آموں کے موسم میں فروٹ فلائیز کیوں بڑھ جاتی ہیں؟
گرمیوں کا موسم آتے ہی آموں کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے، لیکن اس بار آم ایک غیر متوقع مسئلے کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔ ماہرین کے مطابق فروٹ فلائیز (پھلوں پر حملہ کرنے والی چھوٹی مکھیاں) آموں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ برآمدات اور گھریلو صفائی دونوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
حال ہی میں بھارت میں آموں کے سیزن کو اس وقت ایک بڑا جھٹکا لگا جب جاپان نے وہاں سے آموں کی درآمد پر عارضی پابندی لگا دی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپانی حکام کا کہنا تھا کہ بھارت میں پھلوں کو کیڑوں سے پاک کرنے والے مراکز کے طریقہ کار میں کچھ خامیاں پائی گئی ہیں، جس کی وجہ سے الفانسو، کیسر، لنگڑا اور بنگن پلی جیسی مشہور اقسام کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ چھوٹی مکھیاں صرف آموں کو ہی خراب نہیں کرتیں بلکہ ان کے ذریعے پوشیدہ انڈے ہمارے گھروں تک پہنچ جاتے ہیں۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق اکلیولینڈ کلینک کی ایک رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ یہ مکھیاں میٹھے اور پکے ہوئے پھلوں کی خوشبو سے بہت تیزی سے راغب ہوتی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک مادہ مکھی ایک وقت میں پانچ سو تک انڈے دے سکتی ہے۔ گرمی اور حبس کے موسم میں یہ انڈے بہت تیزی سے بچے بنتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا گھر ان مکھیوں سے بھر جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آم میں قدرتی شکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور جب یہ زیادہ پک جاتا ہے تو اس سے خارج ہونے والی خوشبو فروٹ فلائیز کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمرے کے درجہ حرارت پر رکھے گئے آم ان کے لیے بہترین افزائش گاہ بن سکتے ہیں۔
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ فروٹ فلائیز صرف پھلوں کے قریب رہتی ہیں، لیکن حقیقت میں ان مکھیوں کی افزائش کے لیے کچن کی سنک، کچرے کے ڈبے اور گیلے کپڑے یا اسفنج سب سے بہترین جگہیں ثابت ہوتے ہیں۔
ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ مکھیاں گھروں کے گرم اور نمی والے ماحول جیسے کہ گٹر کے دہانے، کچرا تلف کرنے والی جگہوں اور ری سائیکلنگ کے ڈبوں میں بہت زیادہ پھلتی پھولتی ہیں۔
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ مکھیاں کاٹتی نہیں ہیں اس لیے نقصان دہ نہیں ہیں، لیکن سائنسی تحقیق اس کے برعکس بتاتی ہے۔ سائنس ڈائریکٹ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اگرچہ فروٹ فلائیز مچھروں کی طرح کاٹتی نہیں، لیکن یہ جراثیم پھیلانے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
یہ مکھیاں گندی جگہوں، نالیوں اور خراب کھانے سے خطرناک جراثیم جیسے کہ ای کولائی اور سالمونیلا اپنے ساتھ لاتی ہیں اور جب یہ ہمارے تازہ کھانے پر بیٹھتی ہیں تو یہ جراثیم وہاں منتقل کر دیتی ہیں۔ اس لیے یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کچن میں صفائی کے لیے استعمال ہونے والے کپڑوں یا اسفنج پر اگر تھوڑا سا بھی کھانا یا مائع رہ جائے تو یہ مکھیاں وہاں کھینچی چلی آتی ہیں، اس لیے صفائی کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔
ان مکھیوں سے گھر پر نجات پانے کے لیے ماہرین نے کچھ بہت آسان طریقے بتائے ہیں۔ سب سے پہلا طریقہ یہ ہے کہ آم، کیلے یا دیگر پھل جیسے ہی پک جائیں، انہیں باہر رکھنے کے بجائے فریج میں رکھ دیں کیونکہ ٹھنڈا درجہ حرارت ان مکھیوں کو دور رکھتا ہے
پھلوں کو دھونے کے بعد اچھی طرح خشک کریں۔
جوس، شربت یا میٹھی اشیاء کے گرنے کی صورت میں فوراً صفائی کریں۔
اس کے علاوہ کچن کو صاف ستھرا رکھنا، گندے برتن جلد دھونا اور کچرے کو بروقت ٹھکانے لگانا بھی ضروری ہے۔
فروٹ فلائیز سے نجات کا آسان گھریلو طریقہ
اگر گھر میں فروٹ فلائیز کی تعداد بڑھ جائے تو سیب کے سرکے سے آسان جال تیار کیا جا سکتا ہے۔ ایک چھوٹے پیالے یا بوتل میں سیب کا سرکہ ڈالیں اور اس میں برتن دھونے والے صابن کے چند قطرے ملا دیں۔
اس پیالے کو پلاسٹک کی شیٹ سے ڈھانپ دیں اور اس میں چھوٹے چھوٹے سوراخ کر دیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیب کے سرکے کی میٹھی خوشبو ان مکھیوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور جیسے ہی وہ سوراخوں کے راستے اندر جاتی ہیں، صابن کے محلول میں پھنس جاتی ہیں۔ یوں چند دنوں میں فروٹ فلائیز کی تعداد نمایاں طور پر کم ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق چند احتیاطی تدابیر اپنا کر نہ صرف آموں کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے بلکہ فروٹ فلائیز کے مسئلے سے بھی بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔
















