لبنان پر اسرائیلی حملے سے معاہدے میں تاخیر ہوئی، دستخط آج ہی متوقع ہیں: ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم

امریکا ایک ناجائز ملک کو لگام ڈالنے میں ناکام ہے، ایرانی رہنما ابراہیم عزیزی
شائع 14 جون 2026 10:06pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی حملے اور ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کی دھمکی کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ اتوار (آج) کو ہی طے پانے کی امید ہے۔ ٹرمپ نے بیروت حملے پر صیہونی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ دوسری جانب ایران نے بیروت حملے کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ’ایگزیوس‘ سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیلی حملے کی وجہ سے امن معاہدے پر دستخط کے عمل میں چند گھنٹوں کی تاخیر ہوئی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’یہ معاہدہ ابھی ہونا تھا لیکن اب یہ کچھ گھنٹوں بعد ہوگا‘۔ ایگزیوس کے مطابق ٹرمپ اس معاہدے کو بچانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں جو بیروت حملے کے بعد لگ بھگ ختم ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا۔

امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ جب ان کے مشیروں نے انہیں بیروت میں اسرائیلی کارروائی کی اطلاع دی تو وہ شدید حیران ہوئے اور نیتن یاہو پر شدید برہم ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کے لیے انتہائی سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اس جاہل میں فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اتوار کے روز معاہدہ ہونے کا یہ دعویٰ امریکی صدر کی جانب سے ضرور سامنے آیا ہے تاہم ایرانی حکام کی جانب سے معاہدے پر دستخط کے حوالے سے کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بیروت حملے کا جواب دینے کا اعلان اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سخت جواب آ رہا ہے‘۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کو یہ حملہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے اسرائیل اور حزب اللہ، دونوں سے ایک دوسرے پر حملے فوری طور پر روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔

صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بیان میں کہا کہ ہم مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص لبنان میں قیامِ امن کے لیے اہم معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، جسے اس وقت متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ اگرچہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے لیکن اس نے جس حملے کے ردعمل میں کارروائی کی وہ انتہائی معمولی اور بے معنی تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں چوں کہ کوئی زخمی یا ہلاکت نہیں ہوئی، لہٰذا اس کے نتیجے میں مذاکراتی عمل میں خلل نہیں پڑنا چاہیے۔

دوسری جانب قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے رپورٹ کیا ہے کہ بیروت کے علاقے ضاحیہ پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 3 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں حزب اللہ کے رہنما علی الحج بھی شامل ہیں جب کہ 15 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اپنے بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک امن معاہدہ طے پانے کے قریب ہے جو لبنان سمیت پورے خطے میں امن لائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام فریقین کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے ان تازہ اسرائیلی حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے امریکا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

باقر قالیباف نے کہا کہ بیروت پر صیہونیوں کی دراندازی نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکا یا تو اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں سنجیدہ نہیں یا پھر ان پر عمل درآمد کرانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

انہوں نے کہا کہ پارسائی کے لبادے میں منافقت کے حوالے سے مشہور انگریزی اصطلاح ’گُڈ کوپ بیڈ کوپ‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تماشہ اب پرانا ہو چکا ہے۔

باقر قالیباف کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران اگر کوئی فریق اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی نہ صلاحیت رکھتا ہو اور نہ ہی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو پھر اس راستے پر آگے بڑھنے یا بات چیت جاری رکھنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی ہے۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ اور سپریم لیڈر کے فوجی مشیر ابراہیم رضاعی نے بھی اسرائیلی حملے ر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے کے لیے اسرائیل کو لگام ڈالنا ضروری ہے۔ اگر اسے قابو نہ کیا گیا تو معاہدے کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے اسے نقصان پہنچا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے اعلان کیا تھا امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر اتوار کو دستخط متوقع ہیں اور معاہدے کے فوراً بعد آبنائے ہرمز تمام جہازوں کے لیے کھول دی جائے گی۔ تمام اس حوالے سے پسِ پردہ کوئی پیش رفت ہوئی ہے یا نہیں اس حوالے سے دونوں جانب سے تاحال کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آسکا ہے۔