اسلام آباد مفاہمتی یادداشت : امریکا ایران مذاکرات آج سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے

ایرانی اور امریکی وفود برگن اسٹاک پہنچ گئے، پاکستانی وفد بھی روانہ
شائع 21 جون 2026 08:28am

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے اور امن قائم کرنے کے لیے پاکستان کی طرف سے کی جانے والی کوششیں کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے عارضی امن معاہدے کے تحت آج سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات ہوں گے۔

اس انتہائی اہم اور بڑے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ایک اعلیٰ سطح کے سرکاری وفد اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ سوئٹزرلینڈ روانہ ہو چکے ہیں، جہاں وہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے ان اہم مذاکرات کا حصہ بنیں گے۔

امریکا کی طرف سے صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر پہلے ہی سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں موجود ہیں، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔

دوسری طرف، ایران کا وفد بھی ان مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گیا ہے جہاں سوئس حکومت کے وزارتِ خارجہ کے افسران نے ان کا شاندار استقبال کیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اس وفد کی سربراہی باقر قالیباف کر رہے ہیں اور اس میں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، قومی سلامتی کے اہم عہدیدار علی باقری، مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی، کاظم غریب آبادی اور اسماعیل بقائی جیسے بڑے نام شامل ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ روانہ ہونے سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان مذاکرات کے بارے میں اپنی امیدوں کا اظہار کیا۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ”میں سوئٹزرلینڈ میں ایک یا دو دن قیام کروں گا۔ مجھے پوری امید ہے کہ ایرانی ایٹمی پروگرام اور لبنان کے معاملے پر کوئی اچھی پیشرفت دیکھنے کو ملے گی۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ”لبنان میں جاری لڑائی کی شدت میں کچھ کمی آئی ہے، اور ہم اسرائیل کو لبنان پر مزید حملے کرنے سے روکنے کے لیے اپنا پورا کام کریں گے۔“

دوسری طرف، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس امن عمل اور جنگ بندی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی اور اہم پیغام جاری کیا ہے۔

انہوں نے سمندری تجارتی راستے کے بارے میں بات کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ”جنگ بندی کے عرصے کے دوران ساٹھ دنوں تک آبنائے ہرمز کے راستے پر کوئی ٹیکس یا ٹول نہیں لگایا جائے گا، اور یہ ساٹھ دن کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی وہاں کوئی اضافی ٹول ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا۔“

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ”ایسے ٹیکس اور ٹولز لگانا صرف امریکا کا حق ہے اور یہ صرف امریکا کی طرف سے ہی لاگو کیے جا سکتے ہیں۔“

انہوں نے امریکا کو مشرقِ وسطیٰ کے ملکوں کے لیے ایک محافظ یا نگہبان فرشتہ قرار دیتے ہوئے یہ انتباہ بھی دیا کہ ”اگر یہ امن معاہدہ کامیاب نہ ہوا، تو امریکا مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی پر ہونے والے اپنے اخراجات کے بدلے میں وہاں ٹول ٹیکس عائد کر سکتا ہے۔“

پاکستان اس پورے امن مشن میں ایک مرکزی اور بڑے ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے تہران کا ایک اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے خصوصی ملاقات کی۔

اس ملاقات میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات اور خطے کی مجموعی صورتحال پر گہرائی سے بات چیت کی گئی۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، تہران میں اس اہم بیٹھک سے پہلے پاکستانی وزیرِ داخلہ نے مشہد شہر کا دورہ بھی کیا جہاں انہوں نے حضرت امام علی رضا کے روضہ مبارک پر حاضری دی اور دعا کی، مشہد پہنچنے پر وہاں کے گورنر جنرل نے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔

واضح رہے کہ امن قائم کرنے کی ان کوششوں کے دوران پاکستانی وزیرِ داخلہ اب تک کئی بار ایران جا چکے ہیں، اور اس سے قبل سات جون کو بھی انہوں نے ایران کے وزیرِ خارجہ اور وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی سے تفصیلی ملاقاتیں کی تھیں، جن کی بدولت آج یہ عالمی مذاکرات ممکن ہو پائے ہیں۔