مکہ مکرمہ کے میوزیم میں ہندوستان کا نادر ’8 رخی‘ قرآن مجید مرکزِ نگاہ

یہ قیمتی نسخہ شاہ فیصل سینٹر برائے ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹڈیزکے ذخیرۂ نوادرات کا حصہ ہے۔
شائع 23 اپريل 2026 02:19pm

سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں قائم ’میوزیم آف قرآن کریم‘ نے تیرہویں صدی ہجری (انیسویں صدی عیسوی) کا ایک انتہائی نادر اور منفرد قرآن مجید نمائش کے لیے پیش کیا ہے۔

یہ نسخہ اپنی غیر روایتی آٹھ رخی شکل اور برصغیر پاک و ہند سے وابستہ اپنی قدیم تاریخ کی وجہ سے زائرین اور محققین کی توجہ کا خاص مرکز بن گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ قرآن مجید ہندوستان میں تیار کیا گیا تھا، جہاں اس دور میں خطاطی، آرائش اور جلد سازی کے فن اپنے عروج پر تھے۔

اس منفرد ڈیزائن میں خوبصورتی اور عملی سہولت دونوں کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ روایتی چوکور نسخوں کے برعکس اسے آٹھ زاویوں پر تیار کیا گیا ہے، جو اسلامی فنِ تعمیر اور جیومیٹرک آرٹ کا حسین امتزاج ہے۔

اس مصحف کا سائز نہایت چھوٹا ہے، جسے قدیم دور میں ’حمائل‘ کہا جاتا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اسے سفر کے دوران آسانی سے ساتھ رکھا جا سکے یا بازو پر باندھا جا سکے۔

یہ قیمتی نسخہ شاہ فیصل سینٹر برائے ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹڈیزکے ذخیرۂ نوادرات کا حصہ ہے۔

یہ ادارہ دنیا بھر سے اسلامی مخطوطات کو جمع کرنے اور انہیں جدید سائنسی طریقوں سے محفوظ بنانے میں عالمی شہرت رکھتا ہے، تاکہ آنے والی نسلیں اپنے علمی ورثے سے آگاہ رہ سکیں۔

یہ پیشکش ’حراء ثقافتی مرکز‘ کے وسیع تر مشن کا حصہ ہے۔ جبلِ نور کے قریب واقع یہ مرکز مکہ مکرمہ کو اسلامی ثقافت کے عالمی مرکز کے طور پر مستحکم کر رہا ہے۔

یہاں زائرین کو نہ صرف نادر نسخے دکھائے جاتے ہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے قرآن مجید کی کتابت کی مکمل تاریخ سے بھی روشناس کرایا جاتا ہے۔

ہندوستان میں تیار کردہ ایسے مختصر حجم کے نسخوں میں اکثر ’خطِ غبار‘ استعمال ہوتا تھا، جو اپنی باریکی کی وجہ سے مشہور ہے اور اسے انتہائی مہارت سے تحریر کیا جاتا تھا۔

اس طرح کے آٹھ رخی نسخے مغل دور کے اواخر میں خاص طور پر مقبول تھے، جنہیں نفاست کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

مکہ مکرمہ میں اس کی موجودگی پاک و ہند کے مسلمانوں کے حرمین شریفین کے ساتھ گہرے عقیدت مندانہ تعلق کی بھی عکاسی کرتی ہے۔