ایپل کے سی ای او کا ایک دہائی سے زائد عرصے بعد مستعفی ہونے کا اعلان
دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اعلان کیا ہے کہ طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے سی ای او ٹِم کُک اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں۔ وہ موسمِ گرما تک بطور سی ای او کام جاری رکھیں گے تاکہ منتقلی کا عمل مکمل ہو سکے، جس کے بعد وہ بورڈ کے ایگزیکٹو چیئرمین بن جائیں گے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق کمپنی کے سینئر نائب صدر برائے ہارڈویئر انجینئرنگ جان ٹرنس یکم ستمبر سے ایپل کے نئے سربراہ ہوں گے۔
ٹِم کُک نے اپنے بیان میں ایپل کمپنی کے ساتھ جڑے رہنے کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز قرار دیا اور کہا کہ ان کا اگلا قدم الوداعی نہیں بلکہ منتقلی ہے۔
یہ پیش رفت 2025 کے اواخر میں ایپل کی اعلیٰ قیادت میں متعدد تبدیلیوں کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں اے آئی چیف اور دیگر اہم عہدیداران کی رخصتی شامل ہے۔
ٹِم کُک نے 2011 میں سی ای او کا عہدہ سنبھالا تھا اور ایپل کو آئی فون سے آگے بڑھاتے ہوئے سروسز، ویئریبلز اور صحت جیسے شعبوں میں وسعت دی۔
ان کے دور میں ایپل واچ، ایئر پوڈز اور ایپل ٹی وی پلس جیسی مصنوعات سامنے آئیں جبکہ کمپنی کا سروسز بزنس آئی فون کے بعد دوسرا بڑا شعبہ بن گیا۔
ٹِم کُک نے کمپنی کو کووڈ-19 وبا اور امریکا-چین تجارتی کشیدگی جیسے اہم ادوار میں بھی سنبھالا، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے امریکا میں 600 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا وعدہ بھی کیا۔
تاہم حالیہ عرصے میں ایپل کو مصنوعی ذہانت اور ورچوئل ریئلٹی میں چیلنجز کا سامنا رہا، جہاں ویژن پرو ہیڈسیٹ محدود مقبولیت حاصل کر سکا اور سری کی اپڈیٹ بھی مؤخر ہوئی۔
آئندہ کے سی ای او جان ٹرنس 2001 سے ایپل کے ساتھ وابستہ ہیں اور آئی پیڈ، ایئر پوڈز اور حالیہ کم قیمت میک بک نیو جیسے منصوبوں میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں۔ ان کے دور میں سری، آئی فون اور ممکنہ فولڈ ایبل آئی فون میں بڑی اپڈیٹس متوقع ہیں۔
















