پاکستان میں موٹاپے اور ذیابیطس کی جدید ادویات کی مقامی سطح پر پیداوار شروع

پاکستان میں حالیہ رپورٹس اور سروے کے مطابق تقریباً 30 فیصد بالغ آبادی ذیابیطس میں مبتلا ہے
شائع 10 مارچ 2026 01:27pm

پاکستان میں دوا ساز کمپنیوں نے حال ہی میں جدید GLP-1 اور GIP پر مبنی ادویات متعارف کروائی ہیں تاکہ ذیابیطس اور موٹاپے کے شکار افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

پاکستان میں ذیابیطس اور موٹاپے کا مسئلہ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ ہر تین میں سے ایک بالغ شخص کو خون میں شکر کے زائد تناسب کا سامنا ہے، جس کے باعث پاکستان دنیا کے تیسرے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔

درآمدات کے علاوہ کچھ مقامی فارماسیوٹیکل کمپنیاں اب GLP-1 (Glucagon-Like Peptide-1) اور GIP (Glucose-Dependent Insulinotropic Polypeptide) بیسڈ ادویات کی مقامی سطح پر پیداوار اور فراہمی بھی شروع کر رہی ہیں تاکہ ملک میں ٹائپ 2 ذیابیطس اور موٹاپے کو قابو میں لایا جا سکے۔

وفاقی حکومت، عالمی ادارہ صحت اور انٹرنیشنل ڈائیابیٹیز فیڈریشن کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 34.5 ملین ہے۔

اس کے علاوہ نو ملین سے زائد پاکستانی افراد ابھی تک اس بیماری کی تشخیص سے محروم ہیں، جبکہ 57 فیصد خواتین اور 41 فیصد مرد وزن میں اضافے یا موٹاپے کا شکار ہیں۔ جس سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ سات گنا بڑھ جاتا ہے۔

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر قیصر وحید کے مطابق حالیہ رپورٹس اور سروے کے مطابق تقریباً 30 فیصد بالغ آبادی ذیابیطس میں مبتلا ہے، جس میں نوعمری میں ذیابیطس (ٹائپ 1) بھی شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے اب یہ جدید ادویات مقامی سطح پر سستے داموں فراہم کرنا شروع کر دی ہیں، کیوں کہ امپورٹ شدہ ادویات مہنگی تھیں۔ GLP-1 ادویات انسولین کو بہتر بناتی ہیں، ہاضمے کی رفتار کم کرتی ہیں اور بھوک کم کرتی ہیں، جبکہ ڈوئل GIP/GLP-1 ادویات اثر کو مزید بڑھاتی ہیں۔

پاکستان میں Ozempic، Zeptide اور Mounjaro جیسی ادویات انجیکشن کی شکل میں دستیاب ہیں، جو ہفتہ میں ایک بار صرف ڈاکٹر کی ہدایت پر دی جاتی ہیں۔ ٹیبلٹ کی شکل میں ادویات روزانہ استعمال کے لیے تجویز کی جا سکتی ہیں۔

ڈاکٹر قیصر وحید نے کہا کہ پاکستان میں صرف وہ ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں جو ترقی یافتہ ممالک میں پہلے سے متعارف ہو چکی ہوں۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کی ہدایات کے مطابق، فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو صرف SRA (Stringent Regulatory Authority) منظور شدہ ادویات ہی متعارف کرانے کی اجازت ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ عوام کو اپنی طرزِ زندگی بہتر بنانی ہوگی، متوازن غذا لینی ہوگی اور واک جیسے ورزشیں کرنی ہوں گی تاکہ خون میں شکر کا تناسب قابو میں رہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عالمی معیار کے کرکٹر وسیم اکرم نے ذیابیطس کو صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا اور ورزش کے ذریعے کنٹرول کیا ہے۔

ڈاکٹر قیصر وحید نے بتایا کہ مقامی فارما کمپنیوں نے یہ نئی ادویات چار خوراکوں پر مشتمل پیکٹ میں 5,000 سے 15,000 روپے میں متعارف کرائی ہیں، جب کہ امپورٹ شدہ ادویات کی قیمت 150,000 سے 300,000 روپے کے درمیان تھی۔

نوو نوردیسک فارما، جو پاکستان میں Ozempic فراہم کرتی ہے، نے کہا کہ ’ہماری GLP-1 تھراپیز دنیا بھر میں ذیابیطس اور موٹاپے کے علاج کے طریقے بدل رہی ہیں، اور پاکستان میں ہم صحت کے پیشہ وران اور حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ صرف پیچیدگیوں کے علاج کے بجائے ان کی روک تھام کی جا سکے‘۔

ڈاکٹر محمد علی عارف، جو ذیابیطس اور موٹاپے کے ماہر اور پروفیسر آف میڈیسنز ہیں، نے وضاحت کی کہ ٹائپ 2 ذیابیطس کی بنیادی وجہ انسولین ریزسٹنس ہے، یعنی جسم انسولین پیدا کر سکتا ہے مگر یہ مطلوبہ طریقے سے کام نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ ’انسولین ریزسٹنس کی سب سے بڑی وجہ موٹاپا یا زیادہ وزن ہے۔ اسی لیے ٹائپ 2 ذیابیطس اور موٹاپا ایک ساتھ کام کرتے ہیں اور صورتحال کو مزید خراب کرتے ہیں۔‘

ڈاکٹر عارف نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں غذا کا معیار خراب ہے، لوگ زیادہ ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس، فرائیڈ فوڈ، فاسٹ فوڈ اور پراسیسڈ فوڈ استعمال کرتے ہیں، اور ورزش یا جسمانی سرگرمیاں بہت کم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’اس بیماری کی جڑوں سے نمٹنا ضروری ہے، تعلیم اور گھر سے شروع ہو کر۔ والدین اور اساتذہ بچوں کو بتائیں کہ زیادہ وزن ہونا بیماری ہے، اسکول اور کالج کی کینٹینز میں صحت مند کھانے دستیاب ہوں، اور میٹھے مشروبات، فاسٹ فوڈ اور پراسیسڈ فوڈ مہنگے ہوں تاکہ لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوں۔‘

ڈاکٹر عارف نے زور دیا کہ ’اب ادویات بھی وزن کو کنٹرول کرنے اور ذیابیطس کو ممکنہ طور پر تاخیر سے شروع کرنے کے لیے دستیاب ہیں۔ ہمیں مجموعی حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ وزن کو قابو میں رکھنا، صحت مند غذا لینا، جسمانی سرگرمیاں کرنا اور ڈاکٹروں سے مشورہ کر کے وزن کم کرنے کی ادویات لینا ضروری ہے۔