آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے 15 سے 20 لاکھ ڈالر فیس وصولی کا انکشاف

ایران کی پارلیمنٹ کے ایک سینئر رکن نے انکشاف کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے ایرانی اجازت کے ساتھ گزرنے والے جہازوں سے...
شائع 07 جون 2026 05:02pm

ایران کی پارلیمنٹ کے ایک سینئر رکن نے انکشاف کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے ایرانی اجازت کے ساتھ گزرنے والے جہازوں سے اوسطاً 15 لاکھ سے 20 لاکھ ڈالر تک فیس وصول کی جا رہی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ رقم ٹول ٹیکس نہیں بلکہ نیویگیشن اور ماحولیاتی تحفظ کی خدمات کے اخراجات کے طور پر لی جاتی ہے۔

ایران کی پارلیمنٹ کی بجٹ اور منصوبہ بندی کمیٹی کے رکن محسن زنگنہ نے ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے اوسطاً 15 لاکھ سے 20 لاکھ ڈالر تک وصول کیے جا رہے ہیں۔

ایران کا مؤقف ہے کہ اسے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت کی نگرانی کا حق حاصل ہے حالانکہ یہ مؤقف بین الاقوامی بحری قوانین سے مختلف سمجھا جاتا ہے جب کہ آبنائے ہرمز کے دوسرے کنارے پر عمان واقع ہے۔

ایران نے اس مقصد کے لیے ”پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی“ کے نام سے ایک انتظامی ادارہ قائم کیا ہے۔ ادارے کے مطابق مئی کے آغاز میں کام شروع ہونے کے بعد اب تک 300 سے زائد غیر ایرانی جہاز محفوظ گزرگاہ کے اجازت نامے حاصل کرنے کے لیے معلومات فراہم کر چکے ہیں، جن میں اکثریت تیل بردار جہازوں کی ہے۔

فارس نیوز کے مطابق اس اسکیم کے تحت حاصل ہونے والی آمدن سرکاری خزانے میں جمع کرائی جا رہی ہے تاہم بعض ادائیگیاں نقد رقم کے بجائے اشیا اور خدمات کی صورت میں بھی کی گئی ہیں۔

ایرانی حکام مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ وصول کی جانے والی رقم ٹول ٹیکس نہیں ہے۔ گزشتہ ماہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ ایران جہاز رانی کی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور خلیج عمان کے ماحول کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کر رہا ہے، جن کے لیے بعض اخراجات وصول کرنا ضروری ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایرانی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے آغاز سے پہلے موجود آزادانہ بحری آمدورفت کی صورت حال بحال ہونی چاہیے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جو تیل سے مالا مال خلیج فارس کو عالمی منڈیوں سے جوڑتی ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل پیداوار اسی راستے سے گزرتی تھی جب کہ آبنائے ہرمز کے شمالی حصے پر ایران کا کنٹرول ہے۔