ایرانی حکام نے باقر قالیباف کے مذاکراتی ٹیم سے الگ ہونے کی افواہیں بے بنیاد قرار دے دیں

ایرانی پارلیمنٹ کے میڈیا مرکز نے خبروں کو جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔
اپ ڈیٹ 20 مئ 2026 06:10pm

ایرانی پارلیمنٹ کے میڈیا مرکز نے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے ایران کی مذاکراتی ٹیم سے الگ ہونے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے انہیں مکمل طور پر جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’تسنیم نیوز‘ کے مطابق ایران کی پارلیمنٹ کے مواصلات، میڈیا اور ثقافتی امور مرکز کے سربراہ ایمان شمسائی نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ محمد باقر قالیباف نے ایران کی مذاکراتی ٹیم کی سربراہی چھوڑ دی ہے۔

ایمان شمسائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ بعض حلقوں اور افراد کی جانب سے پھیلائی جانے والی یہ خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ افراد کی جانب سے یہ نیا دعویٰ کہ ڈاکٹر باقر قالیباف نے مذاکراتی ٹیم کی سربراہی چھوڑ دی ہے، مکمل طور پر جھوٹ اور کھلا فریب ہے۔ شمسائی کے مطابق محمد باقر قالیباف بدستور ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ہیں اور ساتھ ہی چین سے متعلق امور کے لیے خصوصی نمائندے کے طور پر بھی اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں ایک بار پھر واضح کرتا ہوں کہ ڈاکٹر قالیباف اب بھی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں اور صدر کی تجویز اور رہبرِ انقلاب کی منظوری سے انہیں چین سے متعلق امور کے لیے نظام کا خصوصی نمائندہ بھی مقرر کیا گیا ہے، جو تہران اور بیجنگ کے درمیان بڑھتے سفارتی اور اقتصادی روابط کے تناظر میں اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

محمد باقر قالیباف ایران کی اہم سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور اس وقت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر بھی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایران کے سفارتی اور مذاکراتی عمل سے متعلق مختلف افواہیں گردش کر رہی تھیں، جن کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے حکام نے وضاحتی بیان جاری کیا۔

محمد باقر قالیباف اس وقت ایران کی سیاسی قیادت کا اہم حصہ ہیں اور وہ ایرانی پارلیمنٹ (مجلسِ شوریٰ اسلامی) کے اسپیکر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ ملکی پالیسی سازی اور پارلیمانی امور میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، جب کہ حالیہ عرصے میں انہیں بعض سفارتی اور خصوصی ذمہ داریوں کے لیے بھی اہم عہدے سونپے گئے ہیں۔

اس سے قبل وہ 1997 سے 2000 تک پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی ایئر فورس کے کمانڈر رہے، جس کے بعد انہیں ایران کی پولیس فورس کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں وہ 2005 سے 2017 تک تہران کے میئر کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے، جہاں وہ طویل عرصے تک ایک اہم انتظامی شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔

قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق قالیباف متعدد بار ایران کے صدارتی انتخابات میں بھی حصہ لے چکے ہیں، جن میں 2005، 2013، 2017 اور 2024 کے انتخابات شامل ہیں، تاہم وہ کسی بھی موقع پر کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ 2017 کے صدارتی انتخابات میں انہوں نے ووٹنگ سے قبل اپنی امیدواری واپس لے لی تھی۔

مئی 2020 میں انہیں ایران کی پارلیمنٹ کا اسپیکر منتخب کیا گیا، جہاں انہوں نے علی لاریجانی کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں۔ لاریجانی 2008 سے اس عہدے پر فائز تھے اور ایرانی سیاسی ڈھانچے میں ایک بااثر شخصیت سمجھے جاتے تھے۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھی، جس کے جواب میں تہران نے جوابی کارروائیاں کیں اور آبنائے ہرمز میں عالمی تیل و گیس کی ترسیل متاثر ہوئی۔

بعد ازاں 8 اپریل کو پاکستانی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان اہم مذاکرات اسلام آباد میں ہوئے تھے، جن میں ایرانی وفد کی قیادت محمد باقر قالیباف کر رہے تھے جب کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ امریکی وفد کی قیادت اس وقت جے ڈی وینس نے کی تھی، تاہم یہ مذاکرات کسی حتمی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔