ایران کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط ہوگئے، آبنائے ہرمز بھی کھل گئی: صدر ٹرمپ کی تصدیق
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط ہوگئے، آبنائے ہرمز بھی کھل گئی ہے اور جمعے تک مکمل طور پر کھول دی جائے گی، ایران میں اب سمجھدار قیادت ہے، تہران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی 7 اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس پہنچے، جہاں انہوں نے اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئیل میکرون کے ساتھ ملاقات کی۔
اس موقع پر فرانسی صدر کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کردیے ہیں، جس میں ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز پہلے ہی جزوی طور پر کھل چکی ہے اور جمعہ تک مکمل طور پر کھل جائے گی۔ معاہدے پر عمل درآمد کی سخت نگرانی کی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ایران شرائط پوری کرتا ہے تو پابندیوں میں نرمی شروع ہوگی اور اگر نہیں کرتا تو ہم دوبارہ وہیں واپس جائیں گے جہاں سے آغاز ہوا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات انتہائی اچھے ماحول میں ہوئے اور دونوں فریقین کے درمیان بہتر تعلقات کی امید ہے۔
امریکی صدر کے بقول ایران کو صرف اسی صورت میں پابندیوں میں ریلیف ملے گا جب وہ معاہدے کی تمام شرائط پر عمل کرے گا۔ یہ مکمل طور پر رویّے کی تبدیلی سے مشروط ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت جی-7 اجلاس میں شرکت کے لیے یورپ کے دورے پر موجود ہیں، جہاں مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی شیڈول ہیں۔
دوسری جانب سی این این کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بھی بتایا کہ صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے گزشتہ روز معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدے کی مکمل تفصیلات آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
ایک اور سینئر امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی بحران کے خاتمے کے لیے طے پانے والے معاہدے پر امریکی صدر ٹرمپ، نائب صدر وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے الیکٹرانک دستخط کیے ہیں۔
صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے معاہدے پر ذاتی طور پر دستخط کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا تاکہ وہ اس عمل کو کامیابی کے ساتھ منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اپنی وابستگی اور عزم کا واضح اظہار کرسکیں۔
تاہم امریکی حکام اور تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے معاہدے پر دستخط کیے ہیں تو ایرانی سپریم لیڈر یا اعلیٰ قیادت کی براہِ راست شمولیت کیوں نظر نہیں آتی جس سے معاہدے کی قانونی اور عملی حیثیت پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق معاہدے کا ایک اہم حصہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنا اور خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے۔ ساتھ ہی امریکا نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ امریکی افواج کا مرحلہ وار انخلا اسی صورت میں ہوگا جب ایران معاہدے کی شرائط پر مکمل عملدرآمد کرے گا۔













