قطر کا تیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پیش نظر قطر نے تیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اس حوالے سے وزیرِ توانائی سعد الکعبی نے خبردار کیا ہے کہ خلیجی ممالک کی توانائی کی کمپنیاں پروڈکشن بند کرسکتی ہیں، جس سے عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہوں گے، خام تیل کی قیمت 150 ڈالرز فی بیرل ہونے کا بھی خدشہ ہے جب کہ قطر پہلے ہی اپنی ایل این جی پروڈکشن روک چکا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں قطر کے وزیرِ توانائی سعد الکعبی نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ جاری تنازع شدت اختیار کرتا رہا اور خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تو خلیج کے توانائی برآمد کرنے والے ممالک کو اپنی سپلائی روکنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران کی جانب سے اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک پر حملوں کے بعد قطر نے پیر کے روز مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی پیداوار روک دی تھی۔
قطر کی ایل این جی پیداوار عالمی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد ہے اور ایشیا اور یورپ کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
سعد الکعبی کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو خلیج کے تمام برآمد کنندگان کو فورس میجر کا اعلان کرنا پڑ سکتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ غیر معمولی حالات کے باعث اپنی برآمدی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر جنگ چند ہفتوں تک جاری رہی تو دنیا بھر میں معاشی نمو متاثر ہوگی، توانائی کی قیمتیں مزید بڑھیں گی اور بعض مصنوعات کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں سپلائی چین بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
قطر انرجی کے چیف ایگزیکٹو سعد الکعبی نے یہ بھی کہا کہ موجودہ صورتحال کے باعث نارتھ فیلڈ گیس منصوبے کی توسیع متاثر ہو سکتی ہے اور اس منصوبے سے پیداوار کا آغاز بھی مؤخر ہو سکتا ہے، جس کا آغاز پہلے 2026 کے وسط میں متوقع تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر جنگ فوری طور پر ختم بھی ہو جائے تو قطر کو اپنی توانائی سپلائی کے معمول پر واپس آنے میں کئی ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں۔
سعد الکعبی کے مطابق اگر آبنائے ہرمز سے جہازوں اور آئل ٹینکروں کی آمدورفت متاثر ہوئی تو اگلے دو سے تین ہفتوں میں خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، جب کہ گیس کی قیمتیں بھی بڑھ کر 40 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹس تک جا سکتی ہیں۔
















