فلسطینیوں کے اربوں ڈالر ٹرمپ کے غزہ پلان پر خرچ کرنے کا منصوبہ
امریکا اس وقت ایک ایسی تجویز پر غور کر رہا ہے جس کے تحت اسرائیل کی جانب سے روکے گئے فلسطینی اتھارٹی کے ٹیکسوں کے پیسے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس کے حوالے کیا جا سکتا ہے، تاکہ اس رقم سے غزہ میں جنگ کے بعد کی بحالی کے امریکی منصوبے کو پورا کیا جا سکے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے اس معاملے سے واقف پانچ مختلف ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ابھی تک اسرائیل سے اس بارے میں کوئی باقاعدہ یا حتمی درخواست کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔
دوسری طرف فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس امریکی تجویز کے مطابق ٹیکس کی رقم کا ایک حصہ غزہ کے لیے بنائی جانے والی امریکا نواز عبوری حکومت کو دیا جائے گا، جبکہ باقی رقم فلسطینی اتھارٹی کو اس شرط پر ملے گی کہ وہ اپنے نظام میں تبدیلیاں اور اصلاحات لائے۔
فلسطینی اتھارٹی کے مطابق اسرائیل نے ان کے ٹیکسوں کی مد میں تقریباً 5 ارب ڈالر کی خطیر رقم روک رکھی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر فلسطینیوں کا اپنا ہی پیسہ ان کی مرضی اور مشاورت کے بغیر ٹرمپ کے غزہ پلان پر خرچ کیا گیا، تو اس سے مغربی کنارے میں پہلے سے موجود مالیاتی بحران مزید سنگین ہو جائے گا اور فلسطینی حکومت کی اہمیت مزید کم ہونے کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے کے کچھ حصوں میں محدود حکومت چلاتی ہے لیکن 2007 میں حماس کے ساتھ ہونے والی ایک مختصر خانہ جنگی کے بعد سے غزہ پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔
غزہ میں دو سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے بعد اب وہاں کی بحالی کے امریکی منصوبے میں حماس کی طرف سے ہتھیار ڈالنے سے انکار اور اسرائیلی حملوں کی وجہ سے مسلسل تاخیر ہو رہی ہے۔
ٹرمپ کے بورڈ آف پیس نے اس مخصوص تجویز پر براہ راست کوئی تبصرہ کرنے سے تو انکار کیا ہے، تاہم بورڈ کے ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے تمام فریقین سے کہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے ملکیتی 70 ارب ڈالر کے بحالی کے منصوبے کے لیے وسائل فراہم کریں۔
بورڈ کے عہدیدار نے فلسطینی ٹیکسوں کی رقم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بینک میں پڑا ہوا پیسہ صدر کے 20 نکاتی منصوبے کو آگے بڑھانے میں کوئی مدد نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک طویل عرصے سے فلسطینیوں کے تجارتی سامان پر ٹیکس جمع کرتا آرہا ہے اور ایک معاہدے کے تحت یہ رقم فلسطینی اتھارٹی کو منتقل کرنی ہوتی ہے، جس سے وہاں کے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور عوامی خدمات کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل طویل عرصے سے فلسطینی اتھارٹی پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں اور شہداء کے خاندانوں کو مالی امداد دینا بند کرے کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ اس سے تشدد کو فروغ ملتا ہے، جبکہ فلسطینی اس امداد کو اپنے قیدیوں کے لیے ایک سماجی ضرورت سمجھتے ہیں۔
اسی دباؤ کے جواب میں فلسطینی اتھارٹی نے فروری 2025 میں اس نظام میں کچھ اصلاحات کا اعلان بھی کیا تھا، لیکن امریکا نے انہیں ناکافی قرار دیا۔ جس کے بعد سزا کے طور پر اسرائیل نے ٹیکس روک لیے جو اب فلسطینی حکومت کے سالانہ بجٹ کے نصف سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں اور اس وجہ سے مغربی کنارے میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھاری کٹوتیاں کی گئی ہیں۔
اس سارے معاملے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیل کو تو امریکی بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے لیکن فلسطینی اتھارٹی کو اس سے دور رکھا گیا ہے۔
ٹرمپ کے منصوبے کے تحت حماس کے ہتھیار ڈالنے کے بعد غزہ کا کنٹرول ماہرین کی ایک فلسطینی کمیٹی کے حوالے کیا جائے گا۔
یروشلم میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے خصوصی ایلچی نکولے ملاڈینوف نے ٹیکس کے معاملے کا ذکر کیے بغیر بتایا کہ غزہ کی دوبارہ تعمیر کے منصوبے آخری مراحل میں ہیں۔
نکولے ملاڈینوف کا کہنا تھا کہ ہم شعبہ وار بنیادوں پر منصوبہ بندی کر رہے ہیں، اخراجات کا تخمینہ لگا رہے ہیں اور عطیہ دہندگان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، جیسے ہی حالات سازگار ہوں گے ہم پورے عزم کے ساتھ کام شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔













