مومنہ اقبال کا خاموشی سے نکاح، شوہر کے اہم ترین انکشافات سامنے آگئے
پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال جہاں ایک طرف سابق ایم پی اے ثاقب چڈھر کے خلاف مبینہ ہراسانی کا مقدمہ لڑ رہی ہیں، وہیں انہوں نے اپنے منگیتر حمزہ حبیب سے خاموشی سے نکاح بھی کر لیا ہے۔
دونوں کا نکاح 23 مئی 2026 کو سادگی کے ساتھ انجام پایا، جبکہ شادی کی تقریبات یکم جون سے شروع ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اس نکاح کا باقاعدہ اعلان حمزہ حبیب نے میڈیا کے سامنے ایک پریس کانفرنس اور عدالت کے باہر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ جس میں انہوں نے اپنی اہلیہ مومنہ اقبال کے حق میں کھل کر گفتگو بھی کی۔
لاہور ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے حمزہ حبیب نے تصدیق کی اور کہا کہ الحمدللہ ہمارا نکاح ہوچکا ہے، مومنہ اقبال اب میری قانونی بیوی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اپنی اہلیہ کے تحفظ اور عزت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔
اس وقت مومنہ اقبال کی جانب سے ان کی بہن اور وکیل رمشا اقبال قانونی معاملات دیکھ رہی ہیں جبکہ ثاقب چڈھر کی نمائندگی میاں اشفاق کر رہے ہیں۔
گزشتہ روز حمزہ حبیب نے وکیل رمشا اقبال کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے نکاح سے قبل ملنے والی مبینہ دھمکیوں اور دباؤ کے حوالے سے تفصیلات عوام کے سامنے رکھیں۔
حمزہ حبیب نے پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کو بتایا کہ شادی سے پہلے مختلف افراد کی جانب سے ان پر دباؤ ڈالا گیا تاکہ وہ مومنہ اقبال سے تعلق ختم کردیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ثاقب چڈھر نے سب سے پہلے میرے سامنے مومنہ کی کردار کشی کرنے کی کوشش کی کیونکہ وہ ہماری شادی رکوانا چاہتا تھا۔ اس نے مجھ سے ذاتی طور پر رابطہ کیا اور مومنہ کے کردار کے خلاف بات کرنے اور اس پر جھوٹے الزامات لگانے کی کوشش کی۔
حمزہ حبیب نے کہا کہ انہوں نے تمام الزامات کو جھوٹ قرار دیا اور مومنہ اقبال پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض لوگوں نے انہیں انٹرویوز دینے اور مومنہ کے خلاف بیانات دینے کے بدلے پیسوں کی پیشکش بھی کی، تاہم انہوں نے ایسی تمام کوششوں کو مسترد کردیا۔
حمزہ نے مزید دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے ثاقب چڈھر کے جھوٹے الزامات کو مسترد کر دیا تو ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے جھنگ پولیس کے ذریعے ایک ایف آئی آر درج کروا دی گئی کیونکہ وہ فریق جانتا تھا کہ ہماری شادی چند روز میں ہونے والی ہے۔
حمزہ کے مطابق اس ایف آئی آر میں ان کا نام لکھنے کے بجائے ان کا فون نمبر استعمال کیا گیا جو کہ غیر اخلاقی تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جب پولیس سے پوچھا گیا کہ یہ مقدمہ مجھ پر کیوں درج کیا گیا ہے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ اپنے پیسے اور طاقت کے نشے میں سمجھتے ہیں کہ ہر کوئی ان کے سامنے جھک جائے گا، لیکن یہ میرا فیصلہ تھا اور میں نے مومنہ کو بھی ان کے خلاف ڈٹ جانے کا مشورہ دیا۔
دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ نے مبینہ دھمکیوں کے اس مقدمے میں حمزہ حبیب کی یکم جون تک حفاظتی ضمانت منظور کر لی ہے اور انہیں متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
حمزہ حبیب نے اپنی اہلیہ کی حمایت میں نہایت جذباتی اور واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ مومنہ میری بیوی ہے اور وہ میری ریڈ لائن ہے۔ کوئی اس کے کردار پر سوال نہیں اٹھا سکتا۔ جو بھی اس کے خلاف بات کرنے کی کوشش کرے گا اسے میرے غصے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہم اس پر خاموش نہیں بیٹھیں گے اور میڈیا کے سامنے ہی اسے بےنقاب کریں گے۔
دوسری جانب مومنہ اقبال کے مداح نکاح کی خبر سامنے آتے ہی ان کی نئی زندگی کے لیے نیک تمنائیں بھی دے رہے ہیں۔
















