اسرائیل کے لبنان پر مسلسل حملے امریکا-ایران معاہدے کے لیے چیلنج بن گئے

جنوبی لبنان پر تازہ اسرائیلی حملوں نے جنگ بندی اور امریکا ایران امن معاہدے کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں
شائع 20 جون 2026 05:04pm

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لبنان میں جنگ بندی کی اطلاعات کے بعد بھی اسرائیلی حملے بدستور جاری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے کو امریکا ایران امن معاہدے کے لیے نیا چیلنج قرار دیا جارہا ہے۔ امریکی انٹیلی جینس ٹرمپ انتظامیہ کو نیتن یاہو کی جانب سے امن معاہدہ سبوتاژ کرنے کی کوششوں کے حوالے سے پہلے ہی متنبہ کرچکی ہے۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جمعے کو طے ہونے والی جنگ بندی کے بعد ہفتے کے روز اسرائیل کے نے دوبارہ لبنان پر حملے کر کے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ عبوری معاہدے کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کی ہے۔

گزشتہ روز رائٹرز نے اسرائیل اور حزب اللہ کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں فریقین جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں، جس میں ایران، قطر اور امریکی مذاکرات کا روں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے خبریں سامنے آنے سے قبل جمعے کے روز جھڑپوں میں کم از کم لبنانی 47 جاں بحق جب کہ اسرائیل کے چار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کے لیے پُرعزم ہیں بشرطیکہ حزب اللہ بھی معاہدے کی پابندی اور حملے بند کرے۔ دوسری جانب حزب اللہ نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ اگر اسرائیل جنگ بندی پر عمل کرے گا تو وہ بھی اس کی پابندی کریں گے۔

اسرائیل نے اس طے شدہ جنگ بندی کا وقت شروع ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی جنوبی لبنان کے علاقے نبطیہ میں فضائی اور ڈرون حملے کیے، جس کی وجہ سے جنگ بندی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہفتے کے روز اسرائیلی فوج کے جنوبی شہر نبطیہ اور اس کے نواحی دیہات پر میں متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں جبکہ کم از کم سات افراد کے اس ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ہفتے کے روز جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں دھویں کے بادل فضا میں بلند ہوتے دکھائی دیے جبکہ اسرائیلی جنگی طیارے ساحلی شہر صور کے اوپر نچلی پروازیں کرتے رہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جنوبی لبنان کے گاؤں بریش میں ایک حملے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد لقمہ اجل بن گئے، جن میں والدین اور ان کے دو بچے شامل تھے۔

عرب سلیم نامی گاؤں میں ایک تباہ شدہ مکان سے بھی ایک لاش نکالی گئی ہے جب کہ دوئیر اور کفر رمان میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں ایک موٹر سائیکل سوار اور ایک لبنانی فوجی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ حالیہ دنوں میں صور شہر بڑے حملوں سے محفوظ رہا مگر یہاں بھی جنگی طیاروں کی مسلسل گھن گرج سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ بہت سے شہریوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ اگر جنگ بندی کا اعلان ہو بھی جائے تو اس پر عمل درآمد برقرار رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان یہ جنگ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہوئی تھی۔ اس کے بعد حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کی آبادیوں پر راکٹ اور ڈرون حملے شروع کیے، جس کے بعد اسرائیلی فوج نے لبنان کے کئی شہروں میں دراندازی کی اور اب جنوبی لبنان کے کئی علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان جمعرات کو طے پانے والے امن معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی گئی ہے، جسے جنگ کے دوران ایران نے بند کر دیا تھا۔

اگرچہ اسرائیل اور حزب اللہ اس معاہدے کے براہِ راست فریق نہیں ہیں تاہم اس میں لبنان میں فوجی کارروائیاں روکنے اور ملک کی خودمختاری کے احترام پر زور دیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں اس وقت تک موجود رہیں گی جب تک اسرائیل کو درپیش تمام خطرات ختم نہیں ہو جاتے۔ دوسری جانب حزب اللہ کا مؤقف ہے کہ وہ حملے اس وقت تک بند نہیں کرے گی جب تک اسرائیل لبنان سے انخلا کا واضح وعدہ نہیں کرتا۔

ایران بھی اس معاملے کو معاہدے کی اہم شرط قرار دیتے ہوئے سوئٹزرلینڈ کا طے شدہ دورہ منسوخ کرنے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں اور کہا جارہا تھا کہ لبنان میں جنگ بندی کے بغیر مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔ تاہم ہفتے کو امریکی کے اعلیٰ نمائندے اور ایران کے وزیر خارجہ دونوں ہی مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو چکے ہیں۔

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی ہفتے کو دوبارہ ایران کے دورے پر پہنچ چکے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق اس دورے کا مقصد آئندہ مذاکراتی مرحلے پر مشاورت ہے تاکہ امریکا اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے کا مسودہ تیار کیا جا سکے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ چونکہ ابتدائی معاہدہ اسی ہفتے ڈیجیٹل طریقے سے طے پایا تھا، اس لیے سوئٹزرلینڈ میں فوری ملاقات ناگزیر نہیں تھی اور آنے والے دنوں میں نئی ملاقات کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

امریکا اور ایران میں طے پانے والے عبوری امن معاہدے میں فریقین نے 60 دن کے اندر ایک نئے جوہری معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں پر اتفاق کیا تھا۔ معاہدے میں ایران کے لیے کئی معاشی مراعات شامل ہیں، جن میں تمام بین الاقوامی پابندیوں کا خاتمہ اور جنگ کے بعد تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کا قیام بھی شامل ہے۔

ایران کو پہلے ہی بعض رعایتیں مل چکی ہیں۔ عبوری معاہدے کے بعد امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں اور ایران کو اپنا تیل آزادانہ طور پر فروخت کرنے کی اجازت دی ہے۔ معاہدے میں ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے کی شق بھی شامل ہے، اگرچہ اس کے طریقۂ کار اور وقت کے بارے میں ابھی واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔