ذیابیطس میں شوگر فری یا نمکین بسکٹ کھانا کتنا خطرناک ہے؟

ذیابیطس کے مریض صرف پیکٹ کے اوپر لگے لیبل پر بھروسہ نہ کریں۔
شائع 10 مارچ 2026 01:35pm

اکثر ذیابیطس کے مریض یہ سمجھتے ہیں کہ چائے کے ساتھ ’شوگر فری‘ یا ’نمکین بسکٹ‘ کا استعمال ان کی صحت کے لیے بالکل محفوظ ہے، لیکن ماہرینِ غذائیت نے اس حوالے سے ایک نئی اور چونکا دینے والی حقیقت بیان کی ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے غذا پر خاص توجہ دینا ضروری ہے، اور بسکٹ اکثر ممنوع فہرست میں شامل ہوتے ہیں۔ مارکیٹ میں شوگر فری اور ذیابیطس-فرینڈلی لیبل والے بسکٹ بھی دستیاب ہیں، جو بظاہر محفوظ لگتے ہیں، لیکن یہ ہمیشہ محفوظ نہیں ہوتے۔

مشہور ماہرِ غذائیت ڈاکٹر ہرشیتا کہتی ہیں کہ مارکیٹ میں ’ذیابیطس فرینڈلی‘ یا ’شوگر فری‘ کے لیبل کے ساتھ ملنے والے بسکٹ درحقیقت آپ کی شوگر لیول کو تیزی سے بڑھا سکتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ان بسکٹوں میں استعمال ہونے والے اجزاء ہیں۔

ان بسکٹوں میں بنیادی جزوریفائنڈ وہائٹ فلور یعنی میدہ ہوتا ہے۔ میدہ خون میں گلوکوز کی سطح کو بہت تیزی سے بڑھاتا ہے۔ اکثر ریفائنڈ گندم کا آٹا ہوتا ہے، جو خون میں شکر کی سطح کو تیزی سے بڑھا سکتا ہے۔

علاوہ ازیں، ان میں مالٹوڈیکسٹرین جیسا پروسیسڈ اسٹارچ بھی پایا جاتا ہے، جو جسم میں تیزی سے گلوکوز میں تبدیل ہو جاتا ہے اور اس کا گلائسمک انڈیکس سفید چینی سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر ہرشیتا مزید بتاتی ہیں کہ ان ’ڈائیابیٹس فرینڈلی‘ بسکٹوں میں ریفائنڈ ویجیٹیبل آئل، ایمولسیفائر اور مصنوعی مٹھاس بھی شامل ہوتی ہے، جو جسم میں سوزش بڑھا سکتے ہیں۔

اکثر مریض یہ شکایت کرتے ہیں کہ وہ سالہا سال سے بغیر چینی کی چائے پی رہے ہیں لیکن پھر بھی ان کی شوگر کنٹرول میں نہیں آتی۔ ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ چائے کے ساتھ لیے جانے والے یہی شوگر فری یا نمکین بسکٹ ہیں۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ جیسے ہی مریضوں کی غذا سے ان بسکٹوں کو ہٹایا گیا، ان کا شوگر لیول نارمل رینج میں آنے لگا۔

شوگر کے مریضوں کے لیے ڈاکٹرز کا بہترین مشورہ یہ ہے کہ وہ بازار کے ’شوگر فری‘ لیبل والے بسکٹوں کے دھوکے میں آنے کے بجائے گھر کے بنے ہوئے اوٹس یا بغیر چھنے ہوئے آٹے کے بسکٹوں کو ترجیح دیں، جو صحت کے لیے ایک بہترین متبادل ثابت ہو سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ چائے کے ساتھ بسکٹ کے استعمال کو ترک کر کے گاجر، مالٹے اور کاجو سے تیار کردہ ہوم میڈ ’ڈپ‘ جیسے صحت بخش اسنیکس اپنائے جا سکتے ہیں، جو نہ صرف ذائقے دار ہیں بلکہ وٹامن اے، سی اور فائبر کی بدولت قوتِ مدافعت میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔

ذیابیطس کے مریضوں کو صرف پیکٹ کے اوپر لگے لیبل پر بھروسہ کرنے کے بجائے اس میں شامل اجزاء کو غور سے پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہیے تاکہ وہ انجانے میں اپنی شوگر لیول کو نقصان پہنچانے سے بچ سکیں۔