امریکا میں حزب اللہ سے وابستہ 9 افراد پر نئی پابندیاں عائد

پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد لبنان کی پارلیمنٹ، سیکیورٹی اور عسکری اداروں سے منسلک ہیں: امریکی محکمہ خزانہ
شائع 21 مئ 2026 11:18pm

امریکی محکمہ خزانہ نے حزب اللہ سے وابستہ 9 افراد پر نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ یہ افراد لبنان میں امن عمل کو سبوتاژ کرنے اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں میں بن رہے تھے۔ امریکی حکام کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد لبنان کی پارلیمنٹ، سیکیورٹی اور عسکری اداروں سے منسلک ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) نے جمعرات کو اعلان کیا کہ لبنان میں حزب اللہ کے اثرورسوخ اور امن عمل میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں 9 افراد کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بیان میں کہا کہ حزب اللہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے جسے مکمل طور پر غیر مسلح ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ ان عہدیداروں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا جو لبنانی حکومت کے اداروں میں موجود رہ کر حزب اللہ کی معاونت کر رہے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد میں حزب اللہ کے سینئر سیاسی اور پارلیمانی نمائندے شامل ہیں، جن پر الزام ہے کہ وہ تنظیم کے مفادات کو آگے بڑھاتے اور لبنانی حکومت پر دباؤ ڈالتے رہے۔

پابندیوں کی فہرست میں شامل افراد میں محمد عبدالمطلب فنیش، حسن فضل اللہ، ابراہیم الموسوی اور حسین الحاج حسن شامل ہیں، جو حزب اللہ کے سیاسی و پارلیمانی دھڑے سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں۔

بیان کے مطابق حسن فضل اللہ 2005 سے لبنانی پارلیمنٹ میں حزب اللہ کی نمائندگی کر رہے ہیں، جبکہ ابراہیم الموسوی حزب اللہ کی میڈیا کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ حسین الحاج حسن پر الزام ہے کہ وہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی مخالفت میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے نامزد سفیر محمد رضا شیبانی پر بھی پابندیاں عائد کیں۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ لبنان نے ان کی نامزدگی مسترد کرتے ہوئے انہیں بیروت چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

اس کے علاوہ امل موومنٹ کے سکیورٹی عہدیدار احمد اسعد بعلبکی اور علی احمد صفوی بھی پابندیوں کی زد میں آئے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق دونوں افراد حزب اللہ کے ساتھ مل کر لبنان میں مخالف سیاسی قوتوں پر دباؤ ڈالنے اور اسرائیل کے خلاف کارروائیوں میں شامل رہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ لبنانی فوج اور جنرل ڈائریکٹوریٹ آف جنرل سکیورٹی کے بعض اہلکاروں نے بھی حزب اللہ کو معلومات فراہم کیں۔ اس سلسلے میں بریگیڈیئر جنرل خضر ناصرالدین اور کرنل سمیر حمادی کے نام بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں کے بعد ان افراد کے امریکا میں موجود تمام اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں جبکہ امریکی شہریوں اور اداروں کو ان کے ساتھ مالی یا تجارتی لین دین سے روک دیا گیا ہے۔

بیان میں خبردار کیا گیا کہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے امریکی اور غیر ملکی افراد یا مالیاتی ادارے بھی سخت قانونی کارروائی اور ممکنہ ثانوی پابندیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔