ایرانی تیل پر پابندیوں کا ممکنہ خاتمہ، خام تیل سستا ہوگیا
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کے ممکنہ خاتمے کے عندیے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں لندن برینٹ کروڈ کی قیمت میں 1 ڈالر 30 سینٹس فی بیرل کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد برینٹ خام تیل 107 ڈالر 35 سینٹس فی بیرل کی سطح پر آ گیا ہے۔
اسی طرح مئی کے لیے امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کے سودے 93 ڈالر 93 سینٹس فی بیرل پر کیے جا رہے ہیں، جس میں 1 ڈالر 62 سینٹس فی بیرل کی کمی ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے ایرانی تیل کو عالمی منڈی میں دوبارہ لانے کے امکان نے قیمتوں پر دباؤ کم کیا ہے، جس کے باعث تیل سستا ہوا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آئی تھی اور لندن برینٹ کروڈ کی قیمت 119 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی۔ اس صورتحال پر تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر کشیدگی میں اضافہ جاری رہا تو خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کار پریانکا سچدیوا کے مطابق عالمی رہنماؤں کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی ضرورت تسلیم کیے جانے کے بعد جمعہ کی صبح تیل کی قیمتوں میں شامل ”وار پریمیم“ میں کچھ کمی آئی ہے، تاہم مارکیٹ اب بھی آبنائے ہرمز کی صورتحال کے حوالے سے حساس رہے گی، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ ٹینکرز کی محفوظ گزرگاہ کے لیے مذاکرات ہو سکتے ہیں، لیکن ترسیلی نظام کی مکمل بحالی میں کافی وقت لگ سکتا ہے، اور اس دوران اگر برآمدی تنصیبات یا بحری راستوں کو کوئی نقصان پہنچا تو قیمتوں میں دوبارہ تیزی آ سکتی ہے۔
دوسری جانب برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز اور جاپان نے ایک مشترکہ بیان میں آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے دوبارہ نہ کرنے کا کہا ہے۔
امریکی تیل کی فراہمی میں اضافے کے حوالے سے نارتھ ڈکوٹا کے ریگولیٹر نے بتایا ہے کہ ریاست میں خام تیل کی پیداوار رواں اور آئندہ مہینوں میں بڑھنے کی توقع ہے، کیونکہ آپریٹرز غیر فعال کنوؤں کو دوبارہ فعال کر رہے ہیں اور موسم سرما کی پابندیاں ختم کی جا رہی ہیں۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ سرگرمیوں کی رفتار کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تیل کی قیمتیں کتنے عرصے تک بلند رہتی ہیں، جبکہ بڑی آئل کمپنیوں کے بجٹ پہلے ہی طے کیے جا چکے ہیں۔
















