ایران جنگ روکنے کا مشن، چار ممالک کا اہم اجلاس آج پاکستان میں ہوگا

چار ممالک کے وزرائے خارجہ خطے کی موجودہ صورتحال، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ بندی کے امکانات پر تفصیلی غور کریں گے۔
شائع 29 مارچ 2026 08:53am

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ روکنے کے لیے پاکستان سفارتی سطح پر سرگرم ہو گیا ہے اور اہم علاقائی ممالک کو ایک میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی سلسلے میں اسلام آباد میں آج ایک اہم اجلاس ہونے جا رہا ہے جس میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔

دفتر خارجہ کے مطابق مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی، ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ خطے کی موجودہ صورتحال، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ بندی کے امکانات پر تفصیلی غور کریں گے۔

اجلاس میں مختلف تجاویز زیر بحث آئیں گی جن کا مقصد تنازع کو کم کرنا اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے پورے خطے کو متاثر کر رکھا ہے اور عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ کی مصروفیات میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے ملاقات بھی شامل ہے جہاں انہیں پاکستان کی سفارتی کوششوں اور امن کے لیے تجاویز سے آگاہ کیا جائے گا۔

اس ملاقات میں باہمی تعاون، علاقائی استحکام اور مستقبل کی حکمت عملی پر بھی بات چیت متوقع ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان نیک نیتی کے ساتھ خطے میں امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران سمیت تمام فریقین کے ساتھ رابطے میں ہیں اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے برادر ممالک سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور یہ دورہ مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا ایک موقع فراہم کرے گا۔