پاکستان کی سعودی عرب اور انڈونیشیا کے تعاون سے ویکسین پلانٹ کے قیام میں پیش رفت
پاکستان نے مقامی سطح پر ویکسین سازی کے پلانٹ کے قیام کے لیے سعودی عرب اور انڈونیشیا کے ساتھ تعاون کو مزید تقویت دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد 2031 تک بین الاقوامی شراکت داروں کی جانب سے سبسڈائزڈ بوسٹر ویکسین کی فراہمی کے خاتمے سے پیدا ہونے والے ممکنہ طبی اور مالی بحران سے بچاؤ اور ویکسین کی پیداوار میں خودکفیل بننا ہے۔
پاکستان اس وقت گاوی، عالمی ادارہ صحت، یونیسف اور بِل و میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن جیسے عالمی اداروں کے ذریعے ویکسین رعایتی نرخوں پر حاصل کر رہا ہے۔
وزارت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کے عہدیدار کے مطابق سعودی عرب اور انڈونیشیا سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ فالو اپ میٹنگ کی گئیں تاکہ پاکستان میں ویکسین پروڈکشن پلانٹ قائم کیا جا سکے۔ اس منصوبے میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے اور پاکستان اور اس کے شراکت دار بروقت ویکسین کی دستیابی کے لیے کام کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز مصطفیٰ کمال نے حال ہی میں سعودی وزارتِ صحت کے مشیر نِزار بن حریری کی قیادت میں 11 رکنی اعلیٰ سطح سعودی وفد سے ملاقات کی جو مقامی استعداد کا جائزہ لینے کے لیے دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچا تھا۔
وفد نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) اور نجی شعبوں کے مخصوص مراکز کا بھی دورہ کیا۔
سعودی وفد سے ملاقات کے بعد وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے مذاکرات کو نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی وفد نے پاکستان کی تکنیکی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے بھرپور دلچسپی ظاہر کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا کی سرکاری بائیو فارماسیوٹیکل کمپنی نے بھی مکمل تعاون اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی یقین دہانی کرائی ہے اور ہم معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں۔ انہوں نے روک تھام کو صحت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویکسین بیماری کے خلاف پہلی دفاعی لائن ہیں۔
پاکستان میں قومی حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کے تحت بچوں کو 13 بیماریوں کے خلاف مفت ویکسین فراہم کی جاتی ہے۔ جس میں ہر سال پیدا ہونے والے تقریباً 6.2 ملین بچے بھی شامل ہیں۔
ملک اس وقت ویکسین کی خریداری کے تقریباً 51 فیصد اخراجات خود برداشت کرتا ہے، جو سالانہ 4 سے 5 سو ملین امریکی ڈالر کے لگ بھگ ہیں، جبکہ 49 فیصد بین الاقوامی شراکت داروں کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ امداد آہستہ آہستہ کم ہو جائے گی اور 31-2030 تک پاکستان کو ویکسین کی خریداری کے تمام اخراجات خود برداشت کرنے ہوں گے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 2031 تک پاکستان کو مکمل طور پر اپنے وسائل سے ویکسین خریدنی ہوگی، جس کی متوقع لاگت سالانہ 1.2 بلین امریکی ڈالر ہوگی۔
اس نئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے وزارتِ قومی صحت نے پچھلے 7 ماہ مقامی ویکسین سازی کی حکمت عملی تیار کرنے میں صرف کیے۔ مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ انہوں نے ذاتی طور پر چین، انڈونیشیا اور سعودی عرب میں وزرائے صحت اور اس صنعت سے وابستہ افراد سے ملاقات کر کے تعاون، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ صرف خود کفالت حاصل کرنے کا خواہاں ہے بلکہ ویکسین سازی اور برآمدات کے لیے علاقائی مرکز بھی بننا چاہتا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق ملک کو اس وقت سالانہ تقریباً 1.4 ارب ویکسین کی ضرورت ہے۔ اقتصادی طور پر پیداوار کم از کم 3 ارب خوراک تک پہنچانی ہوگی اور اضافی خوراک بین الاقوامی منڈیوں کو برآمد کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ملک کی پہلی قومی ویکسین پالیسی بھی تیار کر لی گئی ہے اور وزیر اعظم کو پیش کر دی گئی ہے۔ اس پالیسی میں ویکسین الائنس کی تشکیل، منتخب مینوفیکچررز کو مخصوص ویکسین کی تقسیم اور تجارتی استحکام کے لیے حکومت کی بائے بیک گارنٹی شامل ہے۔
پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے سینئر وائس چیئرمین کامران ناصر نے کہا کہ مقامی ویکسین پیداوار کے لیے عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کا مقصد ایک کنسورشیم قائم کرنا ہے تاکہ پاکستان میں بڑا ویکسین پلانٹ قائم کیا جا سکے۔ ملک میں وقت کے ساتھ ایک سے زائد پلانٹس کے قیام کا بھی امکان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقامی سطح پر دلچسپی رکھنے والے گروپس بھی اس کنسورشیم میں شامل ہو سکتے ہیں تاکہ مقامی ویکسین پلانٹ ایک کامیاب منصوبہ بن سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ایک مقامی ویکسین پلانٹ قائم کرے تاکہ 31-2030 کے قریب ممکنہ طبی اور مالی بحران سے محفوظ رہا جا سکے۔
















