ایرانی حملوں کے بعد یو اے ای کا دفاعی نظام فعال، شہریوں کو محفوظ مقام پر رہنے کی ہدایت
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس پر ایران کی طرف سے حملہ کیا گیا ہے۔ وزارت کے مطابق اس کا فضائی دفاعی نظام ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو ناکام بنا رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق ملک کے فضائی دفاعی نظام اس وقت ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرون حملوں سے نمٹنے میں مصروف ہیں۔
وزارتِ دفاع نے وضاحت کی ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں سنی جانے والی دھماکوں اور آوازوں کی وجہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے جاری کارروائیاں ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یو اے ای کا فضائی دفاعی نظام فعال طور پر دشمن اہداف کو نشانہ بنا کر خطرات کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جب کہ صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
قومی ایمرجنسی اتھارٹی نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ’محفوظ مقامات پر موجود رہیں۔‘
واضح رہے کہ پیر کے روز متحدہ عرب امارات کی جانب سے دعوٰی کیا گیا تھا کہ اس نے ایران کے 15 میزائل اور چار ڈرونز مار گرائے ہیں۔ یو اے ای کی وزارت دفاع کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روکا گیا۔
اس سے قبل فجیرہ میں ایک آئل پورٹ پر ڈرون حملے کے نتیجے میں آگ لگنے اور تین غیر ملکی شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ اماراتی حکام نے ان حملوں کو خطے میں خطرناک کشیدگی میں اضافہ اور ناقابل قبول اقدام قرار دیا ہے۔ واقعے کے بعد دبئی اور شارجہ کے درمیان فلائٹ آپریشن بھی معطل کردیا گیا تھا۔
دوسری جانب پیر کے روز امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں نصب اسرائیلی فضائی دفاعی نظام ’آئرن ڈوم‘ نے ایران کی جانب سے داغے گئے مبینہ میزائل حملوں کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
سی این این کے مطابق اسرائیل نے ایران کے ساتھ کشیدگی کے آغاز کے بعد خفیہ طور پر اپنا جدید دفاعی نظام ’آئرن ڈوم‘ اور اس کو چلانے کے لیے فوجی اہلکار متحدہ عرب امارات میں تعینات کیے تھے۔
مشرق وسطیٰ میں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی کے باعث سیکیورٹی صورتِ حال انتہائی حساس ہو چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کے واقعات نے خطے میں دفاعی نظاموں کو مسلسل فعال رکھا ہوا ہے، جس سے عالمی سطح پر بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔














