ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے، دی اکنامسٹ کا دعویٰ

امریکی صدر اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ یہ جنگ شروع کرنا ہی ایک غلط فیصلہ تھا
شائع 13 اپريل 2026 03:59pm

برطانوی جریدے دی اکنامسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کا راستہ اختیار نہیں کریں گے کیونکہ وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ انہیں ابتدا میں ہی یہ جنگ شروع نہیں کرنی چاہیے تھی۔

دی اکنامسٹ کی رپورٹ کے مطابق ہر جنگ میں کم از کم ایک فریق کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اگر ایران کے ساتھ جاری کشیدگی جنگ بندی پر ختم ہوتی ہے تو اس کا سب سے بڑا نقصان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف اس جنگ نے امریکی طاقت کے استعمال کے نئے انداز سے متعلق صدر ٹرمپ کے وژن کی کمزوری کو واضح کر دیا ہے۔

جریدے کے مطابق اب ٹرمپ اس حقیقت کو سمجھ چکے ہیں کہ یہ جنگ شروع کرنا ان کی غلطی تھی، اسی لیے وہ آئندہ کسی نئی جنگ سے گریز کریں گے۔

دی اکنامسٹ کا کہنا ہے کہ ایران کو تباہ کرنے سے متعلق ٹرمپ کے سخت اور دھمکی آمیز بیانات اب ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے وہ اپنی پسپائی کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ نئی جنگ عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کرے گی اور ان کے ’سنہری دور‘ کے دعوے کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کو محفوظ اور خوشحال بنانا، ایرانی حکومت کا خاتمہ اور ایران کو مستقل طور پر جوہری طاقت بننے سے روکنا، یہ تین بڑے اہداف تھے، تاہم یہ مقاصد بڑی حد تک حاصل نہیں ہو سکے۔

دوسری جانب ایران کے پاس بھی پسپائی اختیار کرنے کی وجوہات موجود ہیں۔ اس کی قیادت مسلسل نشانے پر ہے جبکہ توانائی اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو پہنچنے والا نقصان ملک کو چلانا مشکل بنا سکتا ہے۔ ایران بھی پابندیوں کے خاتمے کا خواہاں ہے۔

تاہم دی اکنامسٹ کے مطابق ایران کو مذاکرات میں یہ احساس بھی ہے کہ وقت اس کے حق میں ہے کیونکہ امریکا طویل عرصے تک اپنی فوج کو حملے کے لیے تیار نہیں رکھ سکتا۔ ایران کی بحری اور فضائی طاقت محدود ہے اور اس کے کئی میزائل اور ڈرون ختم ہو چکے ہیں یا استعمال ہو چکے ہیں، جبکہ نئی تیاری کے لیے اسے کمزور معیشت جیسے مسائل کا سامنا ہے جو برسوں سے امریکی اور اسرائیلی حملوں سے متاثر ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ جنگ جوہری خطرات میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔ اگرچہ ایران کی تنصیبات کو نقصان پہنچا، لیکن اس کے پاس اب بھی اتنا افزودہ یورینیم موجود ہے کہ وہ کئی بم تیار کر سکتا ہے۔ مستقبل میں خود کو محفوظ بنانے کے لیے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا رجحان بڑھ سکتا ہے، جس سے خطے میں جوہری پھیلاؤ کا خدشہ ہے۔

دی اکنامسٹ کا کہنا ہے کہ امریکا میں اسرائیل کے حوالے سے رائے بھی منفی ہوتی جا رہی ہے، جو اس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتی ہے۔

رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ اس جنگ نے ثابت کیا ہے کہ محض طاقت کافی نہیں ہوتی۔ اگرچہ امریکا کی عسکری برتری واضح تھی، لیکن ایران نے محدود وسائل کے ساتھ غیر متوازن جنگ لڑی۔ بغیر واضح حکمت عملی کے طاقت کا استعمال خود امریکا کی قوت کو کمزور کر گیا۔