بولی ووڈ کی پہلی پاکستان مخالف پروپیگنڈا فلم کون سی تھی؟
بولی ووڈ میں آج کل ایسی فلموں کا دور ہے جہاں پاکستان کو بلاک بسٹر کہانیوں کے مستقل ولن کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ لیکن حب الوطنی کے جذباتی نعروں اور جاسوسی فلموں کے موجودہ رجحان سے بہت پہلے، جب بھارتی فلم انڈسٹری ابھی ایسے حساس موضوعات پر ہاتھ ڈالنے سے کتراتی تھی، ایک فلم ایسی سامنے آئی جس نے اس روایت کو توڑ دیا۔ یہ فلم تھی ’سرفروش‘۔
یہ فلم آج سے 26 سال قبل 30 اپریل 1999 کو ریلیز ہوئی تھی اور اس فلم کی خاص بات یہ تھی کہ اس نے استعاروں کا سہارا لینے کے بجائے پہلی بار براہِ راست پاکستان کا نام لے کر انہیں مرکزی مخالف کے طور پر پیش کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم کے ہدایت کار جان میتھیو متھن نے فلم میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی پہلو کو عامر خان اور نصیر الدین شاہ کے علاوہ سب سے چھپا کر رکھا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت بھارتی سنسر بورڈ کی غیر اعلانیہ پالیسی تھی کہ پڑوسی ملک کا نام نہ لیا جائے، لہذا فلم کے زیادہ تر اداکاروں نے پوری کہانی جانے بغیر ہی اپنی شوٹنگ مکمل کی۔
اس فلم کا پس منظر بھی خاصا دلچسپ ہے۔ متھن کا تعلق اشتہارات کی دنیا سے تھا، مگر وہ ایک بڑی اور حقیقت کے قریب فلم بنانا چاہتے تھے۔
انہوں نے 1990 کی دہائی کے اوائل میں اس کہانی پر کام شروع کیا، جو بعد میں 1993 کے ممبئی بم دھماکوں کے بعد مزید گہری دلچسپی کا باعث بنی۔
فلم میں یہ پروپیگنڈا دکھایا گیا کہ پاکستان کی مبینہ حمایت سے دہشت گردی کے نیٹ ورکس بھارت کے مختلف حصوں میں سرگرم ہوئے۔
کہانی ایک پولیس افسر اجے سنگھ راٹھور کے گرد گھومتی ہے، جس کا کردار عامر خان نے ادا کیا۔
وہ ذاتی سانحے کے بعد دہشت گردی کے خلاف مشن پر نکلتا ہے اور تحقیقات کے دوران ایک بڑے نیٹ ورک کا سراغ لگاتا ہے۔
اس دوران اس کی دوستی ایک مشہور پاکستانی غزل گلوکار گلفام حسن سے ہوتی ہے، جس کا کردار نصیرالدین شاہ نے نہایت مہارت سے ادا کیا۔
بعد میں یہی کردار ایک پیچیدہ ولن کے طور پر سامنے آتا ہے، جو اپنی شناخت اور محرومی کے احساس کو خطرناک منصوبوں میں بدل دیتا ہے۔
فلم کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں ولن کو روایتی انداز میں پیش نہیں کیا گیا بلکہ ایک مہذب اور نفیس شخصیت کے طور پر دکھایا گیا، جو اندرونی طور پر ایک خفیہ ایجنڈا رکھتا ہے۔
اجے اور گلفام کے درمیان تعلق پہلے احترام اور دوستی پر مبنی ہوتا ہے، مگر آہستہ آہستہ یہ اعتماد شک میں بدل جاتا ہے، جو فلم کو ایک نفسیاتی کشمکش میں بدل دیتا ہے۔
فلم کی کاسٹنگ بھی غیر روایتی تھی۔ سونالی باندرے سمیت کئی اداکاروں کو مکمل کہانی کا علم نہیں تھا۔
دیگر کرداروں میں نئے اور تھیٹر سے تعلق رکھنے والے فنکار شامل کیے گئے، جس سے فلم میں حقیقت کا رنگ مزید گہرا ہوگیا۔
یہاں تک کہ نوازالدین صدیقی نے بھی ایک مختصر کردار کے ذریعے اسی فلم سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔
موسیقی کے لحاظ سے بھی فلم کامیاب رہی۔ خاص طور پر جگجیت سنگھ کی گائی ہوئی غزل ”ہوش والوں کو خبر کیا“ آج بھی ایک کلاسک مانی جاتی ہے، جس نے فلم کے سنجیدہ ماحول کو مزید مضبوط بنایا۔
ریلیز سے پہلے سنسر بورڈ نے فلم میں ”پاکستان“ اور ”آئی ایس آئی“ کے الفاظ ہٹانے کا مطالبہ کیا، مگر عامر خان اور ہدایتکار نے اس پر کر مزاحمت کی۔
بالآخر فلم انہی حوالوں کے ساتھ ریلیز ہوئی اور یوں یہ پہلی بڑی ہندی فلم بنی جس نے کھل کر پاکستان مخالف پروپیگنڈا پیش کیا۔ اس سے پہلے بارڈر جیسی فلمیں ضرور آئیں، مگر وہ تاریخی جنگوں تک محدود تھیں۔
فلم کی ریلیز کے کچھ ہی عرصے بعد کارگل جنگ نے بھارت اور پاکستان کے تعلقات کو ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا دیا، جس سے اس فلم کا موضوع مزید اہم محسوس ہونے لگا۔
سرفروش نہ صرف باکس آفس پر کامیاب رہی بلکہ ناقدین نے بھی اسے کمرشل عناصر کے متوازن امتزاج پر سراہا۔
یہ فلم عامر خان کے کیریئر میں بھی ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ اس سے پہلے وہ زیادہ تر رومانوی کرداروں میں نظر آتے تھے، مگر سرفروش کے بعد انہوں نے منفرد اور سنجیدہ موضوعات کا انتخاب شروع کیا۔
اگرچہ سرفروش دھرندھر جیسی بڑی یا جدید دور کی بلاک بسٹر فلم نہیں تھی، مگر اس نے بولی ووڈ میں پولیس اور دہشت گردی پر مبنی فلموں کا انداز بدل دیا۔
















