’میں کھلاڑی تو اناڑی‘ ہالی ووڈ فلم کی کاپی تھی، سیف علی خان کا انکشاف

یہ 1994 کی سپرہٹ فلم تھی۔
شائع 15 مئ 2026 02:14pm

بولی ووڈ کے نواب سیف علی خان نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی 1994 کی مشہور ترین سپرہٹ فلم ’میں کھلاڑی تو اناڑی‘ دراصل ایک امریکی فلم کی کاپی تھی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ فلم ہالی ووڈ فلم ’دی ہارڈ وے‘سے بغیر حقوق خریدے مکمل طور پر نقل کر کے بنائی گئی تھی۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے اپنی نئی آنے والی فلم ’کرتویا‘ کی تشہیر کے دوران ایک انٹرویو میں کیا۔

سیف علی خان نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں کھلاڑی تو اناڑی‘میں انہوں نے ایک ایسے اداکار کا کردار ادا کیا تھا جو پولیس افسر کا رول سمجھنے کے لیے فلم میں اکشے کمار (جو کہ ایک پولیس والے بنے تھے) کے ساتھ وقت گزارتا ہے۔

اداکار نے ہنستے ہوئے بتایا، ’وہ ایک مزاحیہ فلم تھی جسے ہم نے امریکی فلم سے بغیر بتائے کاپی کیا۔ ہم نے بس فلم دی ہارڈ وے کو اٹھایا اور نقل کر لیا۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ، ’لیکن اس فلم کے بعد ایک ہدایت کار نے مجھے سخت مشورہ دیا کہ میں کبھی دوبارہ پولیس افسر کا کردار ادا نہ کروں، کیونکہ میں اس رول کے لیے موزوں نہیں لگتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کا کردار بڑے اور بااثر اسٹارز کرتے ہیں، تم صرف رومانوی اور مزاحیہ فلمیں ہی کرو۔’

سیف علی خان کے مطابق ڈائریکٹر کی یہ بات ان کے دل میں خوف بن کر بیٹھ گئی اور وہ کافی عرصے تک پولیس کا رول کرنے سے کتراتے رہے۔

انہوں نے بتایا، ’یہ خوف میرے دل میں کافی عرصے تک موجود رہا۔ جب میں نے بعد میں پولیس کے کردار کرنا شروع کیے، یہاں تک کہ جب میں نے مشہور ویب سیریز ’سیکرڈ گیمز‘میں سرتاج سنگھ کا کردار ادا کیا، تب بھی مجھے لگتا تھا کہ شاید میں پولیس والے کا رول صحیح طریقے سے نہیں نبھا پا رہا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ وہ کیمرے کے سامنے ہی جوان ہوئے ہیں اور لوگوں نے انہیں 20 سال کی عمر سے لے کر 55 سال کی عمر تک بدلتے دیکھا ہے۔ آج جب وہ ایک پختہ پولیس افسر کا کردار ادا کر سکتے ہیں، تو یہ ان کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے کیونکہ ماضی میں ان پر ہنسنے والے ڈائریکٹر نے کہا تھا کہ وہ یہ کبھی نہیں کر پائیں گے۔

سیف علی خان ان دنوں اپنی نئی فلم ’کرتویا‘ کی ریلیز کے لیے تیار ہیں، جسے شاہ رخ خان کی کمپنی ریڈ چلیز انٹرٹینمنٹ نے پروڈیوس کیا ہے اور یہ فلم 15 مئی کو نیٹ فلکس پر ریلیز ہو رہی ہے۔

اس فلم میں وہ ’پون‘ نامی ایک ایسے پولیس افسر کا سنجیدہ کردار ادا کر رہے ہیں جو فرض، ضمیر اور انصاف کی جنگ میں پھنسا ہوا ہے۔

سیف کا کہنا ہے کہ یہ کردار ان کے پچھلے تمام کرداروں سے مختلف اور چیلنجنگ ہے، جس کے لیے انہیں ہریانوی لہجہ بھی سیکھنا پڑا جو کہ اس فلم کا سب سے مشکل حصہ تھا۔