امریکا ایران معاہدے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی
امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے بعد بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ایران اور امریکا میں 28 فروری سے جاری کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے پر ڈیجیٹل دستخط ہوئے، جس کے مثبت اثرات عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں پر بھی سامنے آ رہے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں منگل کے روز بھی کمی کا رجحان برقرار رہا ہے، جس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کی ممکنہ بحالی، ایران جنگ کے خاتمے کے ابتدائی معاہدے میں غیر یقینی صورت حال اور عالمی فزیکل مارکیٹ کے کمزور بنیادی عوامل کو قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خام تیل کی عالمی قیمتوں میں مجموعی طور پر 6 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے مربان تیل کی قیمت 5 ڈالر 79 سینٹس کم ہو کر 77 ڈالر 23 سینٹس فی بیرل پر آگئی ہے۔
اسی طرح لندن برینٹ کروڈ کی قیمت میں 43 سینٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 82 ڈالر 74 سینٹس فی بیرل ہوگئی۔
امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس میں 31 سینٹس فی بیرل کی کمی کے بعد جولائی کے سودے 80 ڈالر 44 سینٹس فی بیرل پر طے پائے ہیں۔
پیر کو قیمتوں میں یہ کمی اس وقت دیکھی گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں، تاہم اس معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی تک منظر عام پر نہیں آئیں۔
رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کیا تھا، جہاں سے عام طور پر دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل گزرتا ہے۔ اب ابتدائی اطلاعات کے مطابق ممکنہ معاہدے کے تحت اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے، جس سے عالمی سپلائی میں بہتری کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق آئندہ چند ہفتوں میں تیل کی ترسیل کی بحالی کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔ مورگن اسٹینلے کے تجزیہ کاروں نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ٹینکرز کی آمد و رفت معمول پر آنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، جبکہ ستمبر تک 50 فیصد پیداوار اور دسمبر تک 80 فیصد تک بحالی ممکن ہے۔
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور امریکا ایران جنگ بندی کے معاہدے کے بعد عالمی توانائی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے، جس کے اثرات خام تیل کی قیمتوں پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔
















