ایران: شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی 9 جولائی کو تدفین، چھ روزہ الوداعی تقریبات کا اعلان

علی خامنہ ای کو مشہد میں امام رضا کے روضے میں سپردِ خاک کر دیا جائے گا: ایرانی سرکاری میڈیا
اپ ڈیٹ 13 جون 2026 06:35pm

ایران نے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اور آخری رسومات کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے۔ علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے تھے، جس کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور پاکستان کی ثالثی میں امن کی کوششیں جاری ہیں۔

ایرانی حکومت نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات 4 جولائی سے 9 جولائی تک مختلف مراحل میں منعقد کی جائیں گی۔

رپورٹ کے مطابق 4 اور 5 جولائی کو الوداعی تقریبات کا آغاز دارالحکومت تہران سے کیا جائے گا، جہاں انکی میت کو آخری دیدار کے لیے رکھا جائے گا اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔

اس کے بعد 6 جولائی کو تہران میں باضابطہ جنازے کی تقریبات منعقد ہوں گی۔ تہران کے ڈپٹی میئر کے مطابق صرف دارالحکومت میں تقریباً 2 کروڑ افراد کی آمد کے پیشِ نظر لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ کے غیر معمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

جب کہ 7 جولائی کو میت ایران کے مقدس شہر قُم منتقل کی جائے گی جہاں تعزیتی اور دعائیہ تقریبات منعقد کی جائیں گی۔

سرکاری میڈیا کے مطابق 9 جولائی کو مشہد میں جنازے کی مرکزی تقریب کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں واقع مقدس ترین مقام ’حرمِ امام رضا‘ میں سپردِ خاک کر دیا جائے گا۔

آیت اللہ علی خامنہ ای 1939ء میں ایران کے شہر مشہد میں مقامی مذہبی رہنما جواد خامنہ ای کے گھر پیدا ہوئے تھے۔ ان کی پرورش نسبتاً سادہ اور محدود وسائل میں ہوئی۔ وہ اپنے بھائی بہنوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔

مشہد کے ایک مدرسے میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے عراق کے شہر نجف گئے، جہاں وہ آیت اللہ روح اللہ خمینی کے شاگرد رہے۔

علی خامنہ ای 1960 اور 1970 کی دہائی میں شاہِ ایران کے خلاف انقلابی تحریک میں بھی بھرپور سرگرم رہے۔ شاہ کی خفیہ پولیس نے انہیں چھ بار گرفتار کیا اور انہیں طویل عرصے تک قید اور جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا۔

سنہ 1981 میں تہران کی ایک مسجد میں تقریر کے دوران ایک ریکارڈنگ مائیکروفون میں چھپائے گئے بم کے ذریعے ان پر قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا۔ اس حملے میں وہ بال بال بچے لیکن ان کا سیدھا ہاتھ مستقل طور پر ناکارہ ہو گیا تھا۔

شاہِ ایران کا تختہ الٹنے کے بعد وہ ایران کے تیسرے صدر منتخب ہوئے اور ایران-عراق جنگ کے مشکل ترین دور میں ملک کے صدر رہے۔ 1989 میں آیت اللہ خمینی کی وفات کے بعد انہیں ایران کا دوسرا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا۔

علی خامنہ ای تقریباً 37 برس تک ایران کے سپریم لیڈر رہے۔ ملک کے سیاسی، مذہبی اور سیکیورٹی معاملات میں انہیں مرکزی حیثیت حاصل تھی۔

اہم حکومتی معاملات پر ویٹو کے اختیار سمیت وہ ملک کے آئینی ڈھانچے کے تحت اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں میں مؤثر کردار ادا کرتے تھے اور ریاست کے سربراہ اور مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف بھی رہے، جس کے باعث انہیں ایران کی سب سے طاقتور شخصیت سمجھا جاتا تھا۔

وہ عام طور پر ایران سے باہر کم سفر کرتے تھے اور تہران کے مرکزی حصے میں ایک محفوظ کمپاؤنڈ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ سادہ زندگی گزارتے تھے۔ ان کی اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کی ذاتی زندگی عوامی منظر سے دور رہی۔

امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے نام سے ایران پر مشترکہ حملوں کا آغاز کیا تو اس دوران تہران میں واقع علی خامنہ ای کے رہائشی کمپاؤنڈ کو بھی نشانہ بنایا تھا۔

ان حملوں میں علی خامنہ کے علاوہ ان کے اہلِ خانہ سمیت ایران کے کئی اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور حکومتی عہدیدار بھی جاں بحق ہوئے تھے، تاہم جنگی حالات اور سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ان کی تدفین کو مؤخر کر دیا گیا تھا۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک آڈیو پیغام میں انکشاف کیا تھا کہ جس وقت کمپاؤںڈ پر حملہ ہوا، اس وقت ان کے والد قرآن پاک کی تلاوت میں مصروف تھے۔

ایرانی میڈیا نے ایک تصویر بھی جاری کی تھی جسے سابق سپریم لیڈر کی شہادت سے چند لمحے قبل کی تصویر قرار دیا گیا تھا۔

ان کی شہادت کے بعد ایران کی سپریم کونسل نے ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر مقرر کیا تھا۔

ایران نے علی خامنہ ای کی تدفین کا اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جب پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ کے آخری مراحل میں ہونے کی خبریں ہیں اور امید ظاہر کی جارہی ہے کہ جلد ہی دونوں ملک باضابطہ طور پر اس معاہدے کے نکات پر اتفاق کرلیں گے۔

ہفتے کے روز وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات فیصلہ کُن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور اس حوالے سے پیش رفت آئندہ 24 گھنٹوں میں سامنے آجائے گی۔