ایران اور امریکا کے درمیان ڈیل میں 5 بڑی رکاوٹیں کیا ہیں؟
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے جاری کوششیں ایک بار پھر شدید مشکلات کا شکار ہو گئی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے دیے گئے 14 نکاتی امن منصوبے کے جواب کو ”مکمل طور پر ناقابلِ قبول“ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
اگرچہ دونوں جانب سے تجاویز کا سرکاری متن عام نہیں کیا گیا، لیکن بین الاقوامی میڈیا کے مطابق پانچ ایسے اہم نکات ہیں جن پر تاحال کوئی اتفاق نہیں ہو سکا اور یہی اس وقت مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پہلا بڑا تنازع ایران کے جوہری پروگرام پر ہے۔
امریکا کا مطالبہ ہے کہ ایران اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کر دے، جبکہ تہران کا موقف ہے کہ اس پر کسی بھی قسم کی پابندی صرف چند سالوں کے لیے ہونی چاہیے، مستقل طور پر نہیں۔
اسی طرح دوسرا اہم مسئلہ ایران کے پاس موجود 400 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ہے، جس پر بھی سخت اختلاف پایا جاتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ تمام ذخیرہ امریکا کی تحویل میں دیا جائے، جسے تہران نے صاف انکار کرتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ہم ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے“۔
تیسرا مسئلہ آبنائے ہرمز اور بحری ناکہ بندی کا ہے۔
ایران اس اہم بحری گزرگاہ پر اپنی مکمل خود مختاری اور بحری جہازوں سے ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کا حق مانگ رہا ہے، ساتھ ہی اس کی شرط ہے کہ امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی فوری ختم کرے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ”جب تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پاتا، بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی“۔
اس کے علاوہ چوتھا مسئلہ ایران کے منجمد اثاثوں کا ہے۔
ایران نے امریکا سے تقریباً 270 ارب ڈالر کے جنگی معاوضے کا مطالبہ کر رکھا ہے، جو اس کے بقول امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ہونے والے نقصانات کی تلافی ہے۔
ایرانی حکام نے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی پائیدار معاہدے کے حصے کے طور پر ان کے منجمد کیے گئے 20 ارب ڈالر کے اثاثے فوری بحال کیے جائیں۔
پانچواں مسئلہ علاقائی اثر و رسوخ کا ہے۔
امریکا کی شرط ہے کہ ایران خطے میں اپنے حامی گروپوں، جیسے حزب اللہ اور حماس کی حمایت بند کرے اور اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی محدود کرے۔
ایران نے ان امریکی مطالبات کو اپنے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ”سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزی ہو رہی ہے اور موجودہ تناؤ کی تمام تر ذمہ داری امریکی حکام پر عائد ہوتی ہے“۔













