یورینیم افزودگی پر پابندی کی مدت ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے میں رکاوٹ کیوں بن رہی ہے؟

واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران کم از کم 20 سال تک یورینیم کی افزودگی روک دے جبکہ ایران صرف پانچ سال کی مدت پر راضی ہوا ہے۔
شائع 15 اپريل 2026 11:56am

امریکا اور ایران کے درمیان جاری حالیہ جنگ کو ختم کرنے اور مستقل جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں لیکن ان مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام اور خاص طور پر یورینیم کی افزودگی پر پابندی کی مدت ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے۔

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران کم از کم 20 سال تک یورینیم کی افزودگی روک دے جبکہ ایران صرف پانچ سال کی مدت پر راضی ہوا ہے۔

امریکا کا اصرار ہے کہ ایران نہ صرف ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا وعدہ کرے بلکہ ایسی صلاحیت سے بھی دستبردار ہو جائے جس سے وہ مستقبل میں یہ ہتھیار تیار کر سکے۔

اس معاملے کو سمجھنے کے لیے عام آدمی کے لیے یورینیم کی افزودگی کو سمجھنا بہت ضروری ہے تاکہ اس تنازع کی گہرائی معلوم ہو سکے۔

یورینیم ایک قدرتی تابکار مادہ ہے جو زمین، مٹی اور پانی میں پایا جاتا ہے اور اسے افزودہ کر کے بجلی گھروں میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

قدرتی یورینیم میں ایک خاص حصہ جسے ’یو 235‘ کہا جاتا ہے، بہت کم مقدار میں ہوتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ایٹمی ادارے کے مطابق افزودگی وہ عمل ہے جس کے ذریعے اس تابکار حصے کی مقدار کو بڑھایا جاتا ہے۔

اگر یہ مقدار 20 فیصد سے کم ہو تو اسے سویلین کاموں جیسے بجلی بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اگر یہ 90 فیصد تک پہنچ جائے تو یہ ایٹم بم بنانے کے قابل ہو جاتی ہے۔

ایران اس وقت گیس کی شکل میں یورینیم کو تیزی سے گھومنے والی مشینوں یعنی سینٹری فیوجز میں ڈال کر اسے افزودہ کرتا ہے۔

اس وقت ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام یورینیم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ ہو چکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سطح سے 90 فیصد تک پہنچنا بہت آسان اور تیز عمل ہے اور اتنی مقدار سے نظریاتی طور پر 10 سے زائد ایٹمی وار ہیڈز بنائے جا سکتے ہیں۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے حال ہی میں قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو میں کہا تھا کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کا تقریباً نصف حصہ شاید اب بھی اصفہان کی زیرِ زمین تنصیبات میں موجود ہے۔

تاہم جون 2025 کی مختصر جنگ اور حالیہ حملوں میں ایران کی ایٹمی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کے بعد یہ واضح نہیں کہ اس ذخیرے کی موجودہ حالت کیا ہے۔

امریکا اور اسرائیل طویل عرصے سے ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کا الزام لگاتے آئے ہیں جبکہ ایران کا موقف ہے کہ اس کا پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

2015 میں اوباما دور میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت ایران نے پابندیوں کے خاتمے کے بدلے اپنے پروگرام کو محدود کیا تھا، لیکن 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

صدر ٹرمپ کا موقف رہا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت سے مکمل محروم ہونا چاہیے۔

یہی وجہ ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران بھی واشنگٹن نے ایرانی ایٹمی تنصیبات پر بمباری کی اور اب ٹرمپ مبینہ طور پر اس ذخیرے پر قبضہ کرنے کے لیے خصوصی دستے بھیجنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کی اصل وجہ یہی مدت کا تنازع تھا۔

امریکا 20 سالہ پابندی پر بضد ہے جبکہ ایران پانچ سال سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحث کے پیچھے کوئی تکنیکی وجہ نہیں بلکہ یہ دونوں حکومتوں کے لیے سیاسی ساکھ کا مسئلہ ہے۔

یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے پروفیسر ایم وی رمن نے الجزیرہ کو بتایا کہ ٹرمپ چاہتے تھے ایران پروگرام بالکل ختم کر دے جبکہ ایران اس پر کبھی راضی نہیں ہوا، اب وہ ایک دوسرے کے قریب آنے کی کوشش تو کر رہے ہیں لیکن 20 سال اور پانچ سال کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔

مذاکرات میں شامل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک الگ بات ہے کہ ایرانی کہیں کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائیں گے، لیکن ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ ایسا نظام وضع کیا جائے جو اس بات کی ضمانت دے سکے کہ ایسا نہیں ہوگا۔

دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے لیے 20 سالہ پابندی ایک بڑی کامیابی ہو گی جسے وہ اپنی جنگ کی جیت کے طور پر پیش کر سکیں گے۔

اس وقت پاکستان دونوں فریقین کو مذاکرات کے دوسرے دور پر راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اس تعطل کو ختم کیا جا سکے۔