کراچی میں 40 ہزار گاڑیاں بلیک لسٹ قرار، ایکسائز کا قبضے میں لینے کا فیصلہ

ای ٹکٹنگ جرمانے اور نامکمل ریکارڈ والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی، ضبطی اور امپاؤنڈنگ کا انتباہ
شائع 08 جون 2026 12:00pm

کراچی ٹریفک پولیس اور محکمہ ایکسائز نے فیس لیس ای ٹکٹنگ نظام کے تحت 40 ہزار گاڑیوں کو بلیک لسٹ قرار دے دیا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ یکم جولائی سے بلیک لسٹ گاڑیوں کے خلاف خصوصی کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا، جبکہ واجبات ادا نہ کرنے والوں کی گاڑیاں تحویل میں بھی لی جا سکتی ہیں۔

کراچی ٹریفک پولیس اور محکمہ ایکسائز نے فیس لیس ای ٹکٹنگ نظام کے تحت اہم فیصلہ کرتے ہوئے 40 ہزار گاڑیوں کو بلیک لسٹ قرار دے دیا ہے۔ حکام کے مطابق ان گاڑیوں کے خلاف یکم جولائی 2026ء سے باقاعدہ کریک ڈاؤن کا آغاز کیا جائے گا۔

ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ بلیک لسٹ گاڑیوں میں وہ گاڑیاں بھی شامل ہیں جن کی ملکیت منتقل نہیں کرائی گئی، ریکارڈ نامکمل ہے یا رجسٹریشن کے وقت فراہم کیا گیا پتہ غلط یا نامکمل ہے۔

حکام نے گاڑی مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی گاڑیوں کا ریکارڈ درست کرائیں، ملکیت کی منتقلی کا عمل مکمل کریں اور ای ٹکٹنگ جرمانوں سمیت تمام سرکاری واجبات ادا کریں۔

ٹریفک پولیس کے مطابق یکم جولائی آخری مہلت ہے، جس کے بعد بلیک لسٹ گاڑیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ واجبات کی عدم ادائیگی کی صورت میں گاڑی ضبط یا امپاؤنڈ بھی کی جا سکتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سندھ پولیس کے ٹریکس (TRACS) پورٹل پر بلیک لسٹ گاڑیوں کی فہرست اپ لوڈ کر دی گئی ہے۔ شہری گاڑی نمبر یا اپنے شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے آن لائن چیک کر سکتے ہیں کہ ان کی گاڑی بلیک لسٹ میں شامل ہے یا نہیں۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ بلیک لسٹ گاڑیوں کے مالکان کو جرمانوں، قانونی نوٹسز اور دیگر انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ یکم جولائی سے قبل اپنی گاڑیوں کا اسٹیٹس ضرور چیک کریں اور تمام واجبات کی ادائیگی کے ساتھ ریکارڈ کی درستگی یقینی بنائیں تاکہ کسی قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔