اسرائیلی فوجی کی حضرت عیسٰیؑ کے مجسمے کی بے حرمتی، وائرل تصویر پر ہنگامہ
جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب مجسمے کو ہتھوڑے سے توڑنے کی وائرل تصویر نے عالمی سطح پر شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔
قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق پیر کے روز جاری ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے اس تصویر کے درست ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی جائزے میں معلوم ہوا کہ تصویر ایک اسرائیلی فوجی کی ہے جو جنوبی لبنان میں ایک آپریشن کے دوران لی گئی ہے۔
اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور تحقیقات کے نتائج کے مطابق ملوث افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔
اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے فلسطینی رکن ایمن عودہ نے سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں لکھا کہ ہم انتظار کریں گے کہ پولیس ترجمان یہ دعویٰ کرے کہ فوجی کو حضرت عیسیٰ کے مجسمے سے خطرہ محسوس ہوا تھا۔
کنیسٹ کے ایک اور فلسطینی رکن احمد طیبی نے فیس بک پر اپنے بیان میں کہا کہ جو لوگ غزہ میں مساجد اور گرجا گھروں کو دھماکوں سے اڑاتے ہیں اور یروشلم میں عیسائی مذہبی رہنماؤں پر تھوکتے ہیں اور انہیں کوئی سزا نہیں ملتی، وہ حضرت عیسیٰ کے مجسمے کو تباہ کرنے اور اس کی تصویر شائع کرنے سے بھی نہیں ڈرتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شاید ان نسل پرستوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی سیکھ لیا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی توہین کیسے کی جاتی ہے اور پوپ لیو کی بھی بے حرمتی کیسے کی جاتی ہے؟
یہ بیان امریکی صدر کے حالیہ تنازعات کے تناظر میں دیا گیا، جن میں ان کی ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر شامل تھی جس میں وہ خود کو حضرت عیسیٰ جیسی شخصیت کے طور پر پیش کرتے نظر آئے تھے، جبکہ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ پر تنقید کرنے والے رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ سے بھی اختلاف کیا تھا۔
متعدد سماجی کارکنوں، ماہرین تعلیم اور لکھاریوں نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ مجسمہ جنوبی لبنان کے گاؤں دیبل کے مضافات میں، اسرائیل کی سرحد کے قریب واقع تھا۔
سوشل میڈیا صارفین نے بھی مذہبی مقامات اور علامات پر اسرائیلی فوجیوں اور آبادکاروں کے حملوں پر عالمی خاموشی کی مذمت کی۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی افواج نے غزہ میں جاری جنگ کے دوران متعدد مذہبی مقامات، بشمول مساجد اور گرجا گھروں کو نشانہ بنایا۔
اسی طرح مقبوضہ مغربی کنارے میں گزشتہ سال آبادکاروں نے 45 مساجد پر حملے یا توڑ پھوڑ کی، جس کی تصدیق فلسطینی اتھارٹی کی وزارت مذہبی امور نے کی۔
دوسری جانب مذہبی آزادی کے ڈیٹا سینٹر کے مطابق جنوری 2024 سے ستمبر 2025 کے درمیان عیسائیوں کے خلاف کم از کم 201 پرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں زیادہ تر حملے آرتھوڈوکس یہودیوں کی جانب سے بین الاقوامی مذہبی شخصیات یا عیسائی علامات ظاہر کرنے والے افراد کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔














