امریکی نیوی کا ایرانی بحری جہاز پر میزائل حملہ، مذاکرات پر سوال اُٹھ گئے

امریکا نے تجارتی جہاز پر فائرنگ کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے: ترجمان خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز
اپ ڈیٹ 20 اپريل 2026 10:37am

امریکی نیوی نے خلیج عمان میں ایرانی پرچم تلے رجسٹرڈ ایک بڑے تجارتی جہاز ’ایم وی توسکا‘ پر حملہ کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اس کارروائی کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امریکی میرینز نے جہاز پر چڑھ کر اس کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اب یہ جہاز مکمل طور پر امریکا کی تحویل میں ہے۔

عالمی میرین ڈیٹا کے مطابق 900 فٹ لمبا یہ کنٹینر شپ طیارہ بردار جہاز جتنا وزنی ہے اور حملے سے کچھ دیر پہلے اس کی رفتار انتہائی کم ہو گئی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ امریکی نیوی نے ایرانی جہاز پر گائیڈڈ میزائل فائر کیا جس سے جہاز کے انجن روم میں سوراخ ہو گیا۔

صدر ٹرمپ کے مطابق توسکا نامی اس جہاز نے امریکی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی تھی، اسی لیے اسے نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اس وقت یہ جہاز امریکی نیوی کے قبضے میں ہے۔

دوسری جانب ایرانی فوج نے اس کارروائی کو بحری قزاقی اور سیز فائر معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ایرانی جوائنٹ ملٹری کمانڈ کا کہنا ہے کہ یہ ایک تجارتی جہاز تھا جو چین سے ایران آ رہا تھا، امریکا نے اس کا نیوی گیشن سسٹم ناکارہ بنا کر اس پر قبضہ کیا ہے۔

ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے ترجمان نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے تجارتی جہاز پر فائرنگ کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے اور ایران کی مسلح افواج جلد ہی اس بحری قزاقی کا بھرپور جواب دیں گی۔

ایرانی فوج نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ امریکی حملے کے جواب میں بعض امریکی بحری جہازوں پر حملے کیے گئے ہیں۔

اس واقعے نے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات کے مستقبل پر بڑے سوالات اٹھا دیے ہیں اور ایرانی سرکاری میڈیا نے مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے بھی اس صورتحال پر سخت بیان جاری کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کریں، محاصرے کو سخت کریں، جنگی جرائم سے دھمکائیں اور پھر سفارت کاری کا ناٹک بھی کریں۔

رضا امیری نے خبردار کیا کہ جب تک آبنائے ہرمز کا محاصرہ برقرار ہے، خطے میں کشیدگی کی فالٹ لائنز موجود رہیں گی۔

تہران یونیورسٹی کی پروفیسر زہرہ خوارزمی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ امریکا مذاکرات کو صرف ایک ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ ایران پر نئے فوجی حملے کی تیاری کر سکے۔

پروفیسر زہرہ خوارزمی کے مطابق ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ امریکا خطے میں اپنی فوج اور گولہ بارود جمع کر رہا ہے، جس میں ابراہم لنکن طیارہ بردار جہاز کی تعیناتی اور عراق کی فضائی حدود میں جنگی طیاروں کی پروازیں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے دور میں بھی ایرانی تاثر یہی تھا کہ امریکی مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہیں کیونکہ وہ بات چیت کے دوران ہی پیچھے ہٹ گئے تھے، اور اب دوبارہ اہم موڑ پر جہازوں پر حملہ کرنا اس بات کی علامت ہے کہ امریکا ایران کے خلاف ایک نئی فوجی کارروائی کا آغاز کرنے والا ہے۔