چینی کرنسی میں ادائیگی کی شرط پر پاکستانی کنٹینر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے دیا گیا: مشاہد حسین

’یہ ایک زبردست تبدیلی ہے، ایران اب علاقائی ایجنڈا سیٹ کر رہا ہے جبکہ امریکا بے بسی سے دیکھ رہا ہے۔‘
شائع 16 مارچ 2026 11:05pm

سینیٹر مشاہد حسین سید نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے پاکستان کے آئل ٹینکر ’کراچی‘ کو گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ان کے مطابق شپمنٹ کی ادائیگی چینی کرنسی یوآن میں کیے جانے کے بعد ایرانی حکام نے ٹینکر کو خطرناک سمندری راستے سے گزرنے کی اجازت دی۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ ایران نے پاکستان کے آئل ٹینکر ’کراچی‘ کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی، جو ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئل شپمنٹ کی ادائیگی چینی کرنسی یوآن میں کیے جانے کے بعد یہ اجازت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک زبردست تبدیلی ہے، ایران اب علاقائی ایجنڈا سیٹ کر رہا ہے جبکہ امریکا بے بسی سے دیکھ رہا ہے۔‘

دوسری جانب بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلوم برگ نے پیر کو جہازوں کی نقل و حرکت کے ڈیٹا کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے زیرِ انتظام آئل ٹینکر ’کراچی‘ نے اتوار کے روز آبنائے ہرمز عبور کی۔

رپورٹ کے مطابق پیر کی صبح پاکستان کے پرچم بردار ’افرا میکس‘ ٹینکر کو عمان کے شہر صحار کے قریب سمندری حدود میں دیکھا گیا۔

جریدے کے مطابق اس حوالے سے پی این ایس سی اور پاکستان کی وزارتِ پیٹرولیم سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی تاہم فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق 2022 میں تیار کیا گیا آئل ٹینکر ’کراچی‘ آبنائے ہرمز عبور کرتے ہوئے ایران کے جزیرے لارک کے اطراف سے گزرا۔ بعد ازاں جہاز ایران کے ساحل کے قریب مشرق کی جانب سفر کرتا رہا اور اتوار کی شام اس نے آبنائے ہرمز عبور کر لی۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 20 فیصد خام تیل اور ایل این جی کی ترسیل آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی ہے، اس لیے اس آبی گزرگاہ کو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

حالیہ کشیدگی کے دوران ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے ردعمل میں اس اہم سمندری راستے میں نقل و حرکت محدود کر دی تھی اور اعلان کیا تھا کہ امریکی اور اتحادی ممالک کے جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

تاہم ایرانی حکام نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ دوست ممالک کے تجارتی جہازوں کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور جہازوں پر ممکنہ حملوں کے خدشات کے باعث عالمی منڈی اور معیشت پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اتحادی ممالک، خصوصاً چین پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت بحال کرنے کے لیے امریکا کا ساتھ دیں، تاہم اب تک کسی ملک نے کھل کر حمایت کا اعلان نہیں کیا۔

برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا اور جاپان نے بھی اس معاملے پر محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کسی فوجی کارروائی یا معاونت سے گریز کیا ہے۔