'اَن دیکھا دھرندھر': فلم کا غلیظ گالیوں اور مزید خون خرابے سے بھرا 'اَن سینسرڈ' ورژن ریلیز

مناظر نئے نہیں لیکن دیکھنے میں زیادہ پرتشدد محسوس ہوتے ہیں۔
شائع 23 مئ 2026 11:42am

رنویر سنگھ کی مشہور فلم ’دھرندھر‘ کےنئے ان کٹ ورژن ’را اینڈ اَن دیکھا‘ نے ریلیز ہوتے ہی مداحوں کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ یہ ورژن 22 مئی کو نیٹ فلکس اور جیو ہاٹ اسٹار پر ایک ساتھ ریلیز کر دیا گیا ہے۔

جب فلم پہلی بار 5 دسمبر 2025 کو سینما گھروں کی زینت بنی تھی تو اس کی شاندار کہانی اور اداکاری نے سب کی توجہ کھینچ لی تھی۔ اب اس نئے اور غیر سینسر شدہ ورژن کے بعد شائقین کے ذہنوں میں یہ سوال ہے کہ اس میں کیا نیا ہے اور کیا واقعی یہ فلم اَن دیکھی ہے؟

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس نئے ورژن میں کوئی نئے مناظر شامل نہیں کیے گئے ہیں۔ کہانی بالکل وہی ہے، لیکن فلم کے ڈائیلاگز اور سینز کی شدت پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

آر مادھون کے قندھار ہائی جیک والے ابتدائی منظر سے ہی یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ فلم کا رنگ مزید گہرا کر دیا گیا ہے جس سے خون اور زخم زیادہ واضح اور خوفناک لگتے ہیں۔ اگرچہ یہ مناظر نئے نہیں ہیں لیکن دیکھنے میں زیادہ پرتشدد محسوس ہوتے ہیں۔

اس ورژن کی سب سے بڑی تبدیلی اس کے مکالموں میں ہے۔ تھیٹر ورژن میں کئی سخت جملے اور گالیاں میوٹ یا سنسر کی گئی تھیں یہاں انہیں بغیر کسی سنسر کے مکمل طور پر پیش کیا گیا ہے۔

کرداروں کے جذبات بھی ان مکالموں کے ذریعے زیادہ کھل کر سامنے آئے ہیں۔ عزیر بلوچ کا کردار اب زیادہ غصے والا لگتا ہے۔

اسی طرح ارجن رامپال کا کردار میجر اقبال اپنے غیر سینسر شدہ مکالموں کی وجہ سے مزید خطرناک لگتا ہے۔ سنجے دت کے کردار ایس پی چوہدری اسلم کو بھی اس ورژن کا بڑا فائدہ ہوا ہے۔ ان کے ادا کیے گئے ڈائیلاگ ان کے کردار کی بے خوفی اور خطرناک سوچ کو بخوبی ظاہر کرتے ہیں۔

اکشے کھنہ کا کردار رحمان ڈکیت بھی کافی جارحانہ نظر آتا ہے۔ حمزہ کے ساتھ تصادم کے دوران ان کے ادا کیے گئے ڈائیلاگ ان کے جذباتی ٹوٹ پھوٹ کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔

اگرچہ فلم کو ”ان کٹ“ قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اس میں نئے ایکشن سینز یا اضافی تشدد شامل نہیں کیا گیا۔ یہ ورژن زیادہ تر مکالموں، آوازوں اور جذباتی شدت کو غیر سینسر انداز میں دکھانے پر توجہ دیتا ہے۔

فلم بینوں کا کہنا ہے کہ ’دھرندھر: را اینڈ اَن دیکھا‘ اصل فلم کا زیادہ بے رحم، جذباتی اور حقیقت کے قریب ورژن محسوس ہوتا ہے، جو کرداروں کی نفسیات اور کہانی کے دباؤ کو مزید نمایاں کر دیتا ہے۔