ایران اسرائیل پر وینس اور روبیو کے مختلف بیانات، وائٹ ہاؤس کا ردعمل سامنے آگیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جاری امن عمل پر ہمیشہ ایک متحد مؤقف پیش کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم گزشتہ ایک ہفتے کے دوران نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیانات سے بعض معاملات پر مختلف اندازِ فکر سامنے آیا ہے، خاص طور پر اسرائیل اور لبنان سے متعلق پالیسی پر دونوں رہنماؤں کے لہجے میں فرق محسوس کیا گیا۔
گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران اور امریکا کے ابتدائی معاہدے پر تنقید کرنے والے اسرائیلی حلقوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ بیروت میں شہری تنصیبات پر اسرائیلی بمباری، جس کا مقصد حزب اللہ کو کمزور کرنا بتایا جاتا ہے، امریکا کی قیادت میں جاری امن کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
دوسری جانب وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خلیجی ممالک کے دورے کے دوران لبنان میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کا دفاع کیا۔ انہوں نے بار بار کہا کہ اسرائیل کے اقدامات حزب اللہ کے حملوں کے جواب میں کیے جا رہے ہیں اور انہیں جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ جب ان سے وینس کی تنقید کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے براہ راست جواب دینے کے بجائے لبنان میں قائم حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی چوکی پر حالیہ حملے کا حوالہ دیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں رہنماؤں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ اتحاد کا تاثر دینا چاہتی ہے، لیکن خارجہ پالیسی کے حوالے سے مختلف نظریات کبھی کبھار سامنے آ جاتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ فرق مستقبل میں ریپبلکن پارٹی کی قیادت کی سمت کا بھی اشارہ ہو سکتا ہے کیونکہ جے ڈی وینس اور مارکو روبیو دونوں کو 2028 کے صدارتی انتخابات کے ممکنہ امیدواروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے دونوں رہنماؤں کو امریکا اور ایران کے درمیان 17 جون کو ہونے والے ابتدائی امن معاہدے کا دفاع کرنے کے لیے مختلف غیر ملکی دوروں پر بھیجا گیا۔ جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ میں ایرانی حکام سے مذاکرات کیے اور اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مذاکرات کے بارے میں امید ظاہر کی۔ انہوں نے حالیہ ہفتوں میں کئی بار کہا کہ خلیجی ممالک ایران کی تعمیر نو میں مالی تعاون کر سکتے ہیں۔
وینس نے امریکا اور ایران کے درمیان مستقبل میں زیادہ تعاون پر مبنی تعلقات کی بھی بات کی۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ امریکا نے ایک ایرانی انٹیلی جنس اہلکار کو قطر میں پینٹاگون کے ساتھ رابطہ کار کے طور پر خدمات انجام دینے کی دعوت بھی دی ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں سے بچا جا سکے۔
ادھر مارکو روبیو نے متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کا دورہ کیا تاکہ ان اتحادی ممالک کو یقین دلایا جا سکے کہ امریکا کسی بھی معاہدے میں ان کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔ بعض خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران کے ساتھ عبوری معاہدہ تہران کے لیے ضرورت سے زیادہ نرم ثابت ہو سکتا ہے۔
منگل کو گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ میں اپنے اس دورے کے دوران خلیجی اتحادیوں سے ایران کی تعمیر نو کے لیے فنڈز دینے کی درخواست نہیں کروں گا کیونکہ یہ معاملہ ابھی بہت آگے کی بات ہے۔ بعد ازاں جمعرات کو علاقائی حکام سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ اگرچہ ہم معاہدہ چاہتے ہیں، لیکن ہم کسی بھی قیمت پر معاہدہ نہیں چاہتے۔ ایسا معاہدہ ہونا چاہیے جو امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کا مکمل تحفظ کرے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے نائب صدر اور وزیر خارجہ کے درمیان کسی بھی قسم کے اختلافات کی سختی سے تردید کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ صرف ایک ہی کیمپ ہے، وہ صدر ٹرمپ کا کیمپ ہے، اور پوری انتظامیہ صدر کی اس کوشش کے ساتھ کھڑی ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے بھی اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ پرانا اور جھوٹا بیانیہ ہے۔ پوری انتظامیہ صدر ٹرمپ کے پیچھے سو فیصد متحد ہے۔
محکمہ خارجہ کے ایک اور ترجمان نے بھی واضح کیا کہ لبنان کے معاملے پر بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں اور انتظامیہ کا مقصد لبنان کی حکومت کی پورے ملک پر خودمختاری بحال کرنا ہے۔
اس کے باوجود بعض تجزیہ کار اس وضاحت سے مطمئن نہیں۔ امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ سینئر فیلو مائیکل روبن کا کہنا ہے، روبیو اور وینس بنیادی طور پر مختلف سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان دونوں کے خارجہ پالیسی کے نظریات الگ الگ دھڑوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
جے ڈی وینس ماضی میں بیرون ملک جنگوں کو جان و مال کا ضیاع قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ مارکو روبیو سینیٹ میں ایران، روس اور کیوبا کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے والے رہنما کے طور پر جانے جاتے رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں رہنما ریپبلکن پارٹی کے دو مختلف نظریاتی دھڑوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک گروہ بیرون ملک مداخلت کا حامی ہے، جبکہ دوسرا سمجھتا ہے کہ حالیہ برسوں کی کئی جنگیں امریکا کے لیے مہنگی اور غیر ضروری ثابت ہوئیں۔
رائٹرز اور اِپسوس کے حالیہ سروے کے مطابق صرف 52 فیصد ریپبلکن ووٹرز کا خیال ہے کہ موجودہ تنازع نے امریکآ کی پوزیشن کو مضبوط بنایا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی کے اندر بھی اس معاملے پر واضح تقسیم موجود ہے۔
اس کے باوجود جے ڈی وینس اور مارکو روبیو نے صدر ٹرمپ کے تمام اہم خارجہ پالیسی فیصلوں کی حمایت کی ہے، جن میں ایران کے خلاف کارروائیاں اور بعد ازاں امن مذاکرات کی راہ اختیار کرنا بھی شامل ہے۔ دونوں رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران ایران کے بارے میں فیصلہ اس کے الفاظ پر نہیں بلکہ عملی اقدامات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
جمعرات کو جب مارکو روبیو سے پوچھا گیا کہ ایران کے معاملے پر ان کے خیالات جے ڈی وینس سے کس حد تک مختلف ہیں تو انہوں نے جواب دیا، ”یہاں ہر شخص صدر ٹرمپ کی قیادت میں ایک ہی مؤقف پر قائم ہے۔“











