ہم ساتھ ساتھ نہیں ہیں، ہنی مون کو فیملی ٹرپ بنانے پر دلہن نے طلاق مانگ لی
شادی کے بعد اپنے جیون ساتھی کے ساتھ اکیلے وقت گزارنے کا خواب اس وقت ایک ڈراؤنا خواب بن گیا جب ایک نئی نویلی دلہن کو پتہ چلا کہ اس کے ہنی مون پر شوہر کے والدین اور بہن بھائی بھی ساتھ جا رہے ہیں۔
بھارتی ریاست اتر پردیش میں پیش آنے والا یہ انوکھا معاملہ اب فیملی کونسلنگ سینٹر پہنچ گیا ہے اور بات طلاق تک جا پہنچی ہے۔
بولی ووڈ کی مشہور فلم ”ہم ساتھ ساتھ ہیں“ میں دکھایا گیا تھا کہ ہنی مون پر پوری فیملی ساتھ جاتی ہے اور سب خوش ہوتے ہیں، لیکن اصل زندگی میں ایسا نہیں ہوا۔
میرٹھ کے علاقے رام راج کی رہنے والی پڑھی لکھی لڑکی کی شادی دہلی کے پٹیل نگر کے ایک لڑکے سے ہوئی تھی جس نے سنگاپور سے ہاسپیٹلٹی مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کی ہے۔
ان کی شادی ایک میٹرومونیئل ویب سائٹ کے ذریعے طے پائی تھی اور دونوں نے نئی زندگی کا آغاز بڑے اچھے خوابوں کے ساتھ کیا تھا، مگر شادی کے فوراً بعد ہونے والے اس واقعے نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔
کونسلنگ سینٹر کے ماہرین کے مطابق دلہن نے اپنے شوہر پر الزام لگایا ہے کہ وہ شادی کے فوراً بعد ہنی مون پر اپنے والدین، بہن اور بھائی کو بھی ساتھ لے گیا۔
دلہن کا کہنا تھا کہ ہنی مون میاں بیوی کے لیے ایک خاص وقت ہوتا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کو سمجھ سکیں اور اپنے رشتے کو مضبوط بنا سکیں۔
انہوں نے کونسلنگ کرنے والوں کو بتایا کہ فیملی کے ارکان کے ہر وقت آس پاس ہونے کی وجہ سے مجھے اپنے شوہر کے ساتھ اکیلے میں اچھا وقت گزارنے کا کوئی موقع ہی نہیں ملا۔
دلہن کے مطابق جو چیز ایک یادگار سفر ہونی چاہیے تھی، وہ خاندانی پکنک بن کر رہ گئی، جس کی وجہ سے ان کے درمیان روز روز جھگڑے شروع ہو گئے اور معاملہ کونسلنگ سینٹر تک پہنچ گیا۔
دوسری طرف شوہر کا اس پورے معاملے پر اپنا ایک الگ مؤقف ہے۔ کونسلنگ کرنے والے ماہرین کے مطابق دولہے نے اپنی صفائی میں کہا ہے کہ وہ اپنی فیملی کو اس سفر پر صرف اس لیے ساتھ لے گیا تھا کیونکہ وہ سب کو خوش دیکھنا چاہتا تھا۔
شوہر کا کہنا تھا کہ اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو سفر میں شامل کرنے میں کوئی برائی یا غلط بات نہیں ہے اور وہ نہیں سمجھتے کہ انہوں نے کوئی غلطی کی ہے۔ شوہر کے مطابق ان کی نیت صاف تھی اور وہ سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے تھے۔
دونوں کے خیالات میں اس بڑے فرق کی وجہ سے رشتہ بچانا مشکل ہو رہا ہے۔ اب تک کونسلنگ کے تین دور ہو چکے ہیں لیکن دونوں میں سے کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔
کونسلنگ سینٹر کے ماہرین نے حال ہی میں ان کی ایک اور بیٹھک کروائی اور دونوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں ٹھنڈے دماغ سے سوچنے کے لیے مزید وقت دیا ہے، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اگلی چند ملاقاتوں میں بھی کوئی حل نہ نکلا تو یہ معاملہ باقاعدہ طلاق کی کارروائی کی طرف بڑھ جائے گا۔ جو ہنی مون اس نئے جوڑے کو قریب لانے کے لیے تھا، وہی اب ان کے رشتے کے خاتمے کی وجہ بنتا جا رہا ہے۔















