نقصان کا ہرجانہ اور حقوق کی تسلیمی: ایران کے صدر نے جنگ بندی کی شرائط بتا دیں
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ جنگ بندی کا واحد راستہ یہ ہے کہ ایران کے جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے، گزشتہ حملوں اور نقصان کا ہرجانہ ادا کیا جائے اور بین الاقوامی ضمانت دی جائے کہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے حملے نہیں ہوں گے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سماجی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ جنگ صرف تب ختم ہو سکتی ہے جب ایران کے قانونی اور جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ معاوضے کی ادائیگی اور مستقبل میں کسی بھی قسم کی جارحیت کے خلاف مضبوط ضمانتیں بھی ضروری ہیں۔
پزشکیان نے پوسٹ میں لکھا کہ ’یہ جنگ، جو صیہونی ریاست اور امریکہ نے شروع کی ہے، صرف اس وقت ختم ہو سکتی ہے جب ایران کے جائز حقوق تسلیم کیے جائیں، معاوضے دیے جائیں اور مستقبل میں کسی بھی جارحیت سے بچاؤ کے لیے مضبوط اقدامات کیے جائیں۔‘
ایرانی حکام نے روس اور پاکستان کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت میں اس عزم کو بھی دہرایا۔
قبل ازیں صدر نے کہا تھا کہ تہران کا ہتھیار ڈالنا امریکیوں کا ’خواب ہے جسے وہ قبر میں لے جائیں گے‘، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے ’بلا شرط ہتھیار ڈالنے‘ کا مطالبہ کیا تھا۔
پزشکیان کا موقف واضح طور پر یہ ہے کہ ایران اپنے دفاعی اور قومی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرے گا، اور امن اس وقت ممکن ہے جب اس کے قانونی اور علاقائی حقوق کا احترام کیا جائے۔













