اسلام آباد مذاکرات کامیاب بنانے کی کوششیں، محسن نقوی کی امریکی سفیر سے ملاقات

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر مسئلے کے حل کے لیے ہر سطح پر بھرپور کوششیں کر رہے ہیں: محسن نقوی
شائع 23 اپريل 2026 12:33pm

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اور امریکی سفیر نیٹلی بیکر کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی ہے جس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزارت داخلہ کے مطابق محسن نقوی نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے صدر ٹرمپ کے اقدام کی تعریف کی اور اس بات پر زور دیا کہ دیرپا حل تک پہنچنے کے لیے سفارتی ذرائع کا تسلسل انتہائی ضروری ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران کی جانب سے مثبت پیش رفت سامنے آئے گی، ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اس مسئلے کے حل کے لیے ہر سطح پر بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔

دوسری جانب واشنگٹن سے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے میڈیا کو بتایا کہ ایران کی بحری ناکہ بندی بدستور جاری ہے اور امریکہ اپنی شرائط میں کسی قسم کی نرمی نہیں کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے لچک دکھائی ہے لیکن ایران کو اپنی افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرنی ہوگی۔

ترجمان نے کسی بھی مختصر ڈیڈ لائن کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وقت کا تعین خود صدر کریں گے اور جب تک ایران کی قیادت امریکی تجاویز کا متفقہ جواب نہیں دیتی، عارضی جنگ بندی برقرار رہ سکتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کا ماننا ہے کہ معاشی دباؤ ہی ایران کو مذاکرات کی میز پر لا رہا ہے اور ان کا فوجی آپریشن کامیابی سے جاری ہے۔

ادھر تہران میں ایرانی قیادت نے امریکی موقف کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ سیز فائر کا کوئی فائدہ نہیں اگر ناکہ بندی کے ذریعے معیشت کو یرغمال بنایا جاتا رہے، ان کے بقول اس پامالی کے ہوتے ہوئے آبنائے ہرمز کا کھلنا ناممکن ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ دھونس دھمکیوں سے امریکا اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا اور ایرانیوں کے حقوق تسلیم کرنا ہی واحد راستہ ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی مذاکرات کے لیے محاصرے اور دھمکیوں کو اصل رکاوٹ قرار دیتے ہوئے امریکہ کے عمل اور دعووں میں تضاد کی نشاندہی کی ہے۔

ان تمام تلخیوں کے باوجود پاکستان کی ثالثی کے باعث جمعہ کو مذاکرات کی نئی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے خود اعتراف کیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور اگلے 36 سے 72 گھنٹے کسی بڑے بریک تھرو کے لیے انتہائی اہم ہو سکتے ہیں۔

اگرچہ فریقین کے درمیان بیانات کی جنگ جاری ہے اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنا دفاع کرنے کے عزم کو دہرایا ہے، لیکن اسلام آباد میں ہونے والی ان ملاقاتوں نے دونوں ممالک کو ایک بار پھر بات چیت کی میز پر لانے کی راہ ہموار کر دی ہے۔