کامیاب سفارت کاری کا راز: پاکستان ٹرمپ کی زبان سیکھ کر عالمی ثالث کیسے بنا؟
پاکستان، جو کہ ایک ایٹمی طاقت ہے اور اسرائیل کو تسلیم بھی نہیں کرتا، ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ایسے اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے جس کی توقع شاید کسی کو نہ تھی۔ یہ وہی ملک ہے جس کے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تعلقات کبھی خوشگوار نہیں رہے اور انہوں نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں پاکستان پر ’جھوٹ اور فریب‘ کے الزامات لگائے تھے۔ لیکن آج حالات بالکل بدل چکے ہیں۔
اسلام آباد اس ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے، جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔
امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق، پاکستان کے لیے ثالث کا یہ کردار حاصل کرنا آسان نہ تھا کیونکہ اس کے تنازع کا ایک اہم فریق اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہی نہیں ہیں۔
اس کے باوجود پاکستان نے صدر ٹرمپ کے مزاج اور ان کی ’لین دین‘ پر مبنی سفارت کاری کو وقت پر بھانپ لیا۔
پاکستان کے سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے سابق چیئرمین مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ ہم نے ٹرمپ کا بالکل درست انداز میں مشاہدہ کیا، ہم نے انہیں وہ تین چیزیں دیں جن کی انہیں ضرورت تھی: کرپٹو کرنسی، اہم معدنیات اور دہشت گردی کے خلاف تعاون۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ٹرمپ خاندان کی کرپٹو کمپنی سے منسلک فرم کے ساتھ معاہدہ کیا، امریکا کو اہم معدنیات تک رسائی دی اور کابل سے انخلا کے وقت امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے والے ایک اہم ملزم کو گرفتار کر کے ٹرمپ کا اعتماد جیت لیا۔
پاکستان کی ان کوششوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ گزشتہ اکتوبر تک صدر ٹرمپ نے آرمی چیف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو اپنا ’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘ قرار دے دیا۔
مشاہد حسین سید کا ماننا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنا پاکستان کے ثالثی کے عمل میں رکاوٹ نہیں ہے، کیونکہ ایران اور پاکستان دونوں کو یقین ہے کہ اگر امریکا کے ساتھ ڈیل ہو گئی تو ٹرمپ اسرائیل کو اس پر عمل درآمد کے لیے مجبور کر دیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل تو محض امریکا کا ایک نمائندہ ہے، ہم اصل فریق سے براہِ راست بات کر رہے ہیں۔
مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان کا جوہری طاقت ہونا بھی اس کے عالمی وقار میں اضافے کا باعث بنا ہے۔
پاکستانی میڈیا میں ان مذاکرات کو ایک عظیم تاریخی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کے خیالات اس سے مختلف ہیں۔
ممتاز سفارت کار ملیحہ لودھی، جنہوں نے امریکا اور برطانیہ میں پاکستان کی نمائندگی کی، کہتی ہیں کہ یہ یقیناً ملک کے لیے ایک فخر کا لمحہ ہے جو پاکستان کے عالمی امیج کو بلند کرتا ہے، لیکن عام پاکستانی کے لیے یہ صرف ٹی وی کی ایک خبر ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ پاکستان کے معاشی ڈھانچے کی تباہی ہے، امن مذاکرات کی میزبانی سے عام آدمی کی جیب پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، یہ اثر صفر ہے۔
اسلام آباد میں ایک ریستوران کے ویٹر، 51 سالہ لیاقت خان نے واشنگٹن پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں خوشی ہے پاکستان کو ثالثی یہ اعزاز ملا، لیکن جب مذاکرات کا پہلا دور ناکام ہوا تو سب پریشان ہو گئے کہ اب پیٹرول اور گیس مزید مہنگی ہوگی۔
ریستوران کے مینیجر سجاد عباسی کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات ہماری مشکلات میں کمی کے بجائے اضافہ کر رہے ہیں کیونکہ وفود کی آمد پر شہر بند کر دیا جاتا ہے اور دکانیں بند رہنے سے ہمارا نقصان ہوتا ہے۔
ایران جنگ نے پاکستان کے معاشی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے کیونکہ پاکستان کی نوے فیصد ایندھن کی درآمدات آبنائے ہرمز سے آتی ہیں، جس کی بندش نے حکومت کو ایندھن کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور کر دیا ہے۔














