ٹک ٹاک سمیت دیگر آن لائن پلیٹ فارم پر بچوں کا تحفظ خطرے میں پڑگیا

پاکستان میں بچوں کی عمر آن لائن پلیٹ فارمز پر مؤثر تصدیق ممکن نہیں کیونکہ زیادہ تر بچے والدین کے نام پر رجسٹرڈ سمز استعمال کرتے ہیں۔
شائع 22 مئ 2026 03:52pm

انٹرنیٹ کی تیزی سے پھیلتی ہوئی دنیا میں ’بچوں کا تحفظ‘ اس وقت ایک بڑا عالمی اور قومی چیلنج بن چکا ہے، جس کے لیے دنیا بھر میں سخت قوانین اور نئے حفاظتی اقدامات متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ برطانوی ریگولیٹر کی حالیہ رپورٹ جہاں عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت کو ظاہر کرتی ہے، وہیں پاکستان میں موجودہ حالات اور معاشرتی مسائل اس حوالے سے مزید ٹھوس اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔

بچوں کو انٹرنیٹ کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اس وقت عالمی سطح پر بڑی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں، جن میں برطانیہ کے میڈیا ریگولیٹر ’آف کام’ کی حالیہ رپورٹ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے آن لائن دنیا میں 8 سے 12 سال کی عمربچوں کو اجنبیوں کے ہتھے چڑھنے اور ورغلائے جانے سے بچانے کے لیے نئے اور سخت ترین حفاظتی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

اس سلسلے میں اسنیپ چیٹ، میٹا اور روبلوکس نے تصدیق کی ہے کہ وہ بچوں کے اکاؤنٹس پر برطانوی قوانین کے مطابق نئی پابندیاں لگائیں گے۔ ان اقدامات کے تحت اسنیپ چیٹ پر اب کوئی بھی غیر متعلقہ بالغ شخص خودکار طور پر بچوں سے رابطہ نہیں کر سکے گا، روبلوکس والدین کو یہ اختیار دے گا کہ وہ کم عمر بچوں کی براہِ راست بات چیت کو مکمل طور پر بند کر سکیں، اور انسٹاگرام پر بالغوں اور بچوں کے درمیان مشکوک گفتگو کو پکڑنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے جدید ترین ٹولز استعمال کیے جائیں گے۔

دوسری جانب، برطانوی ریگولیٹر نے ٹک ٹاک اور یوٹیوب کے رویے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ بچوں کو نقصان دہ مواد دکھانے والے اپنے نظام کو درست کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس پر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

عالمی سطح پر ہونے والی ان تمام کوششوں کے برعکس، پاکستان میں انٹرنیٹ اور اسمارٹ فونز کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث بچوں کے تحفظ کے حوالے سے منفرد اور سنجیدہ مسائل کا سامنا ہے۔

پاکستان میں اگرچہ انٹرنیٹ اور جرائم کی روک تھام کا قانون موجود ہے اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کا سائبر کرائم ونگ آن لائن بلیک میلنگ اور بچوں کے استحصال کے خلاف کارروائیاں بھی کرتا ہے، لیکن زمینی حقائق مغربی ممالک سے یکسر مختلف ہیں۔

پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ بچوں کی اصل عمر کی تصدیق کا نہ ہونا ہے، کیونکہ یہاں زیادہ تر بچے اپنے والدین یا گھر کے بڑے افراد کے نام پر رجسٹرڈ سم کارڈز اور انٹرنیٹ کنکشنز استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے یہ جاننا ناممکن ہو جاتا ہے کہ موبائل فون کوئی بچہ چلا رہا ہے یا کوئی بڑا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی انٹرنیٹ پر غیر مناسب مواد کی روک تھام کے لیے مسلسل کام کرتی ہے، تاہم فیس بک، یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسی بڑی عالمی کمپنیوں کے مرکزی دفاتر پاکستان میں نہ ہونے کے باعث، شکایات پر رابطے اور کارروائی کے عمل میں وقت لگ جاتا ہے جو اس کام کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔

پاکستان میں بچوں کو آن لائن محفوظ رکھنے کی راہ میں ایک اور بڑی رکاوٹ معاشرتی رویے اور والدین میں جدید ٹیکنالوجی کی سمجھ بوجھ کی کمی ہے۔ ہمارے ہاں ایک بڑی تعداد ان والدین کی ہے جو خود انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال سے زیادہ واقف نہیں ہیں، اس لیے وہ یہ نگرانی کرنے سے قاصر رہتے ہیں کہ ان کا بچہ موبائل پر کن لوگوں سے رابطہ کر رہا ہے یا کس قسم کا مواد دیکھ رہا ہے۔

مزید برآں، معاشرتی بدنامی اور خوف کے باعث اکثر خاندان آن لائن بلیک میلنگ یا ہراساں کیے جانے کا شکار ہونے کے باوجود قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رجوع کرنے سے کتراتے ہیں۔

اگرچہ بعض مقامی فلاحی تنظیمیں اسکولوں میں بچوں اور والدین کو انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق بچوں کا مؤثر تحفظ اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک والدین خود اس معاملے میں سنجیدگی سے آگے نہیں آئیں گے۔

مثال کے طور پر مختلف آن لائن گیمز میں بچے لائیو چیٹ کے زریعے اجنبی افراد سے بات کرتے ہیں،جیسے روبلوکس صرف ایک سادہ گیم نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں بچے گیم کھیلنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے دوسرے کھلاڑیوں سے براہِ راست بات چیت بھی کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر اس پر صحیح نگرانی نہ رکھی جائے، تو یہ بچوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں بچوں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور سائبر کرائم کے ماہرین کی رپورٹس کے مطابق،پب جی ، فری فائر اورروبلوکس پاکستان میں کھیلی جانے والی آن لائن گیمز میں شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ آن لائن پرائیویسی، ڈیجیٹل خطرات اور حفاظتی تدابیر سے متعلق آگاہی حاصل کریں اور بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر ذمہ دارانہ نظر رکھیں۔

لاعلمی اور غفلت کی صورت میں بچے ہراسانی، استحصال اور دیگر آن لائن خطرات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ساتھ ہی حکومت کو بھی اس سلسلے میں سنجیدہ عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔