جے ڈی وینس مذاکرات کے دوسرے دور میں بھی امریکی وفد کی قیادت کریں گے: اے بی سی نیوز
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات آئندہ جمعہ سے پہلے متوقع ہیں، جب کہ اسلام آباد میں غیرمعمولی سیکیورٹی انتظامات اور سرگرمیاں اس امکان کو تقویت دے رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ امریکی نمائندے مذاکرات کے لیے کل اسلام آباد پہنچیں گے تاہم ایران کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے حوالے سے تاحال کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔
الجزیرہ نے اپنی ایک رپورٹ میں پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ان کے اندازے کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات آئندہ چند روز میں متوقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نتیجہ مختلف زمینی حقائق اور حالیہ سرگرمیوں کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکی فضائیہ کے دو کارگو طیارے راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر لینڈ کر چکے ہیں جب کہ ایئرپورٹ سے ریڈ زون تک جانے والی سڑکوں کو بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
اتوار کے روز اسلام آباد اور اطراف میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد کے اہم ہوٹلوں کو بھی خالی کرایا جا رہا ہے اور جمعہ تک بکنگ بند کردی گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق شہر میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی دارالحکومت اور اطراف میں ہیوی ٹرانسپورٹ اور پبلک بسوں کی آمدورفت محدود کردی گئی ہے، جب کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ اور بھاری ٹریفک پر تاحکمِ ثانی پابندی عائد کردی گئی ہے۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں میٹرو بس سروس کو بھی پمز اسٹیشن سے پاک سیکرٹریٹ تک مکمل طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 11 اپریل کو امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور اسلام آباد کے سیرینا ہوٹل میں ہوا تھا، جس کے بعد اب ان غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کو ممکنہ دوسرے دور کی تیاریاں قرار دیا جارہا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور کے لیے شہر میں تقریباً 20 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جن میں پنجاب پولیس، رینجرز، اسلام آباد پولیس اور پاک فوج کے دستے شامل ہوں گے۔
ریڈ زون میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جب کہ اہم شاہراہوں کے اطراف پرچم آویزاں کیے جا رہے ہیں اور گرین بیلٹس کو بھی رنگ برنگے پھولوں سے سجایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے ہفتے کی شب قوم سے خطاب میں کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی میں پھر اضافے کا امکان ہے تاہم مذاکرات کا عمل جاری ہے اور ایران ہر ضروری اقدام کے لیے تیار ہے۔
باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ پاکستان سمیت مختلف ممالک کے ذریعے ایران تک تجاویز پہنچائی گئی ہیں جن کا سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پائیدار امن کا خواہاں ہے لیکن امریکا پر عدم اعتماد برقرار ہے۔ انہوں نے اس خواہش ظاہر کی کہ ایران ایسا مستقل حل چاہتا ہے جو جنگ بندی کے بعد دوبارہ تصادم کے خطرات کو ختم کر سکے۔
















