ایران کے خلاف جنگ جیت چکے لیکن وہاں سے جلد نکلنا نہیں چاہتے: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف جنگ جیت چکا ہے، تاہم واشنگٹن فوری طور پر وہاں سے نکلنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور جب تک تمام مقاصد حاصل نہیں ہوجاتے امریکی افواج ایران میں موجود رہیں گی۔
امریکی ریاست کینٹکی میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ گیارہ دنوں کے دوران امریکی افواج نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کیں جن کے نتیجے میں ایرانی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایرانی بحریہ کو سمندر میں ڈبو دیا جبکہ ایرانی فضائیہ کو بھی مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق کارروائیوں کے دوران ایران کے 58 بحری جہاز تباہ کیے گئے اور سمندر میں نصب 31 بارودی سرنگوں کو بھی ناکارہ بنا دیا گیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اس جنگ میں کامیابی حاصل کر چکا ہے لیکن ابھی فوری طور پر وہاں سے انخلا نہیں کرے گا۔ ان کے بقول جب تک امریکا کے تمام اسٹریٹجک مقاصد مکمل نہیں ہو جاتے، امریکی فوجی ایران میں موجود رہیں گے۔
خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے عالمی تیل بحران پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی توانائی ایجنسی نے اپنے پٹرولیم ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے جس سے عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی میں اضافہ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب یہ تیل مارکیٹ میں آئے گا تو عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی آئے گی۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ تیل کی قیمتوں کو کم رکھنے کے لیے امریکا اپنے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر سے بھی فائدہ اٹھائے گا۔
امریکی صدر کے اس بیان کے بعد عالمی سطح پر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور توانائی کی منڈی کی صورتحال پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔












