دشمن کے ہر حملے کا جواب دیں گے، ہماری آنکھیں کھلی اور انگلیاں ٹریگر پر ہیں: ایرانی جنرل

آج امریکی حیران ہیں، وہ سمجھتے تھے کہ ایران کو آسانی سے تباہ کردیں گے لیکن انہیں شکست ہوئی: ڈپٹی کمانڈر پاسداران انقلاب
شائع 14 جون 2026 06:24pm

ایران کی پاسداران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر میجر جنرل یداللہ جوانی نے ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی بھی مہم جوئی کا جواب دینے کو تیار ہے، ہماری آنکھیں کھلی اور انگلیاں ٹریگر پر ہیں، دشمن کسی بھی جارحیت کی کوشش نہ کرے۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق اتوار کو صوبہ جنوبی خراسان کے شہر قائن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے سیاسی امور کے نائب کمانڈر میجر جنرل یداللہ جوانی نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج ہر قسم کی ممکنہ جارحیت یا اشتعال انگیزی کا فوری اور مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں، ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر وقت چوکس ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج آنکھیں کھلی اور انگلیاں ٹریگر پر رکھے ہوئے ہیں، دشمن کے ہر حملے کا جواب دیا جائے گا، دشمن کسی بھی جارحیت کی کوشش نہ کرے، دشمنوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرکے ریاست ایران کو کمزور کرنے کی ناکام کوشش کی۔

ایرانی جنرل نے مزید کہا کہ امریکا، یورپی ممالک اور خطے کے دیگر ممالک کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں آئندہ ایران کے قواعد و ضوابط کا نفاذ ہوگا اور ان کے بقول خطے میں غیر ملکی طاقتوں کی موجودگی کا دور ختم ہو چکا ہے۔

میجر جنرل یداللہ جوانی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے جون 2025 میں ایران کے خلاف 12 روزہ فوجی کارروائی کی تھی جب کہ دوسری فوجی مہم فروری کے آخر میں شروع ہوئی اور اپریل کے اوائل میں 40 روز بعد اختتام پذیر ہوئی۔ ان کے مطابق دونوں مواقع پر ایران کی جوابی کارروائیوں، مزاحمت اور آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ نے مخالف فریق کو جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور کیا۔

آئی آر جی سی کمانڈر نے دعویٰ کیا کہ 1980 کی دہائی کی ایران عراق جنگ اور بعد کی مختلف ناکام سازشوں کے بعد امریکا اور اسرائیل نے گزشتہ برس براہِ راست ایران کے خلاف محاذ کھولا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مخالفین کا خیال تھا کہ داخلی بے چینی اور حکومت مخالف گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث ایران ایک ہفتے کے اندر ہتھیار ڈال دے گا تاہم انہیں میدان میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر جنگ روکنے کی درخواست کرنا پڑی۔

میجر جنرل جوانی نے کہا کہ بعد ازاں مخالفین نے ایران کی قیادت کو نشانہ بنا کر اسلامی جمہوریہ کا نظام ختم کرنے کی کوشش کی لیکن ایرانی مسلح افواج نے ان کے بقول دشمنوں کو بھاری نقصان پہنچایا۔

ایرانی جنرل کا کہنا تھا کہ آج امریکی ری پبلیکن، ڈیموکریٹس، صیہونی حکومت اور ان کے اتحادی حیران ہیں کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ ایران کو آسانی سے بتاہ کردیں گے لیکن انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ متعدد تجزیہ کار اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ جنگ کے بعد ایران کی پوزیشن کمزور نہیں ہوئی بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔