وفاقی کابینہ کا گندم کی خرید و فروخت کے حوالے سے درپیش مسائل کا نوٹس، کمیٹی تشکیل
وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں گندم کی خرید و فروخت کے حوالے سے درپیش مسائل کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے پر کابینہ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں مختلف منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں حج پالیسی 2027-2030 کی جانچ کے حوالے سے بنائی گئی کابینہ کمیٹی کی سفارشات پیش کی گئیں، جن کی وفاقی کابینہ نے منظوری دے دی۔
اعلامیے کے مطابق وفاقی کابینہ نے کمیٹی کو ہدایت دیں کہ وزارت مذہبی امور اور پرائیوٹ حج آپریٹرز کے لیے احتساب کا نظام وضع کیا جائے تاکہ حجاج کرام کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکے۔
وفاقی کابینہ نے کم قیمت ہاؤسنگ منصوبہ کی تعمیر و ترقی سی ڈی اے کے سپرد کرنے کی منظوری دی، اسلام آباد میں فراش ٹاؤن اور کچی آبادیوں کے مکینوں کے لیے کم قیمت ہاؤسنگ منصوبہ بنایا جائے گا۔
اس کے علاوہ پاکستان کسٹمز کے محکمانہ ترقی کے امتحانات فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کروانے کی منظوری بھی دی گئی۔
وفاقی کابینہ نے قانون سازی کمیٹی کے 29 اپریل 2026 کو ہوئے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کردی تاہم ٹوبیکو مارکیٹنگ کنٹرول رولز 2016 میں ترمیم کے حوالے سے اقتصادی رابطہ کمیٹی سے رائے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیراعظم کی ٹاسک فورس کی تشکیل کی منظوری
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے فضلے سے توانائی کی پیداوار کے حوالے سے ٹاسک فورس کی تشکیل کی منظوری دے دی، یہ ٹاسک فورس ویسٹ ٹو انرجی کے موجودہ فریم ورک کا جائزہ لیتے ہوئے اس حوالے سے نئی قومی پالیسی بنانے پر کام کرے گی۔
اعلامیہ کے مطابق یہ ٹاسک فورس پاکستان میں ویسٹ ٹو انرجی منصوبوں کے فروغ کے لیے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی، واضح حکمت عملی، ادارہ جاتی نظام اور روڈ میپ کے ساتھ قومی ویسٹ ٹو انرجی پالیسی مرتب کرے گی۔
وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس لغاری اس ٹاسک فورس کے کنوینر ہوں گے جب کہ ٹاسک فورس میں نجی شعبے سے متعلقہ افراد کو بطور ممبران شامل کیا گیا ہے۔
ویسٹ ٹو انرجی کے حوالے سے قانون سازی اور ریگولیٹری اصلاحات سمیت اقدامات تجویز کرنا بھی ٹاسک فورس کے ٹی او آرز میں شامل ہے جب کہ ٹاسک فورس اس شعبے میں سرمایہ کاری، رابطہ کاری اور فضلہ سے توانائی کے نفاذ میں سہولت فراہم کرنے کے حوالےسے اقدامات بھی تجویز کرے گی۔












