کیک پر پلاسٹک کے پھول نے چین میں ’گھوسٹ فوڈ نیٹ ورک‘ کا پردہ کیسے چاک کیا؟
چین میں ایک صارف کی جانب سے سالگرہ پر خراب کیک کی شکایت نے ایک ایسی تہلکہ خیز اور ہوشربا تحقیقات کا آغاز کیا جس نے ہزاروں جعلی فوڈ نیٹ ورک کو بے نقاب کردیا اور کئی بڑی کمپنیوں پر بھی اربوں یوآن جرمانوں کا راستہ کھول دیا۔
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ’لیو‘ نامی صارف نے آن لائن پلیٹ فارم سے سالگرہ کا کیک آرڈر کیا، مگر کیک پر لگے سجاوٹی پھول کھانے کے قابل نہ ہونے پر اس نے حکام کو شکایت درج کرا دی۔ یہ بظاہر معمولی شکایت جلد ہی ایک وسیع تحقیقات میں بدل گئی۔
لیو نے یہ کیک ایک آن لائن ڈیلیوری پلیٹ فارم سے منگوایا تھا لیکن جب ریگولیٹرز نے تفتیش شروع کی تو جو کچھ سامنے آیا وہ حیران کن انکشاف تھا۔ 400 سے زائد برانچز ہونے کا دعویٰ کرنے والی بیکری مکمل طور پر جعلی نکلی، اس کی کوئی حقیقی دکان موجود نہیں تھی اور یہ پورا نیٹ ورک جعلی فوڈ بزنس لائسنسز پر چل رہا تھا۔
یہ ایک واقعہ ملک گیر سطح پر ایک وسیع تحقیقات کی بنیاد بنا جس نے ایک ’شیڈو فوڈ سپلائی چین‘ (خفیہ سپلائی نظام) کا پردہ چاک کیا۔
اس نظام کے تحت آرڈر لینے والا فرضی دکاندار اصل میں خود پراڈکٹ تیار نہیں کرتا تھا بلکہ آرڈر کو دوسرے پلیٹ فارم پر ڈال کر کم ترین بولی لگانے والے کو آرڈر دے دیتا تھا۔ اس عمل میں معیار اور خوراک کی حفاظت دونوں متاثر ہورہے تھے۔
چین کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ژنہوا‘ کے مطابق ملک بھر میں ایسے 67 ہزار سے زائد ’گھوسٹ‘ وینڈرز کا انکشاف ہوا، جنہوں نے مجموعی طور پر 36 لاکھ سے زیادہ کیک فروخت کیے تھے۔
چین کی مارکیٹ ریگولیٹری اتھارٹی نے طویل تحقیقات کے بعد 17 اپریل کو چین کی 7 بڑی ای کامرس اور فوڈ ڈیلیوری کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائد کر کے اس بڑے اسکینڈل کو بے نقاب کیا ہے۔
ریگولیٹرز نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بڑے ڈیلیوری پلیٹ فارمز گاہکوں کو تحفظ فراہم کرنے اور فوڈ وینڈرز کے لائسنسز کی تصدیق کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ ان میں ’ٹیمو‘ کی ملکیتی کمپنی ’پی ڈی ڈی‘، علی بابا، بائٹ ڈانس جیسی بڑی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
ژنہوا کے مطابق حکام نے ان کمپنیوں پر مجموعی طور پر 3.6 ارب یوآن (تقریباً 528 ملین ڈالر) کا ریکارڈ جرمانہ عائد کیا ہے جو 2015 میں ملک کے فوڈ سیکیورٹی قانون میں ترمیم کے بعد اب تک کا سب سے بڑا جرمانہ ہے۔
یہ 10 ماہ پر محیط تحقیقات چین میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کی جنگ کے مسئلے کو بھی اجاگر کرتی ہے، جسے مقامی طور پر ’نیجوآن‘ کہا جاتا ہے۔ اس رجحان کے تحت کمپنیاں قیمتیں کم کرنے کے لیے معیار پر بھی سمجھوتہ کرلیتی ہیں، جس سے پورا شعبہ متاثر ہوتا ہے۔
مذکورہ واقعے میں بھی ایک صارف نے 252 یوآن میں کیک خریدا مگر وہی آرڈر خفیہ طور پر دوسرے پلیٹ فارم پر 80 یوآن تک کی بولی پر ایک بیکر کو مل گیا۔ اس طرح اصل بیکر کو صرف 30 فیصد رقم ملی جب کہ باقی منافع درمیانی افراد اور پلیٹ فارم لے اڑے۔
تحقیقات کے دوران حکام کو بعض کمپنیوں کی جانب سے شدید یا ڈرامائی مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
ایک واقعے میں بڑی ڈیلیوری سروس کے ملازم سے پوچھ گچھ کے دوران پاس کھڑے ساتھی نے خاموشی سے ’اے فور‘ سائز کے کاغذ پر ’خاموش رہنا‘ لکھ کر پکڑا دیا۔ اہلکاروں کی نظر پڑی تو اس شخص نے کاغذ کو چھپانے کے لیے سب کے سامنے نگل گیا۔
ایک واقعے میں تفتیش کے دوران ایک ملازم نے ساتھی کی جانب سے دیا گیا ’خاموش رہنا‘ کا تحریری نوٹ نگل لیا، جب کہ ایک اور موقع پر سیکیورٹی اہلکاروں نے تفتیشی ٹیم کو دھکے دے کر روکنے کی کوشش کی۔
اس کے چند روز بعد پوچھ گچھ کے دوران ایک ایگزیکٹیو اچانک بے ہوش ہونے کا ڈرامہ کر کے گر پڑا اور اسے ایمبولینس میں لے جایا گیا، لیکن بعد میں ڈاکٹرز نے بتایا کہ اسے کوئی سنجیدہ طبی مسئلہ نہیں تھا۔
ریگولیٹرز کے مطابق ’پی ڈی ڈی ہولڈنگز‘ کو سب سے زیادہ 1.5 ارب یوآن جرمانہ کیا گیا، کیونکہ اس نے معلومات فراہم کرنے میں رکاوٹ ڈالی اور بعض مواقع پر غلط ڈیٹا بھی فراہم کیا تھا۔ بعد ازاں ان کمپنیوں نے بیانات جاری کرتے ہوئے جرمانے قبول کیے اور آئندہ اپنے نظام کو بہتر بنانے کا وعدہ کیا۔
ماہرین کے مطابق حکومتی کارروائی نے غیر صحت مند مسابقت کو کسی حد تک کم کیا ہے، تاہم خدشہ ہے کہ کمپنیاں مقابلے کے نئے طریقے تلاش کر سکتی ہیں۔ اس کے باوجود یہ کارروائی اس بات کا اشارہ ہے کہ مستقبل میں معیار کو قیمت پر فوقیت دینے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
















