برلن میں رضا شاہ پہلوی پر مشتعل شخص کا حملہ، سرخ رنگ پھینک دیا

رضا شاہ پہلوی نے برلن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایران پر حملوں کی حمایت کی تھی
اپ ڈیٹ 23 اپريل 2026 05:55pm

جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ایران کے جلاوطن رہنما رضا پہلوی پر ایک شخص نے سرخ رنگ پھینک دیا، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔

ایران کے سابق بادشاہ کے بیٹے اور خود ساختہ جلاوطن رہنما رضا شاہ پہلوی پر حملہ برلن میں ایک پریس کانفرنس کے بعد ہوا، جس میں انہوں نے امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کی حمایت کی اور موجودہ ایرانی حکومت کے خاتمے کے لیے ان حملوں کو ضروری قرار دیا۔

رضا پہلوی ان دنوں جرمنی کے دورے پر ہیں جہاں وہ جرمن ارکانِ پارلیمنٹ سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل واقعے کی ویڈیو میں ان کی گردن اور کندھے پر سرخ رنگ دیکھا جاسکتا ہے۔ واقعے کے بعد رضا پہلوی اپنی گاڑی میں بیٹھ کر موقع سے روانہ ہو گئے۔

برلن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رضا پہلوی نے کہا کہ ایران کی موجودہ قیادت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا دراصل اسی نظام کو برقرار رکھنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے یورپ کے لیے اس صورت حال کو ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ ایرانی حکومت پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اس حکومت کے ساتھ امن قائم کیا جا سکتا ہے تو یہ ایک بڑی غلطی ہے۔

رضا پہلوی نے پریس کانفرنس کے دوران یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ ایران کی ’جین زی‘ میں نہایت مقبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی عوام تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے یہ بات سامنے نہیں آرہی ہے۔

انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے جنگ بندی اور مذاکرات کی بھی شدید مخالفت کی اور کہا کہ سفارت کاری کو کافی موقع دیا جا چکا ہے لیکن اس سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جاسکا ہے۔ رضا شاہ پہلوی نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے جمہوریت پسند ایرانی عوام کی حمایت کریں۔