بیروت پر آج حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا: صدر ٹرمپ کا اسرائیلی حملے پر ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اسرائیل کے بیروت پر حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو یہ حملہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے تمام اسرائیل اور حزب اللہ، دونوں سے ایک دوسرے پر حملے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بیان میں کہا کہ ہم مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص لبنان میں قیامِ امن کے لیے اہم معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، جسے اس وقت متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ اگرچہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے لیکن اس نے جس حملے کے ردعمل میں کارروائی کی وہ انتہائی معمولی اور بے معنی تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں چوں کہ کوئی زخمی یا ہلاکت نہیں ہوئی، لہٰذا اس کے نتیجے میں مذاکراتی عمل میں خلل نہیں پڑنا چاہیے۔
دوسری جانب قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے رپورٹ کیا ہے کہ بیروت کے علاقے ضاحیہ پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 3 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں حزب اللہ کے رہنما علی الحج بھی شامل ہیں جب کہ 15 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
اپنے بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک امن معاہدہ طے پانے کے قریب ہے جو لبنان سمیت پورے خطے میں امن لائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام فریقین کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے ان تازہ اسرائیلی حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے امریکا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
باقر قالیباف نے کہا کہ بیروت پر صیہونیوں کی دراندازی نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکا یا تو اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں سنجیدہ نہیں یا پھر ان پر عمل درآمد کرانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
انہوں نے کہا کہ پارسائی کے لبادے میں منافقت کے حوالے سے مشہور انگریزی اصطلاح ’گُڈ کوپ بیڈ کوپ‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تماشہ اب پرانا ہو چکا ہے۔
باقر قالیباف کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران اگر کوئی فریق اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی نہ صلاحیت رکھتا ہو اور نہ ہی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو پھر اس راستے پر آگے بڑھنے یا بات چیت جاری رکھنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی ہے۔
ایرانی رکن پارلیمنٹ اور سپریم لیڈر کے فوجی مشیر ابراہیم رضاعی نے بھی اسرائیلی حملے ر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے کے لیے اسرائیل کو لگام ڈالنا ضروری ہے۔ اگر اسے قابو نہ کیا گیا تو معاہدے کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے اسے نقصان پہنچا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے اعلان کیا تھا امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر اتوار کو دستخط متوقع ہیں اور معاہدے کے فوراً بعد آبنائے ہرمز تمام جہازوں کے لیے کھول دی جائے گی۔ تمام اس حوالے سے پسِ پردہ کوئی پیش رفت ہوئی ہے یا نہیں اس حوالے سے دونوں جانب سے تاحال کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آسکا ہے۔













