امریکا ایران مذاکرات: جے ڈی وینس دوسرے مرحلے میں پاکستان آئیں گے یا نہیں؟

امریکی فضائیہ کے دو کارگو طیارے راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر لینڈ کر چکے ہیں: الجزیرہ کا دعویٰ
شائع 19 اپريل 2026 07:48pm

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ممکنہ دوسرے مرحلے کے لیے اسلام آباد میں تیاریاں تیز ہوگئی ہیں، تاہم پاکستانی حکام یا ایران کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نمائندوں کی پیر کے روز پاکستان روانگی کا اعلان کیا ہے تاہم اس وفد کی قیادت جے ڈی وینس ہی کریں گے یا کوئی اور، اس حوالے سے متضاد بیانات سامنے آرہے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق وائٹ ہاؤس نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے پاکستان آنے کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی امریکی وفد کا حصہ ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ حتمی معاہدہ طے پانے کی صورت میں صدر ٹرمپ نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا تو اس صورت میں نائب صدر جے ڈی وینس کو امریکا واپس جانا پڑے گا۔ جس کی وجہ امریکی سیکرٹ سروس کی وہ پالیسی ہے جس کے تحت صدر اور نائب صدر کو بیک وقت ایک ہی مقام پر رکھنے سے گریز کیا جاتا ہے، یہی اصول اندرونِ ملک سفر کے دوران بھی لاگو ہوتا ہے۔

اس سے قبل اے بی سی نیوز کے نمائندہ برائے وائٹ ہاؤس جوناتھن کارل نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر کے حوالے سے بتایا تھا کہ اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے جے ڈی وینس کو امریکی وفد کی قیادت کی سربراہی سونپی گئی ہے۔

تاہم کچھ دیر بعد ایک اور پوسٹ میں انہوں نے انکشاف کیا کہ صدر ٹرمپ نے ٹیلی فونک گفتگو میں انہیں بتایا ہے کہ جے ڈی وینس اسلام آباد نہیں جارہے ہیں۔ امریکی صحافی کے مطابق صدر ٹرمپ نے بتایا کہ سیکرٹ سروس کے لیے 24 گھنٹوں کے مختصر نوٹس پر سیکیورٹی انتظامات کرنا ممکن نہیں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز خود بھی سوشل میڈیا پر بیان میں اعلان کیا تھا کہ ایران سے مذاکرات کے لیے امریکی نمائندے کل شام اسلام آباد پہنچیں گے تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان وفد میں کون کون شامل ہوگا۔

اُدھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے ہفتے کی شب قوم سے خطاب میں کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی میں پھر اضافے کا امکان ہے تاہم مذاکرات کا عمل جاری ہے اور ایران ہر ضروری اقدام کے لیے تیار ہے۔

باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ پاکستان سمیت مختلف ممالک کے ذریعے ایران تک تجاویز پہنچائی گئی ہیں جن کا سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پائیدار امن کا خواہاں ہے لیکن امریکا پر عدم اعتماد برقرار ہے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ ایران ایسا مستقل حل چاہتا ہے جو جنگ بندی کے بعد دوبارہ تصادم کے خطرات کو ختم کر سکے۔

الجزیرہ نے اپنی ایک رپورٹ میں پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ان کے اندازے کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات آئندہ چند روز میں متوقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نتیجہ مختلف زمینی حقائق اور حالیہ سرگرمیوں کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکی فضائیہ کے دو کارگو طیارے راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر لینڈ کر چکے ہیں جب کہ ایئرپورٹ سے ریڈ زون تک جانے والی سڑکوں کو بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

اتوار کے روز اسلام آباد اور اطراف میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد کے اہم ہوٹلوں کو بھی خالی کرایا جا رہا ہے اور جمعہ تک بکنگ بند کردی گئی ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق شہر میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی دارالحکومت اور اطراف میں ہیوی ٹرانسپورٹ اور پبلک بسوں کی آمدورفت محدود کردی گئی ہے، جب کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ اور بھاری ٹریفک پر تاحکمِ ثانی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

راولپنڈی اور اسلام آباد میں میٹرو بس سروس کو بھی پمز اسٹیشن سے پاک سیکرٹریٹ تک مکمل طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 11 اپریل کو امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور اسلام آباد کے سیرینا ہوٹل میں ہوا تھا، جس کے بعد اب ان غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کو ممکنہ دوسرے دور کی تیاریاں قرار دیا جارہا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور کے لیے شہر میں تقریباً 20 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جن میں پنجاب پولیس، رینجرز، اسلام آباد پولیس اور پاک فوج کے دستے شامل ہوں گے۔

ریڈ زون میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جب کہ اہم شاہراہوں کے اطراف پرچم آویزاں کیے جا رہے ہیں اور گرین بیلٹس کو بھی رنگ برنگے پھولوں سے سجایا جا رہا ہے۔