پُراسرار تصاویر، مزاحیہ مواد؛ امریکا اور ایران کی سوشل میڈیا پر انوکھی جنگ
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ اب صرف فوجی اور سفارتی سطح تک محدود نہیں رہی۔ دونوں فریق اب دنیا کو متوجہ کرنے اور اپنے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے سوشل میڈیا پوسٹس اور میمز کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔
ایران جنگ کے دوران دنیا نے کئی ایسے واقعات کا مشاہدہ کیا جو تاریخ میں اس سے قبل دیکھنے میں نہیں آئے تھے۔ اس میں ایک نیا اضافہ ’میڈیا وار‘ ہے جو اب باقاعدہ سرکاری سطح پر لڑی جارہی ہے۔
جعمرات کے روز وائٹ ہاؤس کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اچانک عجیب و غریب پوسٹس شیئر ہونا شروع ہوئیں۔ ان پوسٹس میں کچھ دھندلی تصاویر شامل تھیں، جو صارفین کے مطابق امریکی صدر’ڈونلڈ ٹرمپ‘ اور نائب صدر ’جے ڈی وینس‘ کی تھیں۔
اس کے بعد مزید ایک پوسٹ میں ’کچھ نیا‘ (Something New) جب کہ ایک مبہم ویڈیو میں ’دلچسپ اعلان‘ (Exciting Announcement Tomorrow) کا پیغام شیئر کیا گیا، یہ ویڈیو اس طرح بنائی گئی ہے کہ اسے ریورس کرنے پر درست مفہوم سمجھ آتا ہے۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے اکاؤنٹ سے ایک اور ویڈیو شیئر کی گئی تھی جس میں ایک عورت کی آواز میں یہ جملہ ’یہ بہت زبردست ہے۔ جلد لانچ ہو رہا ہے، ہے نا؟‘ سنائی دیتا ہے۔ جواب میں ایک مردانہ آواز نے اس کی تصدیق کی۔
یہ سب عین اس وقت ہوا جب ایک طرف امریکا ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پر تول رہا ہے وہیں دوسری جانب یہ باز گشت بھی جاری ہے کہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے زمینی فوجیں بھی اتاری جاسکتی ہیں۔
امریکی آفیشلز نے میڈیا کی جانب سے پوچھنے پر صرف اتنا بتایا کہ جو بھی ہوگا جلد ہی پتہ چل جائے گا۔
سرکاری اکاؤنٹس سے پُراسرار پوسٹس نے سوشل میڈیا صارفین میں تجسس اور قیاس آرائیوں میں مزید اضافہ کیا اور یہ تاثر پیدا ہونے لگا کہ یہ تشہیری مہم ایران جنگ کے حوالے سے کسی بڑے اعلان کا اشارہ ہے۔
تاہم یہ معمہ اس وقت حل ہوا جب وائٹ ہاؤس نے اپنی نئی ’موبائل ایپ‘ لانچ کرنے کا اعلان کیا، یہ پراسرار مہم دراصل اسی لانچنگ کا حصہ تھی۔
اس ایپ کا مقصد عوام کو براہ راست لائیو اسٹریمنگ اور ریئل ٹائم معلومات فراہم کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی روایتی میڈیا کو بائی پاس کر کے براہ راست عوام تک رسائی کی حکمت عملی کا تسلسل ہے۔
دوسری جانب ایران اس ’انفارمیشن وار فیئر‘ میں پیچھے نہیں بلکہ بھرپور مقابلہ کر رہا ہے۔ ایرانی حکام اب صرف بیانات تک محدود نہیں رہے بلکہ سوشل میڈیا ٹرینڈز کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے ادارے ’خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز‘ کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری سوشل میڈیا پر اپنے منفرد انداز اور بیانات کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
ایران ایمبیسی ساؤتھ افریقہ کے ایکس اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس میں وہ ایک ہاتھ سے فلم بندی کرتے اور دوسرے ہاتھ میں مشروب تھامے اسکیٹنگ کرتے نظر آرہے ہیں۔
عقب میں لانچ شدہ میزائیل اور لانچرز بھی نظر آرہے ہیں اور ساتھ ہی کیپشن درج ہے کہ ’انار کا جوس پئیں تاکہ تل ابیب پر درست نشانہ لگایا جاسکے‘۔
اگر چہ اسے مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ویڈیو قرار دیا جارہا ہے، تاہم یہ بات اہم ہے کہ اسے جس اکاؤنٹ سے شیئر کیا گیا ہے وہ ایرانی سفارت خانے سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔
ایک ویڈیو میں ابراہیم ذوالفقاری نے امریکی اہداف پر حملے کے بعد صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا مشہور جملہ ”You are fired“ کہا، یہ ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہے۔
بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں امریکا کی جانب سے جنگ میں فتح کے دعوے پر پیغام میں کہا کہ ’جنگ سوشل میڈیا پر نہیں بلکہ میدان میں جیتی جاتی ہے، ہم دونوں محاذوں پر تیار ہیں‘۔
حالیہ دنوں میں جب صدر ٹرمپ نے جنگ میں امریکا کی فتح اور پھر مذاکرات کا اعلان کیا تو ابراہیم ذوالفقاری دوبارہ سامنے آئے۔
انہوں ایک ویڈیو میں میزائل لانچ کے ساتھ طنزیہ انداز میں پیغام دیا کہ ’جنگ سوشل میڈیا پر نہیں، میدان جنگ میں جیتی جاتی ہے، ہم دونوں فرنٹس پر تیار ہیں‘۔
اسی کے بعد ایک اور ویڈیو میں ابراہیم ذوالفقاری نے پھر سے صدر ٹرمپ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکا خود اپنے آپ سے ہی مذاکرات کر رہا ہے۔
اسی طرح ایران کے وزیرِ خارجہ بھی انٹرویوز میں جہاں سنجیدہ گفتگو کرتے نظر آتے ہیں وہیں اکثر ان کے امریکی اور دیگر غیر ملکی ٹی وی میزبانوں سے دلچسپ مکالمے سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوتے ہیں۔
امریکی چینل کو انٹرویو کے دوران میزبان نے سوال کیا کہ ایران کی جیل میں امریکی قید ہے، کیا وہ محفوظ ہیں؟
عباس عراقچی نے ترکی بہ ترکی جواب دے کر اینکر کو لاجواب کردیا۔ انہوں نے کہا ’اگر امریکا اور اسرائیل نے جیلوں پر بمباری نہ کی تو یقین دلاتا ہوں کہ وہ محفوظ رہیں گے‘۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکا کی زمینی فوج ایران میں اتارنے پر طنز کرتے ہوئے ’ایکس‘ پر پیغام میں طنز کیا کہ ’امریکا دیگر ممالک میں اپنے فوجیوں کو محفوظ نہیں رکھ سکتا تو سوچیں ایران میں فوج اتارنے کا نتیجہ کیا ہوگا‘۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران نے جس طرح اب ’مِیم کلچر‘ اور ڈیجیٹل محاذ ںھی سنھبال لیا ہے، اس کی اخلاقی برتری کا بیانیہ بھی مقبول ہورہا ہے۔
یہ سب کچھ نہ صرف سوشل میڈیا پر امریکی اور اسرائیلی حکومت کے لیے ابھی مشکلات پیدا کررہا ہے وہیں موجودہ حکمرانوں کے لیے مستقبل کی ملکی سیاست میں بھی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔