فیفا ورلڈ کپ کی چمکتی ٹرافی کی قیمت کیا ہے؟

ورلڈ کپ ٹرافی کی مادی قیمت اپنی جگہ لیکن اس کی اصل اہمیت اس تاریخی وقار اور عالمی شناخت میں ہے جو اسے کھیل کی دنیا کا سب سے بڑا انعام بناتی ہے۔
شائع 05 جون 2026 12:27pm

فٹبال کے شائقین کی نظریں فیفا ورلڈ کپ 2026 پر جمی ہوئی ہیں اور دنیا بھر میں اس میگا ایونٹ کا بے صبری سے انتظار کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی توجہ اس سنہری ٹرافی پر بھی مرکوز ہے جسے اٹھانے کا خواب ہر فٹ بالر دیکھتا ہے۔ جذباتی اور تاریخی اعتبار سے یہ ٹرافی انمول سمجھی جاتی ہے، تاہم مادی اور مالیاتی نقطۂ نظر سے بھی اس کی مالیت موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔

اسی تناظر میں جب عالمی فٹبال کے ممکنہ منظرنامے پر نظر ڈالی جائے تو اس بار کسی ایک ٹیم کو واضح فیورٹ قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ارجنٹائن کی ٹیم اپنے اعزاز کا دفاع کرنے کے لیے میدان میں اترے گی جبکہ فرانس، انگلینڈ، اسپین اور پرتگال جیسی ٹیمیں جیت کی مضبوط امیدوار دکھائی دے رہی ہیں۔

دوسری طرف برازیل اور جرمنی جیسی بڑی ٹیمیں ماضی کی طرح اس بار صف اول میں تو نہیں ہیں لیکن وہ کسی بھی وقت لیکن وہ کسی بھی وقت حیران کن کارکردگی دکھا کر ٹرافی اپنے نام کر سکتی ہیں۔ اس سب کے درمیان ایک سوال اکثر شائقین کے ذہنوں میں آتا ہے کہ جس ٹرافی کو اٹھانے کے لیے دنیا کی بہترین ٹیمیں جان لڑا دیتی ہیں، اس کی مالی قیمت اصل میں کتنی ہے؟

اگر صرف اس ٹرافی میں استعمال ہونے والے سونے اور قیمتی پتھروں کی بات کی جائے تو موجودہ مارکیٹ کے حساب سے اس کی قیمت تقریباً 2 لاکھ پچاس ہزار امریکی ڈالر بنتی ہے کیونکہ حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں کافی بڑھ چکی ہیں اور اس کو بنانے میں بہترین مہارت کا استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم اس ٹرافی کی اصل تاریخی اور جذباتی اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس اصل ٹرافی کی نیلامی کی جائے تو اس کی قیمت 2 کروڑ امریکی ڈالر سے بھی اوپر جا سکتی ہے۔

یہ خوبصورت ٹرافی 37 سینٹی میٹر اونچی ہے اور اسے بنانے میں 18 قیراط سونا استعمال کیا گیا ہے جبکہ اس کا کل وزن تقریباً 6 کلوگرام ہے۔ اس ٹرافی کے ڈیزائن میں دو انسانی شکلیں پوری دنیا کو اپنے ہاتھوں پر اٹھائے ہوئے دکھائی دیتی ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ فٹ بال واقعی پوری دنیا کا مقبول ترین کھیل ہے۔

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ٹرافی اندر سے بالکل ٹھوس نہیں ہے بلکہ اسے اندر سے خالی رکھا گیا ہے کیونکہ اگر اسے مکمل ٹھوس سونے سے بنایا جاتا تو یہ اتنی بھاری ہو جاتی کہ کھلاڑیوں کے لیے اسے ہاتھ میں اٹھانا ہی مشکل ہو جاتا۔ اس ٹرافی کے نچلے حصے پر سبز رنگ کے ایک خاص پتھر ملاکائٹ کی دو تہیں لگائی گئی ہیں جو اس کی خوبصورتی کو مزید بڑھاتی ہیں۔

موجودہ ٹرافی کا یہ ڈیزائن ایک اطالوی مجسمہ ساز سلویو گازانیگا نے 1970 میں ایک عالمی مقابلے کے بعد تیار کیا تھا۔ اس سے پہلے ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کو جولز ریمی نامی ٹرافی دی جاتی تھی لیکن جب برازیل نے 1970 میں تیسری بار ورلڈ کپ جیتا تو وہ پرانی ٹرافی مستقل طور پر برازیل کے حوالے کر دی گئی، جس کے بعد اس نئی ٹرافی کو بنانے کی ضرورت پیش آئی۔ موجودہ ٹرافی کو پہلی بار 1974 میں مغربی جرمنی کی ٹیم نے اپنے نام کیا تھا جب ان کے کپتان مشہور فٹ بالر فرینز بیکن باؤر تھے۔

ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کو کبھی بھی اصل ٹرافی مستقل طور پر گھر لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ فیفا اس اصل ٹرافی کو اپنی ملکیت میں رکھتا ہے اور فائنل میچ کی تقریب ختم ہوتے ہی اسے فوری طور پر سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں واقع اپنے ہیڈ کوارٹر واپس پہنچا دیا جاتا ہے۔ جیتنے والے ملک کو یادگار کے طور پر اپنے ساتھ لے جانے کے لیے کانسی سے بنی ایک ٹرافی دی جاتی ہے جس پر سونے کا پانی چڑھا ہوتا ہے۔